دہلی

مقدماتی ادب کی باضابطہ تحقیق و تنقید کے حوالے سے خالد مبشر کو اولیت کا درجہ حاصل ہے: پروفیسر خالد محمود

ڈاکٹر خالد مبشر کی کتاب ’’مقدماتی ادب‘‘ پر فورم فار انٹلکچول ڈسکورس اور دی ونگس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام مذاکرے کا انعقاد

نئی دہلی (ہندوستان اردو ٹائمز) ڈاکٹر خالد مبشر کا شمار جامعہ کے ان لائق و ذہین فرزندوں میں ہوتا ہے جن پر کوئی بھی تعلیمی ادارہ فخر کرسکتا ہے۔ مقدماتی ادب کی باضابطہ تحقیق و تنقید کے حوالے سے خالد مبشر کو اولیت کا درجہ حاصل ہے۔ وہ اعلیٰ ادبی مذاق اور گہرا تنقیدی شعور رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر خالد مبشر کی کتاب ’’مقدماتی ادب‘‘ پر فورم فارم انٹلکچول ڈسکورس اور دی ونگس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقدہ مذاکرے میں صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر خالد محمود نے کیا۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر کوثر مظہری نے خالد مبشر کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپنے موضوع پر ایک شاہکار ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ طلبا اور اساتذہ ایسی تحقیقی و تنقیدی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مہمانِ اعزازی حقانی القاسمی نے کہا کہ نئی اصطلاحات وضع کرنے کے لیے جرات و جنون کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر خالد مبشر نے اردو کو ’’مقدماتی ادب‘‘ کے نام سے ایک نئی اصطلاح عطا کی ہے۔ ان کی یہ کتاب تحقیق و تنقید کا بہترین نمونہ ہے۔
ڈاکٹر ابوبکر عباد (ڈی یو)نے اس کتاب کی عمدہ زبان، واضح نظریے اور معیاری تحقیق و تنقید پر مصنف کی تحسین کی۔ عبد المنان (مدیر ماہنامہ یوجنا) نے کہا کہ میرے نزدیک ’’مقدماتی ادب‘‘ اکیسویں صدی کی اہم تحقیقی و تنقیدی کتاب ہے۔ ڈاکٹر محمد اجمل (جے این یو) نے مصنف سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خالد مبشر اوائل عمری سے ہی علمی و تحقیقی ذہانت کے مالک رہے ہیں۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔ وہ کسی بھی علمی مسئلے پر سرسری نظر کے قائل نہیں۔ مشہور شاعرہ فوزیہ رباب نے اپنے تحریری تاثر میں کہا کہ ڈاکٹر خالد مبشر جیسی پختہ اور بامعنی نثر ان کے معاصرین میں بہت شاذ نظر آتی ہے۔ فوزیہ رباب کا تحریری تاثر سفیر صدیقی نے پیش کیا۔ ڈاکٹر نعمان قیصر نے بتایا کہ خالد مبشر نے اس کتاب میں بت گری ہی نہیں بلکہ بت شکنی بھی کی ہے۔ منظر امام نے کہا کہ اس کتاب کے مطالعے سے ڈاکٹر خالد مبشر کے بین العلومی ذہن اور گہرے علمی و تحقیقی شعور و آگہی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر فیضان شاہد نے خالد مبشر کی کتاب ’’مقدماتی ادب‘‘ کا تعارف و تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اچھوتے موضوع پریہ ایک قابلِ تحسین تصنیف ہے۔ منزہ شاہ نے اس کتاب پر مفصل مقالہ پیش کیا۔
پروگرام کا آغاز جمیل سرور کی تلاوت اور اختتام دی ونگس فاؤنڈیشن کے بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر انوار الحق کے اظہارِ تشکر پر ہوا۔ اس موقع پر مولانا اسحاق عادل، احسان قاسمی، عابد انور، ڈاکٹر محمد مقیم، رفعت غننی، ڈاکٹر محمد عارف، اشرف یٰسین، خبیب حسن، نایاب حسن، ابو الاشبال، مہتاب علیمی، ذاکر انور، عائشہ صدیقہ، نرگس خاتون، دانش خورشید، افسار بھٹ اور شعیب اختر کے علاوہ دیگر اہلِ علم موجود تھے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close