دہلی

ہندوسینانے دہلی میں اکبرپرمتنازعہ پوسٹر لگائے ، دھیان بھٹکاؤ مہم شروع

نئی دہلی10مئی(ہندوستان اردو ٹائمز) جب سے کورونامیں ناکامی سامنے آئی ہے،مختلف بہانوں سے فرقہ پرستی تیزکردی گئی ہے تاکہ لوگوں کاذہن بھٹک جائے۔مساجدکی شہادت ہو،ماب لنچنگ ہویافرقہ وارانہ بیان،ان سب کے ذریعہ ملک کے غصے کارخ پھیراجارہاہے۔ا ب دارالحکومت دہلی میں ہندو سینا نے اکبر روڈ پر مختلف مقامات پر اکبراعظم کے بارے میں متنازعہ پوسٹر اور ہورڈنگ لگائے ہیں۔ پوسٹر میں لکھا گیا ہے کہ اکبر ، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت اچھا ہے ، دراصل ایک زانی اور دہشت گرد ہے۔ اپنے دور حکومت میں اکبر نے ہزاروں ہندو لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری کی تھی اور ہندوؤں کا قتل عام بھی کیا تھا۔

ہندو سینا نے یہ پوسٹر لگائے ہیں۔ہندو سیناکے کارکنوں نے دہلی پولیس کی رکاوٹوں پر پوسٹر چسپاں کر کے اکبر روڈ کا نام ریپسٹ اکبر مارگ اور دہشت گرد اکبر مارگ رکھا ہے۔ پوسٹر پر ہندو سینا اور سرجیت یادو کے نام چھاپے گئے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک کورونا جیسی وبا سے لڑ رہا ہے تو پھر ایسے وقت میں ایسے متنازعہ پوسٹر لگانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا یہ صرف پبلسٹی اسٹنٹ کے لیے ہے یا کوئی اور وجہ ہے؟ جس میں اکبر کو ریپسٹ اور دہشت گرد بتایا گیا ہے۔ اس طرح کے پوسٹر ہندو سینا کے ذریعہ اکبر روڈ پر مختلف مقامات پر لگائے گئے ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close