دہلی

صنعت کاروں کو بینک کھولنے کی اجازت تباہ کن۔ ایس ڈی پی آئی

نئی دہلی۔ پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے صنعت کاروں کو بینک کھولنے کی اجازت دیئے جانے کو تباہ کن قرار دیا ہے۔ جبکہ ریزروبینک کے سابق گورنر رگھورام راجن اور سابق نائب گورنر ویرل اچاریہ نے آر بی آئی کی تشکیل کردہ انٹرنل ورکنگ گروپ کی سفارش کہ صنعتی گھرانوں کو بینک کھولنے کی اجازت دی جائے اسے احمقانہ اور خطرناک قرارد یا ہے۔ سال 2014میں اقتدارمیں آنے کے بعد سے آرایس ایس سے چلنے والی بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت اپنے بے وقوفانہ اور خرافاتی کاموں کے ذریعہ تمام شعبوں میں ملک کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے ملک کا مالیاتی شعبہ ڈاواں ڈول ہے اور معیشت گرتی جارہی ہے۔ اس کے باوجودحکمرانوں کو ان کی بے وقوفانہ حرکتوں کا احساس نہیں ہوا ہے۔ وہ حقیقت میں اس تعلق سے پریشان ہونا نہیں چاہتے ہیں۔ جب کارپوریٹس کو بینک کاری کے کاروبار میں لایا جاتا ہے تو اس سے انہیں معاشی طاقت فراہم کرنے کے برابر ہوگا۔ جب صنعتی گھرانوں کو قرض درکار ہوگاتو وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے قائم کئے گئے بینک سے قرض لے لیں گے۔بہت کم معاملات کو چھوڑکر ہندوستان میں بینک شازو نادر ہیں ناکام ہوجاتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ بھاری ڈیپازٹس جمع کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب صنعتی گھرانوں کو بینکوں کو چلانے کا لائسنس دیاجائے گا تو، یہ بیڈ لنڈنگ کا باعث بنے گا، اور قرض لینے والا اور دینے والا ایک ہی ہوگا۔ اس سے کھاتے داروں کو بہت زیادہ فرق پڑے گا۔ مودی حکومت تمام سرکاری اداروں اور کاروباری اداروں کو اس کے کارپوریٹ ساتھیوں کو فروخت کررہی ہے۔ بہت سے ہوائی اڈے پہلے ہی اڈانی کو فروخت کردئیے گئے ہیں۔ تیل کمپنیوں اور ہندوستانی ریلوے کو فروخت کیلئے رکھا گیا ہے، اور اب بینکنگ کے شعبے کی باری ہے۔ مودی کا ‘سب کا وکاس’ کا نعرہ اصل میں اڈانی کا وکاس ہے۔ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو بیدار ہوکر اس ملک کو سنگھ پریوار کے تباہ کن ہاتھوں سے بچاناچاہئے۔ دیگر صورت میں ہمارا پیارا ملک،یقینی طور پر ان کے ذریعہ کارپوریٹس کو فروخت کردیا جائے گا۔ جیسا کہ آچاریہ نے کہا ہے کہ ‘صنعتی گھرانوں کو لائسنس دینے کا خیال بہتر ہے ترک کردینا چاہئے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close