دہلی

عدالت نے واٹس ایپ کو بتایا: ایک کھرب ڈالر کی کمپنی ہوگی ، لیکن صارفین کی رازداری اہم ہے

نئی دہلی،15فروری ( آئی این ایس انڈیا ) سپریم کورٹ نے پیر کو واٹس ایپ کو بتایا کہ آپ کی نئی پرائیویسی کے بعد ہندوستانی صارفین میں رازداری کے متعلق بہت زیادہ خدشات پائے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڑے نے کہا کہ اگرچہ آپ کی ملٹی بلین ڈالر کی کمپنی ہو گی ،لیکن لوگوں کے لئے رازداری پیسوں سے زیادہ ہے۔ چیف جسٹس نے اس پرائیویسی پالیسی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر واٹس ایپ ، فیس بک اور مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔عدالت نے سینئر ایڈوکیٹ شیام دیوان کی اس دلیل کو بھی تسلیم کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان میں ڈیٹا سے متعلق تحفظ کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ چیف جسٹس بوبڑے ، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرمنیم کے بنچ نے ایک نوٹ میں کہا کہ ہم مسٹر دیوان کی دلیل سے متاثر ہیں، ایسا قانون لاگو ہونا چاہئے۔ واٹس ایپ اپنی نئی پرائیویسی پالیسی کے تحت ہندوستانی صارفین کا ڈیٹا شیئر کرے گا۔ اس ڈیٹا کو شیئر جانے کے متعلق ہندوستانی صارفین میں خدشات پائے جاتے ہیں۔یورپ کے مقابلہ بھارت میں رازداری کے معیار گرنے کے الزامات پر سپریم کورٹ نے واٹس ایپ سے جواب طلب کیا ہے۔ واٹس ایپ نے اس پر کہا کہ یورپ میں پرائیویسی سے متعلق خصوصی قوانین موجود ہیں، اگر ہندوستان میں بھی ایسے ہی قوانین موجود ہوں، تو ہم ان پر عمل کریں گے۔خیال رہے کہ واٹس ایپ کے نئی پرائیویسی پالیسی کے تحت صارفین جو مواد اپ لوڈ ،سبمٹ ،اسٹور ، سینڈ یا ریسو کرتے ہیں ، اس ڈیٹاکو کمپنی کہیں بھی استعمال کرسکتی ہے۔ کمپنی کہیں بھی نمبر شیئر کرسکتی ہے ۔ یہ پالیسی 8 فروری 2021 سے نافذ کی جانی تھی ، لیکن تنازعہ بڑھتے ہی اس کی آخری تاریخ 15 مئی کردی گئی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close