دہلی

’ یہ ملک ہندوئوں کا ہے یہاں صرف ہندوئوں کی چلے گی‘

’ یہ ملک ہندوئوں کا ہے یہاں صرف ہندوئوں کی چلے گی‘
’جے شری رام ‘ کا نعرہ لگا تے ہوئے شاہین باغ میں فائرنگ
پولس کی موجودگی میں ۴۸؍ گھنٹے میں دوسری واردات ، حملہ آور گرفتار
نئی دہلی۔یکم؍ فروری: بی جے پی لیڈر انور اگ ٹھاکر کے بیان کے بعد ہندو تو دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہیں، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں فائرنگ کے بعد آج شاہین باغ میں ۲۴؍ سالہ کپل گورجر نامی شخص نے پولس بریکیڈ کے سامنے فائرنگ کرکے دہلی پولس پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ حالانکہ فائرنگ سے کسی بھی شخص کو نقصان نہیں پہنچا ہے فوراً ہی اسے پولس نے گرفتار کرلیا ہے ۔اور شاہین باغ پولس اسٹیشن میں مزید تفتیش جاری ہے۔ حملہ آور نے گرفتار ہونے کے بعد کہا کہ اس ملک میں صرف ہندوئوں کی چلے گی۔ بتایاجارہا ہے کہ وہ دہلی کے دلوپورا علاقے کا رہنے والا ہے۔ وہاں موجود عینی شاہد نے بتایاکہ شاہین باغ میں گولی چلانے والا شخص جے شری رام کے نعرے لگارہا تھا، اس نے تین فائرنگ کی ،گرفتار شخص نے دہلی پولس کی موجودگی میں فائرنگ کی ہے۔ عینی شاہد نے بتایاکہ اس کے پاس سیمی آٹو میٹک گن تھی اور اس نے دو رائونڈ فائر کیا، پولس اس کے پیچھے کھڑی تھی اس نے آگے بتایاکہ جب اس کی بندوق جام ہوگئی تو وہ بھاگنے لگا اس نے پھر سے فائرنگ کرنے کی کوشش کی بندوق کو جھاڑیوں میں پھینک دیا اس کے بعد ہم نے کچھ پولس والوں کی مدد سے اسے پکڑ لیا ۔ وہیں پولس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد ہندوتو دہشت گرد نے کہاکہ ہندوستان میں صرف ہندوئوںکی چلے گی اور کسی کی نہیں چلے گی۔ حملہ آور نے بتایاکہ وہ ۱۲ ویں کلاس کا ڈراپ آئوٹ ہے اور کسی بھی تنظیم سے منسلک نہیں ہے، اس نے بتایاکہ وہ شاہین باغ میں کئی دنوں سے چل رہے احتجاجی مظاہرے سے ناراض تھا اس نے فائرنگ کرنے کےلیے دیسی کٹے کا استعمال کیا ، اس نے قبول کیا ہے کہ مظاہرین کو محض ڈرانے کےلیے اس نے ہوا میں فائرنگ کی ہے، پولس اس سے یہ معلوم کررہی ہے کہ اس نے اسلحہ کہاں سے خریدا تھا۔ اس واردات کے بعد دہلی پولس کے ڈی سی پی چنمے بسوال نے کہاکہ ایک شخص نے ہوا میں فائرنگ کی، پولس نے فوراً اسے دوڑا کر گرفتار کرلیا ہے ۔واردات کے بعد شاہین باغ مظاہرین میں اشتعال پایاجارہا ہے۔ مائیک سے امن وامان کی برقراری کےلیے اپیل کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ دو دن پہلے گوپال نامی دہشت گرد نے مہاتما گاندھی کی برسی پر جامعہ علاقے میں پولس کی موجودگی میں فائرنگ کی تھی جس میں جامعہ کے ماس کمیونکیشن کا طالب علم محمد شاداب زخمی ہوگیا تھا۔ جس کے خلاف دہلی پولس نے دفعہ 307 اور آرمس ایکٹ کے تحت معاملہ درج کرلیا ہے ساتھ ہی اس معاملے کی تحقیقات دہلی پولس کرائم برانچ کو سونپی گئی ہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close