دیوبند

دیوبند، بہوجن کرانتی مورچہ سمیت چار تنظیموں نے صدر جمہوریہ کو ارسال کیا میمورنڈم

تحریک چلانے کا دیا انتباہ ، ڈاکٹر کفیل سمیت این آرسی کی مخالفت کرنے والوں کو رہا کرنے کا کیا مطالبہ

دیوبند، 29؍ جولائی (رضوان سلمانی) بہوجن کرانتی مورچہ کے عہدیداران وکارکنان نے صدر جمہوریہ ہند کو میمورنڈم ارسال کرکے ڈاکٹر کفیل خان سمیت ، این پی آر، سی اے اے اور این آرسی کی مخالفت کرنے والے سبھی افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آج بہوجن کرانتی مورچہ کے ضلع کنوینر پروین سنگھ کی قیادت میں بدھسٹ انٹرنیشنل نیٹ ورک بھارت مکتی مورچہ اور راشٹریہ مسلم مورچہ سے منسلک عہدیداران اورکارکنان ایس ڈی ایم دیوبند کے دفتر پہنچے جہاں ا نہوں نے صدر جمہوریہ ہند کو مخاطب ایک میمورنڈم ایس ڈی ایم دیوبند راکیش کمار سنگھ کو سونپا۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ اترپردیش حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے گورکھپور میڈیکل کالج میں 70بچوں کی موت ہوئی تھی جہاں ڈاکٹر کفیل خان نے 300سے زائد بچوں کی جان بچائی تھی ، جب کہ بہار جاکر چمکی بخار سے متأثر بچوں کا علاج کیا ، اب جب کہ پوری ریاست کرونا مہاماری سے جونجھ رہی ہے اورایسے وقت میں ڈاکٹر کفیل خان جیسے جانباز ڈاکٹروں کی ضرورت ہے تو انہیں جیل میں کیوں رکھا گیا۔ انہیں فوراً رہا کیا جائے، ساتھ ہی میمورنڈم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنے حقوق کے لئے سی اے اے اور این آرسی کی مخالفت کرنے والوں کو لاک ڈائون کا سہارا لے کر جھوٹے کیس بناکر گرفتارکیا گیا جو موجودہ وقت میں ہی یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہاں تک کہ جے این یو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات پر بھی جھوٹے مقدمات درج کئے گئے ہیں اور ان کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں جو سراسر غلط ہے۔

میمورنڈم میں الزام عائد کیا گیا کہ اترپردیش حکومت مذہبی تعصب کی بنیاد پر کام کررہی ہے ، اتنا ہی نہیں کہ حکومت کی ایسی پالیسیوں کی ہر سطح پر مخالفت کی جائے گی ۔ میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ حکومت کا اگر یہی رویہ رہا تو سبھی سیاسی وسماجی تنظیمیں مل کر پورے ملک کی 31ریاستوں میں ایک ساتھ تحریک چلانے پر مجبور ہوںگی۔ میمورنڈم دینے والوں میں اجے کمار بودھ، کلدیپ لہری، پرویندر سنگھ، عبدالمجید وغیرہ شامل رہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close