دیوبند

دیوبند علاقے میں بدفعلی کرنے کے بعد مدرسہ طالبعلم کا گلا ریت کر قتل

کھیت میں ملی لاش، موقع پر پہنچے اعلیٰ افسران، ایک کو حراست میں لیا

دیوبند، 31؍ جنوری (رضوان سلمانی)  دیوبند کے متصل گاؤں سانپلہ بقال میں پیر کی شام مشتبہ حالات میں لاپتہ ہوئے مدرسہ کے طالبعلم کی لاش منگل کی صبح گاؤں کے پاس ہی ایک سرسوں کے کھیت میں ملنے سے سنسنی پھیل گئی،تاہم چند گھنٹوں بعد ہی پولیس نے متوفی کے ایک ساتھی طالبعلم کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی۔اہل خانہ کا الزام ہے کہ بچہ کے ساتھ بدفعلی کرنے کے بعد اس کا گلا ریت کر قتل کیاگیاہے۔واقعہ کے بعد پورے گاؤں کا ماحول غمگین ہوگیا اور اہل خانہ میں ماتم پسرا ہواہے۔

تفصیل کے مطابق دیوبند کوتوالی علاقہ کے گاؤں سانپلہ بقال کے باشندہ مفتی نفیس احمد کا 13؍ سالہ بیٹا ذکوان پیر کی شام مدرسہ کی چھٹی ہونے کے بعد گھر نہیں پہنچا اور مشتبہ حالات میں غائب ہوگیا، اہل خانہ نے بچہ کو ادھر اُدھر تلاش کیا لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں ملا، مدرسہ میں معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ چھٹی کے بعد طالبعلم گھر جانے کے لئے روانہ ہوگیا تھا،لیکن دیر رات تک بھی بچہ گھر نہیں پہنچا۔ منگل کی صبح گاؤں کے پاس ہی ایک سرسوں کے کھیت سے ذکوان کی گردن ریتی ہوئی لاش ملنے سے سنسنی پھیل گئی، اطلاع ملنے پر ایس ایس پی سمیت اعلیٰ افسران پولیس فورس کے ساتھ کے موقع پر پہنچے اور لاش کو قبضہ میں لیکر معلومات حاصل کی،جس کے بعد پولیس نے پنچ نامہ کرکے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا،ایسا بتایا گیاہے کہ طالبعلم کو پہلے بدفعلی کا شکار بنایا گیا اور اس کے بعد گلا ریت کر اس کا قتل کیاگیاہے۔

واقعہ کے بعد پورے علاقہ میں سنسنی پھیل گئی اور گاؤں کا ماحول غمگین ہوگیا،وہیں بچہ کی موت سے اہل خانہ میں ماتم پسرگیا۔ اس دوران ایس ایس پی ڈاکٹر وپن تاڈا اور ایس پی دیہات سورج رائے نے ڈاگ اسکواڈ اور فرانزک ٹیم کے ساتھ گاؤں پہنچ کر تحقیقات کو تیز کیا اور مدرسہ و گاؤں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو اسکین کیا تو متوفی لڑکا مدرسے کے ہی کچھ لڑکوں کے ساتھ جاتا ہوا نظر آیا۔ جب پولیس نے ان سے پوچھ گچھ کی تو اچانک کیس کی پرتیں کھلنے لگیں۔ جس کے بعد پولیس نے ایک 15 سالہ ساتھی طالب علم کو حراست میں لے لیا ۔ ایس ایس پی ڈاکٹر وپن تاڈا نے بتایا کہ بچے کی لاش کا گلا کٹا ہوا تھا۔ ان کے مطابق ایک ملزم اور دیگر سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سمیت دیگر شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جلد ہی شواہد کی بنیاد پر کیس کا انکشاف کیا جائے گا۔دیر شام پوسٹ مارٹم کے بعد انتہائی غمگین ماحول میں بچہ کو گاؤں کے قبرستان میں سپرد خاک کردیاگیا۔ ادھر پوسٹ مارٹم ہاؤس پہنچ کر رکن پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن کے بیٹے محمد ارسلان نے غم زدہ خاندان سے افسوس کا اظہارکیا اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ کی۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button