دیوبند

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ہوئے حملے کی مذمت کا سلسلہ جاری

موجودہ حکومت میں تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں : اطہر عثمانی ! ملک میں بربریت ظلم وزیادتی کا ننگا ناچ بند ہونا چاہئے: قاری رائو ساجد

دیوبند، 7؍ جنوری (رضوان سلما نی) گزشتہ روز دہلی کے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں نقاب پوش شرپسند عناصر کی جانب سے طلبہ پر ہوئے جان لیوا حملے کی چوطرفہ مذمت کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے بھی ہورہے ہیں ۔ اسی تناظر میں مجلس اتحاد ملت کے قومی جنرل سکریٹری حافظ اطہر عثمانی نے کہا ہے کہ ملک کے حالات روز بروز بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں ۔ موجودہ بی جے پی حکومت ملک کو برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔ نوجوانوں میں نفرت کا بیج بڑی تیزی سے پھیلایا جارہا ہے ۔اس حکومت میں تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں ہے۔ اقتدار کے نشے میں موجودہ حکومت تعلیم یافتہ نوجوانوں کا استعمال کرکے ملک کے اندر نفرت پھیلارہی ہے جو صحیح نہیں کہا جاسکتا ۔ اطہر عثمانی نے جے این یو پر حملے کے لئے مودی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا اور کہاکہ مودی حکومت کے اشارے پر طلبہ کے اوپر حملہ کیا گیا۔ آج ملک کے اندر موجودہ حکومت طلبہ اور نوجوانوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ، ان کا مذاق بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی سرپرستی میں نوجوانوں اور طلبہ کی آواز کو دباکر شرپسند عناصر کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے ۔ اطہر عثمانی نے کہا کہ اس طرح کے واقعات نے ایمرجنسی کی یاد دلادی ہے ۔ دہلی میں جو کچھ ہوا اور ہورہا ہے وہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ اگر جلد سے جلد ان حالات پر قابو نہیں پایا گیا تو اس کے اثرات آگے چل کر بڑے مضر ثابت ہوںگے۔ انہو ںنے کہا کہ ملک کے حالات کا نوٹس صدر جمہوریہ ہند اور سپریم کورٹ کو لینا چاہئے اور سخت اسٹریکچر پاس کرنا چاہئے تاکہ ملک کی سالمیت کو نقصان نہ پہنچے ۔ سماجی کارکن قاری رائو ساجد نے جے این یو میں ہوئے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارے اور یونیورسٹیاں ہمارے ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ طلبہ وطالبات ہمارا مستقبل ہیں ، اس لئے یہ ظلم وبربریت اگر طلبہ وطالبات نیز تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیو ںپر ہورہے ہوں تو یہ اور بھی خطرناک بات ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ اس تشدد میں جو افراد ملوث ہیں ان کے چہروں سے نقاب ہٹنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ان کی حقیقت سے پوراملک واقف ہو اور وہ جان لیں کہ کون ملک کے امن وامان کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔ انہو ںنے مطالبہ کیا کہ سیاست سے اوپر اٹھ کر ان نقاب پوشوں کو بے نقاب کیا جائے جو جے این یو تشدد کے ذمہ دار ہیں اور انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال کر ممکنہ سخت سے سخت سزا دی جائے ۔ قاری رائو ساجد نے کہا کہ بربریت ظلم وزیادتی کا ننگا ناچ بند ہونا چاہئے ، جو کچھ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف چل رہی تحریک کو ختم کرنے اور دبانے کے لئے کوششیں ہورہی ہیں وہ ایک جمہوری ملک کے لئے اچھا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اب لوگوں کو سپریم کورٹ پر ہی یقین ہے کہ وہ از خود حالات کا جائزہ لے کر احکامات جاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے لوگوں کو ڈراکر رکھنے سے ملک کا بھلا ہونے والا نہیں ہے۔ فی الوقت ملک میں ہندو اور مسلمانوں میں دوریاں اور نفرت بڑھانے کا کام کیا جارہا ہے جو ایک جمہوری ملک کے لئے اچھا نہیں ہے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
Close