دہلی

افتخار امام صدیقی کی رحلت سے شان دار ادبی صحافت کے ایک عہد کا خاتمہ: شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں افتخار امام صدیقی کے سانحۂ ارتحال پر تعزیتی نشست کا انعقاد

نئی دہل ، ۱۳؍ اپریل (ہندوستان اردو ٹائمز) افتخار امام صدیقی عہد حاضر کے ادبی صحافت کے افتخار، جدید ادبی لہروں کی اشاعت کے امام اور اردو شعر و ادب کے عاشق صادق تھے۔ ان خیالات کا اظہار سابق صدر شعبۂ اردو، سابق وائس چیئرمین اردو اکادمی دہلی اور عہد حاضر کے ممتاز شاعر پروفیسر شہپر رسول نے شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں افتخار امام صدیقی کے سانحۂ ارتحال پر منعقدہ تعزیتی نشست میں کیا۔ قائم مقام صدر شعبہ، معروف شاعر اور ماہر میریات پروفیسر احمد محفوظ نے گہرے رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افتخار امام صدیقی کے مشہور زمانہ رسالہ ’’شاعر‘‘ کا نام عہد ساز رسالہ ’’شب خون‘‘ کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ اس قدر پابندی، مستعدی، نئی آوازوں اور نئے چہروں کو ادبی دنیا سے روشناس کرانے کا جذبہ، خصوصی گوشوں اور خصوصی شماروں کے علاوہ اپنے وسیع تر سرکولیشن کے حوالے سے شاید ہی اردو کا کوئی اور ماہنامہ ’’شاعر‘‘ کا ہمسر ہو۔ صدر شعبہ اور معروف محقق و نقاد پروفیسر شہزاد انجم نے اظہار تاسف کرتے ہوئے کہا کہ افتخار امام صدیقی کا شمار ادبی دنیا کے ان مشفق بزرگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے شان دار ادبی صحافت کی ایک انوکھی نظیر قائم کی۔ ان کا امتیاز یہ بھی تھا کہ وہ نئے لکھنے والوں کی حد درجہ خلوص کے ساتھ قدرافزائی کرتے تھے۔ اردو تنقید میں اپنا ایک مختلف اور منفرد زاویۂ نظر رکھنے والے ناقد، شاعر اور فکشن نگار پروفیسر کوثر مظہری نے افتخار امام صدیقی کو ایک عہد ساز شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی ایک اچھے شاعر تھے اور ان کی ادب نوازی کی مثال اب اس دور میں ناپید ہے۔ بحیثیت مدیر شاید ہی کوئی دوسرا شخص اپنے لکھنے والوں اور قارئین سے اس قدر مستحکم رابطہ رکھتا ہو۔ عہد حاضر کے ممتاز فکشن نگار پروفیسر خالد جاوید نے شدید اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اس قدر محبت کرنے والے، مخلص اور نئے لکھنے والوں کو حوصلہ بخشنے والے بزرگ اب رخصت ہوتے چلے جارہے ہیں۔ شعبۂ اردو کے استاد اور ادیب و نقاد پروفیسر ندیم احمد نے افتخار امام صدیقی کے شہرۂ آفاق رسالہ ’’شاعر‘‘ کی جدت و انفرادیت کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی رحلت کو موجودہ ادبی صحافت کا ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔ نئی نسل کے نمائندہ محقق اور نقاد ڈاکٹر سرورالہدیٰ نے افتخار امام صدیقی کی سنجیدہ ادبی وابستگیوں اور غیرمعمولی مدیرانہ صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شعر و ادب اور ادبی صحافت انھیں ورثے میں ملی تھی اور انھوں نے اس شان دار وراثت کو بخوبی فروغ دیا۔ آن لائن تعزیتی نشست میں پروفیسر عبدالرشید، ڈاکٹر خالد مبشر، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر سید تنویر حسین، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر عادل حیات، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر ثاقب عمران اور ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی نے بھی افتخار امام صدیقی کی وفات پر شدید غم و اندوہ کا اظہار کرتے ہوئے انھیں خراج عقیدت پیش کیا اور دعائے مغفرت کی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close