دہلی

شاہین باغ میں لوگوں کا جم غفیر، کیرتن اور ہون کے ذریعہ کیا قومی یکجہتی کا مظاہرہ!

جامعہ میں ہوئے تشدد کے بعد سے خواتین کا مظاہرہ جاری ہے اور ہر روز خواتین بڑی تعداد میں یہاں جمع ہوکر اپنا احتجاج درج کراتی ہیں لیکن کل جو منظر وہاں نظر آیا وہ انتہائی غیر معمولی تھا ۔
نئی دہلی ۔ 13 جنوری 2019 (سید خرم رضا) اتوار کی شام کو جو منظر اوکھلا کے شاہین باغ میں نظر آیا اس کو تاریخی ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ایسا کبھی کبھی ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ شام سے ہی اوکھلا کے ہر علاقہ میں جام لگنا شروع ہو گیا تھا اور ہر شخص یا تو اکیلا یا اپنے ساتھیوں، رشتہ داروں کے ساتھ شاہین باغ کی جانب گامزن تھا۔ ای رکشا ہاتھ نہیں آ رہے تھے اور زیادہ تر لوگوں کو بیچ میں ہی سواری چھوڑ کر پیدل جانا پڑ رہا تھا۔ وہاں موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک لاکھ سے زیادہ لوگ آج شاہین باغ آئے ہیں۔ ہر شخص شہریت ترمیمی قانون کے خلاف چار ہفتوں سے جاری احتجاج میں شرکت کرنے کے لئے بے چین اور پر جوش نظر آ رہا تھا۔

شاہین باغ کا احتجاج بنیادی طور پر وہاں کی خواتین کا احتجاج ہے جو جامعہ میں ہوئے تشدد کے بعد سے جاری ہے اور ہر روز خواتین بڑی تعداد میں یہاں جمع ہوکر اپنا احتجاج درج کراتی ہیں لیکن کل جو منظر وہاں نظر آیا وہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ کل کا احتجاج صرف لوگوں کی تعداد کو لے کر غیر معمولی نہیں تھا بلکہ جس طرح وہاں پر ہر مذہب کے لوگ شریک ہوئے اور وہاں قومی یکجہتی کے مظاہرہ کے لئے تمام مذاہب کے لوگوں نے مل کر اپنے مذاہب کی مقدس کتابوں کے اہم حصوں کو پڑھا۔ سکھ سماج کے لوگوں نے وہاں کیرتن کا اہتمام کیا، مسلمانوں نے کلام پاک کی تلاوت کی، ہندو بھائیوں نے ہون کیا، گیتا کے اپدیش پڑھے اور عیسائی بھائیوں نے بائبل سے سرمن پڑھے۔ اس موقع پر آئیں کے کچھ حصوں کو بھی پڑھا گیا۔ سماجی کارکن ڈی ایس بندرا نے کہا کہ کیونکہ حکومت مذہبی بنیاد پر ہمیں تقسیم کرنا چاہتی ہے اس لئے حکومت کی اس کوشش کو ناکام کرنے کے لئے ہم نے یہ قدم اٹھایا ہے اور تمام مذاہب کے لوگ یہاں جمع ہوئےہیں۔

ذاکر نگر کے حیدر کا کہنا تھا کہ وہ روز یہاں آتے ہیں اور جہاں وہ خواتین کی ہمت کی تعریف کرتے نہیں تھکتے کہ کس طرح وہ ٹھنڈ کی پرواہ کیے بغیر وہ یہاں روز احتجاج میں شرکت کرتی ہیں وہیں اس پورے مظاہرہ میں جو ڈسپلن ہے وہ اس کی زبردست تعریف کرتے ہیں۔ عروج جو اپنے پورے خاندان کےساتھ کل شاہین باغ پہنچی تھیں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو عوام کی ناراضگی سمجھ میں کیوں نہیں آ رہی اور وہ کیوں ایسے قانون کو ختم کرنے کا اعلان نہیں کرتی۔

اتوار کے اس تاریخی احتجاجی مظاہرہ میں ہر جانب لوگوں کا جم غفیر ہی نظر آرہا تھا۔ اپنے اپنےانداز میں لوگ یہاں احتجاج درج کرا رہے تھے کوئی پلے کارڈ لے کر چل رہا تھا، کوئی آزادی کے نعرے لگا رہا تھا، کوئی گانے گا رہا تھا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد قومی ترانہ گائے جا رہے تھے۔ ہرجانب ایک چھوٹا سا ہندوستان نظر آ رہا تھا ۔ایک جانب انڈیا گیٹ بنایا ہوا ہے جس میں ان نوجوانوں کے نام لکھے ہوئےہیں جو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شہید ہو گئے ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close