دہلی

دہلی: گرودوارہ منتظمہ کمیٹی نے کوویڈ کیئر سنٹرکھولا، امیتابھ بچن نے 2 کروڑکی مددکی

نئی دہلی 10مئی(ہندوستان اردو ٹائمز) حکومت کی ناکامی کے دوران دہلی کے رکاب گنج گرودوارہ نے قابل ستائش قدم اٹھایا ہے۔ گرودوارے میں آکسیجن والے 400بیڈ پر مشتمل ایک کوویڈ کیئر سنٹر قائم کیا گیا ہے۔ یہ آج سے شروع ہوچکا ہے۔ اس کوویڈ کیئر سنٹر کا انتظام دہلی گرودوارہ منتظمہ کمیٹی کی جانب سے کیا گیا ہے۔ نیز یہ لوک نائک جے پرکاش نارائن اسپتال کے ساتھ منسلک ہے۔ بالی ووڈ کے اداکارامیتابھ بچن نے اس سنٹرکے لیے 2 کروڑ روپئے کی امداد دی ہے۔اب تک سکھ مذہب کے لوگ گرودوارہ میں پوجاکے لیے آتے تھے لیکن اب یہاں کورونا مریضوں کا علاج ہوگا۔

دہلی کے سکھ گرودوارہ منتظمہ کمیٹی نے دہلی کے رکاب گنج گرودوراہ میں 400 آکسیجن بیڈوں پرمشتمل سنٹر کھول دیا ہے ، جس سے عام لوگوں کے لیے گرودوارے کے دروازے کھل گئے ہیں۔ اس سنٹر کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہاں مریض کو آکسیجن دینے کے لیے ہر نظام کا اہتمام کیا گیا ہے۔دہلی سکھ گوردوارہ منتظمہ کمیٹی کے چیئرمین سردار منجندر سنگھ سرسا نے بتایاہے کہ یہ ملک کا پہلا نیم اسپتال ہے جو حکومت اورفوج کے بعد صرف 10 دن میں بنایا جائے گا۔ یہاں آئی سی یوکے سوا علاج ، ایمبولینس ، دوائی وغیرہ تمام سہولیات ہیں۔اس مریض کے لیے بھی ایک انتظام ہے جس کو 5 لیٹر آکسیجن کی ضرورت ہے اورجس مریض کو 20 لیٹر آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اس کے لیے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔

منجیندر سنگھ سرسا نے کہاہے کہ گرودوارہ منتظمہ کمیٹی نے شری گرو تیغ بہادر جی کے 400 سال پرکاش پروکے موقع پر اس کااہتمام کیا ہے۔ اس مرکز کا نام بھی سری گروتیغ بہادر جی کے نام پر رکھا گیا ہے اور اسی وجہ سے یہاں 400 بستروں کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔علاج مرکز کے نوڈل آفیسر سردار ہرمیت سنگھ کالکا نے بتایاہے کہ یہاں کی تمام سہولیات مکمل طور پر مفت ہیں۔ یہاں ہر سیاسی جماعت ، ہر مذہب ، ہر سیاسی جماعت کے لوگ آسکتے ہیں ، صرف ایک شرط یہ ہے کہ وہ مریض ہیں اور ان کی آکسیجن کی سطح 85 سے نیچے نہیں ہونی چاہیے ۔علاج معالجے کے آغاز کے موقع پر دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین بھی یہاں آئے اورکہاہے کہ اس مرکزکو دہلی حکومت کے لوک نائک جے پرکاش اسپتال سے منسلک کیا گیا ہے۔ اگر یہاں کسی مریض کی صحت خراب ہوتی ہے تو اسے فوراََ لوک نائک جے پرکاش اسپتال منتقل کردیاجائے گا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close