دیوبند

دین کی اشاعت میں مدارس کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا

مدرسہ فتح العلوم کی جدید عمارت کے سنگ بنیاد کے موقع پر دعائیہ تقریب میں علماء کاخطاب

دیوبند،19؍ جولائی(رضوان سلمانی) دین کی اشاعت میں مدارس کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، رامپور منیہاران کے موضع ڈھاکہ دیوی میں مدرسہ فتح العلوم کی جدید عمارت کے سنگ بنیاد کے موقع پر دعائیہ تقریب کو خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء یوپی کے سیکرٹری مولانا مشرف رشیدی نے کہا کہ دین کے تحفظ اور دین کی ترویج واشاعت میں مدارس کے کردار اہمیت وافادیت کو کوئی بھی فراموش نہیں کرسکتا ،مدارس اسلامیہ دین کے مضبوط قلعے ہیں ،

یہاں اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھایا جاتا ہے اور کلام الٰہی کے احکامات اور اسکے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے کی عملی مشق سے قوم کے نو نہالوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ہمیں ان مدارس کو مضبوط اور محفوظ بنانے میں اپنے حصے کی کوشش ضرور کرنی چاہئے۔

تقریب کو خطاب کرتے ہوئے جامعہ دعوت الحق معینیہ چررہو کے ناظم مولانا شمشیر قاسمی نے کہا کہ کسی بھی قوم کا تشخص اسکی تعلیمی اور تہذیبی اقدار سے ہوتا ہے تعلیم سے ہی کسی مہذب اور مخلص معاشرہ کی تشکیل ممکن ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نسل نو کو زیور تعلیم سے آ راستہ کریں انہوں نے کہا کہ مدارس کے قیام کا مقصد کلام اللہ کے پیغام کو انسانوں تک پہنچانا ہے تاکہ متحدہ طور پر اس کی تعلیمات پر عمل کیا جا سکے اور اسکے نتیجے میں دنیا و آخرت میں فلاح و کامرانی نصیب ہوسکے الحمداللہ مدارس نا مساعد حالات میں بھی اپنے اس مقصد اور منزل کی طرف گامزن ہیں۔

قاری شوقین الحسنی نے کہا کہ کچھ مدارس نے جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دنیوی تعلیم کے ساتھ دست کاری و دیگر فنون کو نصاب کا حصہ بنایا ہے جس کے عنقریب بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ بعد ازاں حضرات علماء کے ہاتھوں مدرسہ فتح العلوم کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ مولانا مشرف رشیدی کی دعا پر مجلس کا اختتام ہو۔ا اس موقع پر ریاض پردھان، قاری شاہ زیب، مشرف چودھری،آ س محمد پردھان، ساجد ،حافظ احسان وغیرہ موجود رہے۔ مدرسہ کے مہتمم قاری شوقین الحسنی نے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button