دیوبند

دارالعلوم دیوبند کے سینئر کارکن مولانا شرف الدین اور دارالعلوم ہی کے ایک سابق طالب علم مولوی محمد ممتاز کا انتقال

دیوبند، 7؍ دسمبر (رضوان سلمانی) دارالعلوم دیوبند کے سینئر کارکن اور سابق سفیر (ممبئی) مولانا شرف الدین مظاہری کا تقریباً 83سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کی خبر جیسے ہی دارالعلوم میں پہنچی تو متعلقین میں غم کی لہر دوڑگئی ۔ مولانا کا آبائی وطن رام پور منہیاران تھا، لیکن مولانا تقریباً 25-30سال سے سہارنپور رہائش اختیار کرلی تھی ، مرحوم نے مظاہر علوم سے فراغت حاصل کرنے کے بعد وہیں پرملازمت اختیار کی اور حضرت شاہ اسعداللہ سے خاص قرب حاصل رہا اور موصوف حضرت کے خاص خادم وپیشکار رہے۔ مرحوم مولانا شرف الدین مظاہری 1970کے قریب دارالعلوم دیوبند سے بحیثیت سفیر حلقہ (ممبئی) منسلک ہوگئے او ر45سال انتہائی محنت اور تندہی کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ انتقال سے ایک ہفتہ قبل نماز ظہر کی تیاری کرتے ہوئے گھر ہی میں گرجانے کے باعث کولہے کی ہڈی میں فریکچر ہوگیا اور تیزی کے ساتھ طبیعت بگڑتی چلی گئی، گزشتہ رات بعد نماز مغرب کلمہ پڑھتے ہوئے دارفانی سے دارالبقا کی طرف منتقل ہوگئے۔ مرحوم کی نماز جنازہ مفتی مقصو د نے پڑھائی ، پسماندگان میں ایک بیٹا اور چار بیٹیاں موجود ہیں ۔ ایک بڑی بیٹی کا انتقال مولانا کے سامنے ہی ہوگیا تھا ۔ مولانا شرف الدین مظاہری کے انتقال پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک نیک دل انسان تھے ، انہوں نے تقریباً نصف صدی تک دارالعلوم دیوبند میں رہ کر ادارے کی خدمت کی ۔ وہ بڑے نیک اور محنت کش انسان تھے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ دوسری جانب دیوبند کے قریبی گائوں کٹیسرہ کے رہنے والے مولوی محمد ممتاز کا مختصر علالت کے بعد گزشتہ رات انتقال ہوگیا، مرحوم نے ایک لمبا عرصہ دیوبند میں گزارا ،کافی وقت دارالعلوم دیوبند میں بحیثیت طالب علم رہے اور کافی حصہ دیوبند میں گزارا ۔مرحوم کے قریبی مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے بتایا کہ وہ ایک خوش مزاج، اور خوش گفتار انسان تھے ، حوصلہ مند اور محنت کش انہوں نے دارالعلوم کی کئی بڑی شخصیت کو دیکھا تھا اور ان کی زندگی سے متأثر تھے ، زمانہ طالب علمی میں نیک نام رہے ، دیوبند سے سعودی عرب گئے اور وہاں پر بھی 25سال گزارے۔ چند ماہ پہلے طبیعت خراب ہوئی اور وطن لوٹ آئے مگر مسلسل علاج کے باوجود افاقہ نہ ہوسکا اور یوں ان کی زندگی کا سفر مکمل ہوگیا ۔ آج ان کی نماز جنازہ کٹیسرہ میں دارالعلوم وقف کے استاذ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے پڑھائی اور آبائی قبرستا ن میں تدفین عمل میںآئی۔ نماز جنازہ میں مولانا ایوب، مولانا احسان محسن، مولانا عبدالقیوم سمیت علاقے کے سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close