دیوبند

قربانی کا کوئی بدل نہیں ہے ، قربانی کھلے میں نہ کی جائے ، قربانی کے باقیات کو گڑھوں میں دفن کیا جائے : مولانا سید انظر حسین میاں

دیوبند، 30؍ جولائی (رضوان سلمانی) عیدالاضحی کے موقع پر علماء کی طرف سے مسلمانوں کو ہدایات کا سلسلہ جاری ہے ، اس تناظر میں دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے رکن مولانا سید انظر حسین میاں نے کہا کہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا ہو چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو، مثلا زیورات ہوں سکے ہوں یا بسکٹ کی شکل میں ہوں اس شخص پر قربانی واجب ہے ، اسی طریقہ سے اگر کسی شخص کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی ہو چاہے کسی بھی شکل میں ہو -اس پر قربانی واجب ہے ، اسی طریقہ سے اگر کسی کے پاس پیسہ ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہویا زائد ہو تو اس پر بھی قربانی واجب ہے ، اسی طریقے سے اگر کسی شخص کے پاس سامان تجارت ہوجو ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یازائد ہوتو اس پر قربانی واجب ہے ، اسی طریقے سے اگر کسی شخص کے پاس ضرورت سے زائد سامان ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا زائد ہو تو اس پر بھی قربانی واجب ہے ۔

مولاناسید انظر حسین میاں نے کہا کہ قربانی کا عمل اگرچہ ہر امت کے لیے رہا ؛لیکن حضرت ابراہیم وحضرت اسماعیل علیہما السلام کی عظیم قربانی کی وجہ سے قربانی کو سنت ابراہیمی کہا جاتا ہے ، اور اسی وقت سے اس کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ، حضرت ابراہیم وحضرت اسماعیل علیہما السلام کی یاد میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں قربانی کی جاتی ہے جو قیامت تک جاری رہے گی ۔ مولانا سید انظر حسین میاں نے کہا کہ قربانی کے جانوروں میں بھیڑ، اور بکرا بکری ایک سال ، بھینس دو سال اور اونٹ پانچ سال کا ہونا ضروری ہے ، البتہ وہ بھیڑ اور دنبہ جو دیکھنے میں ایک سال کا لگتا ہو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔

مولانا سیدانظر حسین میاں نے کہا کہ اگر قربانی کا جانور بکرا بکری ، بھیڑ یا دنبہ ہو تو اس میں صرف ایک آدمی حصہ لے سکتا ہے، اور اگر قربانی کا جانور اونٹ یا بھینس ہو تو اس میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں ۔قربانی کے ایام تین ہیں ، 10/11/12؍ ذی الحجہ ، تینوں دنوں میں کسی بھی دن قربانی کی جاسکتی ہے ؛لیکن پہلے دن قربانی کرنا افضل ہے ، 12؍ ذی الحجہ کے بعد قربانی کی نیت سے جانور ذبح کرنا جائز نہیں ہے ۔مولاناسید انظر حسین میاں نے تکبیر تشریق کے بارے میں کہا کہ:9؍ ذی الحجہ کی نماز فجر سے 13؍ذی الحجہ کی نماز عصر تک ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ تکبیر تشریق ہر مسلمان پر واجب ہے ، چاہے وہ مسلمان مرد ہو یا یا عورت، مسافر ہویا مقیم، شہری ہو یا دیہاتی ہو ، آزاد ہو یاغلام ہو ، جماعت سے نماز پڑھے یا منفرد ،یہ تکبیر مرد بلند آواز سے اور عورت آہستہ آواز سے پڑھیں،بہت سے لوگ اس میں غفلت برتتے ہیں، یاتو پڑھتے ہی نہیں یا مرد ہوکر آہستہ پڑھتے ہیں۔

قربانی کی باقیات کے سلسلے میں مولانا نے کہا کہ : مسلمان قربانی کی باقیات کو کہیں نہ پھینکیں ؛بلکہ ان کو گڑھوں میں دفن کریں ، مولانا نے مسلمانوں سے یہ اپیل کی کہ: قربانی کھلے میں نہ کی جائے اور قربانی کے وقت جسمانی فاصلہ برقرار رکھا جائے، اور قربانی کے بارے میں حکومت کی طرف سے جو ہدایات دی گئیں ہیں ان پر عمل کرنے کی مکمل کوشش کی جائے ، اس کے ساتھ ساتھ مولانا نے یہ بھی واضح کیا کہ قربانی کا کوئی بدل نہیں، اور شریعت میں جن عبادتوں کی شکل متعین ہے ان عبادتوں کو انہیں شکل کے ساتھ ادا کرنا ہے ، مثلا :نماز، روزہ ، حج ان کی ایک شکل متعین ہے اس لیے ان کو اسی شکل پر ادا کیا جاتا ہے ، اسی طریقے سے قربانی کی بھی شکل متعین ہے اسلیے اس کو اسی شکل پر ادا کیا جائے گا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close