دیوبند

دینی مدارس کے طالب علموں کے دستاویزات کی جانچ شروع

فرضی دستاویزات پائے جانے پر سخت قانونی کارروائی کی جائیگی۔ایس پی دیہات

دیوبند، 29؍ جون (رضوان سلمانی) دیوبند کے دینی مدارس میںتعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آنے والے طالب علموں اور دیگر اداروں میں داخلہ لیکر یا کاروبار کی غرض سے دیوبندمیں قیام کرنے والوں کی دستاویزات کی پولیس وانتظامیہ نیز خفیہ ایجنسیوں نے جانچ کرنے کی کارروائی شروع کردی ہے ۔اس جانچ کے دوران تمام دستاویزات کی تحقیق وتصدیق کی جائے گی۔واضح ہوکہ عرصہ قبل دارالعلوم دیوبند اور دیگر تعلیمی اداروں کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ داخلہ لینے والے طالب علموں کی تمام دستاویزات جانچ اور تصدیق کے لئے خفیہ محکمہ کے پاس بھیجی جائیں گی۔

ایس-پی-دیہات سورج رائے کا کہنا ہے کہ دیوبند میں حال کے عرصہ میں غیر ملکی قوانین،انسانی اسمگلنگ اور فرضی دستاویزات کے معاملے سامنے آئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے معاملات پائے جانے کے خلاف نیشنل جانچ ایجنسی (N.I.A.)اور اترپردیش اے ٹی ایس کارروائی کررہی ہے۔ایس پی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے معاملات سامنے آنے کے بعد اب پولیس نے دیوبند کے تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے کے لئے باہر سے آنے والے طالب علموں اور دیوبند میں کاروبار کی غرض سے قیام کرنے والے افراد کے دستاویزات کی از سر نو جانچ شروع کردی ہے۔انہوں نے بتایا کہ جانچ کرنے کے لئے پولیس اور خفیہ محکمہ کو ہدایات دیدی گئی ہیں

یاد رہے کہ قبل میں دارالعلوم دیوبند اور دیگر مدارس ودینی اداروں نے یہ وضاحتی اعلان جاری کیا تھا کہ نئے داخلوں کے وقت طلبہ کی جانب سے جمع کی جانے والی تمام دستاویزات کو جانچ اور تصدیق کیلئے خفیہ ایجنسی اور پولیس کے پاس بھیجا جائے گا۔جانچ کے دوران اگر فرضی دستاویزات کی بنیاد پر داخلہ لئے جانے کا معاملہ سامنے آتا ہے تو اس سلسلہ میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button