دہلی

جماعتی ’جہنم‘ سے نکل کر گویا ’جنت‘ میں پہنچ گئے!

کیجریوال حکومت کی جانب سے جماعتیوں کے لیے کیے گئے انتظامات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر آباد میں جس جگہ جماعتیوں کو رکھا گیا تھا وہاں آوارہ کتے خاتون جماعتی کا برقعہ نوچ لیتے تھے ۔
جمعیة علماء ہند کے مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر تنظیم نے تمام جماعتیوں کی مہمان نوازی کا بیڑا اٹھایا اور سات مختلف مقامات پر ٹھہرائے گئے غیر ملکی جماعتیوں کے انتظام وانصرام کی ذمہ داری لی۔
نئی دہلی ۔ 07 جولائی 2020 (نواب علی اختر)
تبلیغ کے سلسلے میں ہندوستان آنے والے سینکڑوں غیر ملکی جماعت کے اراکین تقریباً 5 ماہ سے ہندوستان میں پھنسے ہوئے ہیں اور اس دوران انہیں انتہائی کربناک حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کھانے اور رہنے کے ساتھ ہی انہیں بڑی مشکل سے ضروریات زندگی فراہم ہونے کی وجہ سے غیر ملکی جماعتیوں کی حالت ہندوستان بالخصوص دہلی میں قابل رحم ہے۔ خبروں کے مطابق فروری اور مارچ میں مختلف ممالک سے ہندوستان آئے سینکڑوں غیر ملکی جماعتی مبینہ طور پر ویزا رول کی خلاف ورزی کے ملزم پائے گئے ہیں، اس وجہ سے انہیں فی الحال وطن واپسی کے آثار نظر نہیں آر ہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ ہندوستان میں پھنسے تمام غیر ملکی جماعتیوں کو دہلی کے وزیرا آباد میں رکھا گیا تھا جہاں تمام ذمہ داری دہلی حکومت کی تھی مگر یہاں پر غیرملکیوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس سے ملک کی شبیہ کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔

اس سلسلے میں جب ان جماعتیوں سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وزیر آباد ان لوگوں کے لئے جہنم جیسا تھا جہاں ایک ہی کمرے میں صلاحیت سے کہیں زیادہ جماعتیوں کو ٹھونس دیا گیا تھا یہاں تک کہ مرد جماعتیوں کے ساتھ ہی تھائی لینڈ کی ایک حاملہ خاتون جماعتی کو بھی رکھا گیا۔ خاتون کے شوہر بھی ساتھ میں تھے مگر انہیں دواریکا پہنچا دیا گیا۔ دہلی کی کیجریوال حکومت کی جانب سے جماعتیوں کے لیے کیے گئے انتظامات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر آباد میں جس جگہ پر جماعتیوں کو رکھا گیا تھا وہاں آوارہ کتے خاتون جماعتی کا برقعہ پکڑ کر نوچتے نظر آتے تھے اور جماعتیوں کو کھانے کے نام پر ابلے چاول اور دال یا سبزی کے نام پر’رنگین‘ پانی دیا جاتا تھا۔ اس کھانے پر جب لوگ اعتراض کرتے تو دہلی حکومت کے متعین کردہ افسران جماعتیوں کے ساتھ ظالموں کی طرح پیش آتے تھے۔ حد تو تب ہوگئی جب کچھ مقامی مسلمان ’مہمانوں‘ کے کھانے کے لیے معیاری کھانا لے کر پہنچے تو موقع پر تعینات افسران نے کھانے کو زمین پر پھینک دیا اور لوگوں کو ڈانٹ کر بھگا دیا۔

ان حالات میں جب جماعت سے وابستہ ایک مقامی وکیل نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ہائی کورٹ نے دہلی حکومت کو تمام جماعتیوں کو کمیونٹی سینٹر میں رکھنے کا حکم دیا جس کے بعد دہلی میں 9 مقامات طے کیے، جس میں ایک جمعیة علماء ہند کا دفتر بھی تھا۔ جمعیة علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر تنظیم نے تمام جماعتیوں کی مہمان نوازی کا بیڑا اٹھایا اور سات مختلف مقامات پر ٹھہرائے گئے غیر ملکی جماعتیوں کے انتظام وانصرام کی ذمہ داری لی۔ آئی ٹی او واقع جمعیة علماء ہند کے دفترمیں 200 سے زائد غیرملکی جماعتی مقیم ہیں، جہاں سبھی کو کھانے اور قیام کے ساتھ ساتھ دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء فراہم کی جارہی ہیں۔ جمعیة کی عمارت میں مدنی ہال و دیگرحصوں میں جماعتیوں کو ٹھہرایا گیا ہے اور انہیں 24 گھنٹے اے سی اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ وقت میں دہلی میں 965 غیر ملکی جماعتی موجود ہیں جو 9 مختلف مقامات پر ٹھہرائے گئے ہیں، جبکہ 5 ممالک کے 210 تبلیغی جماعتی ارکان جمعیة کے دفتر میں قیام پذیر ہیں۔

واضح رہے کہ جماعتی صرف عدالت کی کارروائی کی وجہ سے یہاں نہیں پھنسے ہوئے ہیں بلکہ بین الاقوامی پروازوں پر لگی پابندی بھی ایک وجہ ہے۔ انڈونیشیا سے تبلیغی جماعت میں آئے احمد جہادی بتاتے ہیں کہ وہ ایک طالب علم ہیں اور اپنے دین کو سیکھنے کے لیے ہندوستان آئے تھے لیکن حکومت ہند کی جانب سے جاری پابندی کی وجہ سے وہ 5 ماہ سے یہیں پھنسے ہوئے ہیں۔ احمد جہادی بتاتے ہیں کہ ان کے علاوہ 190 انڈونیشیائی بھی ان کے ساتھ جمعیة علماء ہند کے دفتر میں قیام پذیر ہیں حالانکہ انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت مسلسل انہیں واپس ملک لے جانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود فی الحال کوئی حل نہیں نکل پا رہا ہے۔

وہیں سری لنکا سے تبلیغی جماعت کے مرکز میں آئے 67 سالہ قدیر کہتے ہیں کہ وہ ہندوستان سے بہت پیار کرتے ہیں کیونکہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور وہ سری لنکا کے بڑے بھائی کی طرح ہیں۔ قدیر بتاتے ہیں کہ وہ دل کی بیماری میں مبتلا ہیں جس کا علاج سنہ 2017 سے چنئی کے اپولو اسپتال سے کرا رہے ہیں اس بار بھی وہ 9 فروری کو چنئی کے اسپتال میں اپنا چیک اپ کرانے آئے تھے جس کے بعد انہوں نے 20 فروری کے دن دہلی واقع مرکز نظام الدین کا رخ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاج کے مختلف طریقے ہیں مجھے دلی سکون اللہ کی عبادت سے ملتا ہے، اسی لیے میں مرکز پہنچا ٹھیک اسی طرح جیسے ہندو مندروں میں جاتے ہیں۔ میرا مقصد یہاں کاروبار کرنا نہیں تھا لیکن اس کے باوجود میرے علاوہ سری لنکا سے 47 خواتین اور مرد گزشتہ 5 ماہ پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے اہل خانہ بہت پریشان ہیں کیونکہ میں بیمار ہوں اس کے لیے میرے بیٹے نے سری لنکا اور ہندوستان کے مختلف اداروں میں میری واپسی کی راہ ہموار کرنے کے لیے درخواستیں بھی دی ہیں لیکن فی الحال کوئی بات نہیں بنی ان حالات میں مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ کوئی نا کوئی راستہ ضرور نکالے گا۔ اب سپریم کورٹ میں اس معاملے پر 9 جولائی کو سماعت ہونی ہے۔ اس سلسلے جماعتیوں نے عدالت عظمیٰ سے اپیل ہے کہ ہم لوگ بہت پریشانی کے عالم میں ہیں، اس معاملے کو حکومتی سطح پر حل کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ ملک سے جڑا معاملہ ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت سے بھی جڑا اہم معاملہ ہے، اس لئے انسانیت کی بنیاد پر اس پرغور کیا جائے اور ہم غریب الوطن لوگوں کو ہمارے وطن بھیجنے کی راہ ہموار کی جائے۔

جمعیة علماء ہند کے ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر مبہم زندگی کے شکار غیرملکی جماعتیوں پر صرف ویزا رول کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے، یہ کسی جرم میں ملوث نہیں ہیں اس لیے حکومت کو دوممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے انسانیت کے نقطہ نظر سے ان کی پیروی کرے اور دوست ممالک کے شہریوں کے بارے میں خصوصی دھیان دے تاکہ ان ممالک کے ساتھ ہندستان کا تاریخی وقار بلند رہے اور تعلقات میں مزید استحکام آئے۔ جمعیة کے مطابق حکومت ہند کی جانب سے ’وندے بھارت‘ کے ذریعہ مختلف ممالک میں پھنسے ہزاروں ہندوستانی شہریوں کو وطن لایا گیا ہے اگر حکومت چاہے تو اسی طرح غیرملکی جماعتیوں کوان کے ملک بھیجا جاسکتا ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close