دہلی

فقہ اکیڈمی انڈیا کے عزائم ، منصوبے اور مستقبل کے فقہی کاز کے تناظر میں ، جنرل سیکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی صحافی برادری سے خصوصی ملاقات

نئی دہلی، 18جنوری ( آئی این ایس انڈیا ) نامور عالم دین اور فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولاناخالد سیف اللہ رحمانی نے دہلی میں مقیم صحافی برادری سے خصوصی ملاقات کی۔یہ اجلاس نئی دہلی واقع فقہ اکیڈمی کے میٹنگ روم میںمنعقد ہوا،جس میں صحافی برادری نے شرکت کیا ۔اجلاس کا آغاز مفتی نادر القاسمی کی تلاوت ِ قرآن کریم اوراس کے اردو ترجمہ سے ہوا ، جب کہ خصوصی خطاب فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے فرمایا۔اپنے خصوصی خطاب میں جنرل سیکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے فقہ اکیڈمی کے اغراض و مقاصد، ہمہ جہت خدمات اور عزائم نیز فقہی کاز کے تناظر میں ایک مرتب خاکہ پیش کیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں فقہ اکیڈمی کی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فقہ اکیڈمی کے ماڈل کو کئی ممالک کی فقہ اکیڈیمیوں نے اختیا ر کرتے ہوئے فقہ اکیڈمی کے نہج کو اپنایا ہے ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اسلامی بینکنگ کے متعلق بھی واضح کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی بینکنگ کا جو نظریہ فقہ اکیڈمی نے پیش کیا ، اُس کی عالم اسلام کی مشہور شخصیت مفتی تقی عثمانی نے ستائش کی اور تحسین کے کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بڑھ اور عمدہ کا م نہیں کیا جاسکتا ہے ۔فقہ اکیڈمی نے ہمہ جہت تحقیقی کاموں اور فقہ النوازل کے متعلق حرمت و حلت کی دریافت میں نہایت ہی مثبت راستہ اختیار کرتے ہوئے ،اس کی تہہ تک پہنچ کر اصل مسئلہ دریافت کرنے میں اپنی نظیر پیش کی ہے، جس کی تقلید غیر ممالک کے فقہی اکیڈمیوں نے کی ہے ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؔ کا لگایا ہوا پودا اس وقت آپ کے سامنے تناور درخت کی شکل میں موجودہے،لیکن اس میں مزید نکھار اور تحقیق و تدقیق کے سلسلے میں ماہرین کی آراء کا تہہ دل سے استقبال ہے ۔ دورانِ خطاب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے فقہ اکیڈمی کی بابت موجودصحافیوں سے رائے بھی طلب کی کہ کس طرح فقہی کاز کئے جائیں۔حاضرین میں شامل انقلاب گروپ کے ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب ؔ نے کرونا ویکسین کے متعلق جواز اور فقہی امر کی بابت پوچھا، کہ آیا اس کرونا ویکسین حلال ہے یا حرام؟۔ اس کاجواب دیتے ہوئے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ کرونا ویکسین میں’پگ جیلاٹین‘ کے استعمال کی تصدیق ابھی تک کسی لیبارٹری سے نہیں ہوسکی ہے ، اس لیے اس بابت کوئی مصدقہ حکم نہیں لگایا جاسکتا ، نیز جب کیمیاوی اشیاء سے کسی حرام شی کی ماہیت بدل جاتی ہے ، تو پھر اس چیز پر اصل کا حکم نہیں لگایا جاسکتا ؛کیوں کہ اس کی ماہیت بدل چکی ہے ،ماہیت بدل جانے سے اس کا حکم بھی بدل جاتا ہے۔نیز متبادل نہ ہونے کی صورت میں اس کے استعمال کی اجازت دی جاسکتی ہے ۔ اس ضمن میں کئی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کئی مثالیں بھی پیش کی۔واضح ہو کہ حاضرین میں انیس اسلم مفتاحی انچارج شعبہ انتظامی امور فقہ اکیڈمی ،انڈیا، معروف سینئر صحافی محمد آصف،انقلاب سے ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب،ؔ یو این آئی سے عابد انور ، سہارا گروپ سے صبغتہ اللہ ، آئی این ایس انڈیا نیوز ایجنسی سے افتخاررحمانی فاخرؔ، ملت ٹائمزنیوزپورٹل سے شمس تبریز قاسمیؔ ،عبدالباری اور دیگر صحافی حضرات موجود تھے ۔اجلاس کی نظامت کے فرائض فقہ اکیڈمی کے انچارج شعبہ رابطہ امور مولانا امتیاز قاسمیؔ نے کی ،جب کہ استقبالیہ کلمات انچارج شعبہ علمی مفتی صفدر زبیرندوی نے پیش کیا ، علاوہ ازیں شکریہ کے کلمات مفتی نادر القاسمیؔ نے پیش کئے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close