دیوبند

گنے کے بقائے کی ادائیگی کو لے کر کسانوں نے تحصیل دار کو دیا میمورنڈم

دیوبند، 10؍ جنوری (رضوان سلمانی) بھارتیہ کسان یونین کے کارکنوں نے 14 روز میں شوگر ملوں کے ذریعہ کاشتکاروں کو گنیّ کے بقایہ کی ادائیگی سمیت متعدد مطالبات کرتے ہوئے تحصیل احاطہ میں جمعہ کے روز احتجاجی دھرنا دیا۔ کاشتکاروں نے فوری طور پر مسائل کے حل کے لئے تحصیلدار کو ایک میمورنڈم بھی سونپا۔تحصیل احاطے میں منعقدہ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے بھارتیہ کسان یونین کے تحصیل صدر ایشورچند آریہ نے کہا کہ گنیّ کی پاتیّ کو جلانے کے نام پر انتظامیہ کسانوں کو غیرضروری طور پر ہراساں کررہی ہے اور ان کے خلاف مقدمات درج کررہی ہے ، جسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شوگر ملوں کے ذریعہ کورٹ کی ہدایت کے باوجود 14 دن کے اندر گنیّ کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے،اتناہی نہیں شوگر فیکٹروں پر کسانوں کا پرانہ بھی بقایہ چلاآرہاہے۔ اس دوران کسانوں نے تحصیلدار آشوتوش کمار کو ایک میمورنڈم سونپا۔ چار نکاتی میمورنڈم میں کسانوں کو گنے ّکی پاتی کو کاٹنے کے لئے مفت آلات کی فراہمی ، حکومت کی طرف سے گنے کی پاتی کو اٹھانے کے انتظامات ،گاگنولی مل پر بقایہ کی ادائیگی، کھٹولی سے ناگل ریلوے اسٹیشن تک ریلوے لائن کا راستہ بنانے اور کھیتوں میں گھوم کر فصلوں کو تباہ کرنے والے جانوروں کوپکڑنے کا مطالبہ کیا گیا۔ تحصیلدار نے یقین دہانی کرائی کہ 15؍ دن کے اندر اندر بے سہارا گائے پکڑ کر گاؤ شالہ بھیجی جائینگی۔ اس کے علاوہ انہوں نے جلد ہی دیگر مسائل حل کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر شہر صدر کیہر سنگھ ، بلاک صدر ونے کمار ، راجپال سنگھ ، منی کانت بھاردواج ، بھوپندر سنگھ ، نواب تیاگی وغیرہ موجود تھے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close