بنگلور

دین سے دوری اورعقائد سے ناواقفیت فتنہ ارتداد کی بنیادی وجہ ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے اصلاح معاشرہ کانفرنس سے مفتی افتخار احمد قاسمی اور مفتی اسعد قاسم سنبھلی کا خطاب!

بنگلور، 30/ ستمبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن سہ روزہ اصلاح معاشرہ کانفرنس بعنوان ”مسلم لڑکیاں ارتداد کے دہانوں پر: اسباب اور حل“ کی تیسری اور آخری نشست سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے لیکن ان تمام نعمتوں میں قرآن و حدیث کی روشنی میں سب سے بڑی نعمت ایمان کی نعمت ہے۔ اگر ایمان کی نعمت نہ ہو تو دنیا میں گرچہ ظاہری فائدہ ہو بھی جائے تو موت کے بعد کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور ہمیشہ ہمیش کیلئے جہنم کو اپنا ٹھکانہ بنانا ہوگا۔ لیکن اسکی دوسری جانب اگر ایمان کی نعمت ہو تو اگر کچھ گناہوں کی وجہ سے جہنم میں چلا بھی جائے تو ایمان کی دولت کی وجہ سے ایک نہ ایک دن وہ جنت کا حقدار ہوگا۔ مولانا نے فرمایا کہ یہی وجہ ہیکہ اصحاب رسول نے بڑی سی بڑی قربانیاں دیں لیکن اپنے ایمان کا کبھی سودا نہیں کیا۔ کیونکہ ایمان جان سے بھی زیادہ قیمتی چیز ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ ایمان پر موت کامیابی کی علامت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ دور حاضر میں ہمارے معاشرے میں ایمان کی قدر و قیمت کم ہوتی جارہی ہے۔ والدین اور سرپرستان کی بے دین دیکھ کر نئی نسلوں میں بے دین پیدا ہورہی ہے اور وہ دین سے ایسے غافل ہورہے ہیں کہ ارتداد کا راستہ اپنا رہے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ ضرورت ہیکہ ایمان کی قدر و قیمت کو ہمیں معاشرہ کے ہر ایک فرد کو گھول کر پلا دینا چاہیے۔حالات کتنے بھی ناساز کیوں نہ ہو لیکن دور نبوی کے حالات سے زیادہ خراب نہیں ہیں، ان حالات کا کیسے مقابلہ کرنا ہے اسکی ہمیں دین و شریعت نے مکمل رہنمائی کی ہے۔ مولانا نے فرمایا دین سے دوری اور غفلت فتنہ ارتداد کی بنیادی وجہ ہے۔ اور ہمارے گھروں کا اگر معائنہ کریں تو معلوم ہوتا ہیکہ ہماری نسلوں کو ایمان سے دور کرنے والی چیزیں مثلاً ٹی وی، انٹرنیٹ وغیرہ ہمارے اطراف زیادہ ہیں اور ایمان کی حفاظت کرنے والی چیزیں کم ہیں لہٰذا ہمیں اپنے بچوں کی دینی تعلیم کو مضبوط کرنے اور گھر کے ماحول کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ مولانا قاسمی نے دوٹوک فرمایا کہ ہمیں چاہیے کہ اپنی نسلوں کی ایسی تربیت کریں کہ انکے اندر ایمان پر مر مٹنا کا جذبہ پیدا ہوجائے تاکہ وہ کسی بھی حالت میں ایمان کا سودا نہ کریں۔ مولانا نے فرمایا کہ مخلوط تعلیمی نظام ارتداد کے اسباب کی سب سے اہم کڑی ہے۔ لہٰذا ہمیں اس سے خاص احتیاط کرنی کی فکر کرنی چاہیے۔ مفتی افتخار احمد قاسمی نے فرمایا کہ لوگوں کی ایمان کی فکر کرنا پہلے والدین اور پھر علماء کرام اور ملی تنظیموں کی ذمہ داری ہے لہٰذا اگر وہ اپنی اپنی مکمل ذمہ داری نبھائیں تو ان شاء اللہ ہر ایک کا ایمان محفوظ رہے گا۔ قابل مبارک باد ہیں مرکز تحفظ اسلام ہند کے اراکین کہ انہوں نے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے یہ کانفرنس منعقد کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ شاہ ولی اللہؒ، مرادآباد کے مہتمم حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب نے فرمایا کہ ارتداد دنیا کی ایسی عظیم اور خطرناک قسم کی آفت ہے کہ دنیا میں اس سے بڑا حادثہ کوئی نہیں ہوسکتا۔ اگر آسمان پھٹ جائے، زمین دھس جائے تو بھی وہ حادثہ کم ہے لیکن ارتداد اس سے بڑا حادثہ ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ رسول اللہؐ کی وفات کے بعد بعض قبائل اسلام سے پھر کر مرتد ہوگئے تھے، خلیفہ اول سید نا ابوبکر صدیق ؓ کو جب اس کی اطلاع ملی تو آپ ؓ نے ان کے خلاف جہاد کیا اور ارتداد کے ذریعہ دشمنان اسلام کے جو کچھ منصوبے تھے ان سب پر پانی پھر دیا، اور وہ اپنی موت آپ مرگئے اور اسلام کے خلاف ساری سازشیں ناکام ہوگئیں۔مولانا سنبھلی نے فرمایا کہ ارتداد کی سب سے پہلی وجہ یہ ہیکہ ظالم حکمران کا ہم پر مسلط ہونا اور اپنی طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو مرتد کرنے کی کوشش کرنا۔اسکی دوسری وجہ مخلوط تعلیمی نظام ہے اور دور حاضر میں نئی تعلیمی پالیسی جو نافذ ہوئی ہے دشمنان اسلام نے ایسی سازش رچی ہیکہ اس نئی تعلیمی پالیسی کے چلتے بچے اپنی پڑھائی مکمل کرنے تک خود بہ خود مرتد ہوجائیں گے۔ مولانا نے فرمایا کہ ارتداد کی تیسری وجہ حد سے زیادہ اتحاد بھی ہے، اس ملک میں بین المذاہب اتحاد کی یقیناً ضرورت ہے لیکن وہ بھی شریعت کے حدود میں ہو ورنہ ایک بڑی تعداد اتحاد کے چلتے غیروں کے کفر و شرک کی تقارب میں بھی حصہ لینے لگتی ہے اور بعد میں مرتد ہوجاتی ہے۔چوتھی وجہ یہ مسلمانوں کی معاشی تنگی ہے۔ کیونکہ اغیار مسلمانوں کی غربت وجہالت سے فائدہ اٹھا کر ان کی مدد کو پہونچتے ہیں اور پھر اس مدد کے نام پر ان کے دین وایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ مولانا سنبھلی نے فرمایا کہ ہمیں ان تمام اسباب پر غور کرنا چاہیے اور اس اعتبار سے اسکا حل تلاش کرنا چاہیے۔ مولانا نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے اپیل کرتے ہوئے فرمایا کہ بورڈ ارتداد کے سلسلے میں ایک الگ شعبہ ملکی سطح پر بنائے اور ہر صوبوں، اضلاع اور گاؤں میں اسکی ذیلی کمیٹیاں ہو جو اپنے علاقوں کا معائنہ کرے اور کوئی واقعہ درپیش ہوتو وہاں فوری طور پر پہنچ کر مناسب اقدامات کرے۔ اسی کے ساتھ مکاتب کے نظام کو مضبوط کیا جائے اور ہر گاؤں گاؤں میں عقائد کی تعلیم بالخصوص عقیدہ توحید و رسالت پر زور دیا جائے اور مسلمانوں اور ان کے بچوں کے دلوں میں کفر و شرک کی نفرت بٹھا دی جائے۔مفتی اسعد صاحب نے فرمایا کہ چونکہ مرد حضرات کو علماء کرام کے مواعظ حسنہ سے استفادہ کا زیادہ موقع ملتا ہے لیکن مستورات کو کم ملتا ہے، جس وجہ سے ارتداد کا فتنہ عورتوں میں زیادہ پایا جارہا ہے لہٰذا ہمیں خواتین کے ہفتہ واری اور ماہانہ اجتماع منعقد کرنے کا نظام بنانا چاہئے اور مساجد والوں کو چاہیے کہ وہ جمعہ بیان کو مسجد تک محدود نہ کریں بلکہ اپنے محلہ کے ہر ایک گھر میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پہنچانے کی کوشش کریں۔ مولانا نے فرمایا کہ باطل ایک سیلاب کی طرح آتا ہے لہٰذا ہم اگر تھوڑی سی کوشش کریں تو اللہ کی مدد و نصرت شامل حال ہوگی اور یہ باطل پر حق غالب آئے گا۔

قابل ذکر ہیکہ یہ اصلاح معاشرہ کانفرنس مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمدفرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مفتی محمدمصعب قاسمی کی نعتیہ کلام سے ہوا، جبکہ مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی بطور خاص شریک تھے۔ کانفرنس سے خطاب کرنے والے دنوں اکابر علماء کرام نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور اس کانفرنس کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام مقررین و سامعین اور مہمانان خصوصی کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب کی دعا سے یہ سہ روزہ اصلاح معاشرہ کانفرنس اختتام پذیر ہوا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close