دہلی

جو ہم پارلیمنٹ میں نہیں کرسکتے تھے وہ آپ نے روڈ پر کر دکھایا

جامعہ میں احتجاج کے ۲۶؍ویں دن ممبر پارلیمنٹ ایس ٹی حسن سمیت دیگرلیڈران کا خطاب، بھارت بند کی حمایت

نئی دہلی۔ ۷؍جنوری: (جامعہ کیمپس سے محمد علم اللہ کی رپورٹ) جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سی اے اے ، این آر سی اور این پی آرکے خلاف جاری آج تحریک کا ۲۶؍واں دن اور بھوک ہڑتال کا ۷؍واں دن تھا۔جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی نے کل ٨ فروری کو ہونے والے بھارت بند کی حمایت کی اورجامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباو اساتذہ ودیگر عملہ سمیت ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ اس وہ بھارت بند کو کامیاب بنائیں۔ آج بھی بڑی تعداد میں عوام اور جامعہ کے طلبہ نے احتجاج میں شرکت کی اورحکومت مخالف نعرے لگائے وہیں جے این یو پر نقاب پوش غنڈوں کے حملوں کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ سی اے اے قانون واپس لینے کے مطالبے پر اڑے رہے۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھے اور پولس تشدد میں زخمی جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کے ایک ممبر نے بتایا کہ ہم اپنے حقوق کے لیے ، آئین اور ملک کو بچانے کےلیے لڑرہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولس نے ہمارے ہاتھ پاؤں ضرور توڑ دیے ہیں لیکن ہمارے حوصلے اب بھی مضبوط ہیں ہم کسی بھی حال میں اب خاموش نہیں بیٹھنے والے ہیں، سیاہ قانون کی واپسی تک ہم اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔ آج مظاہرین کو خطاب کرنے والوں میں عادل حسن آزاد، ایڈوکیٹ عبیداللہ علیم، ڈاکٹر کفیل احمد، مشہور ناول نگار مشرف عالم ذوقی، ممبر آف پارلیمنٹ ایس ٹی حسن ، غفران خان (جنرل سکریٹری ایس وائی ایس)، یوگیش بھاردواج (پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ)، سماجی کارکن شہریار اور محمد شعیب گڈا شامل ہیں۔ ایڈوکیٹ عبید اللہ علیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں بحران کی اس گھڑی میں آپ کے جذبوں کو سلام کرتا ہوں، جہاں پولس رکشک کا کردار نبھانے کے بجائے بھکشک بنی ہوئی ہے، میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے ساتھ ساتھ ہر اس شخص کی مذمت کرتا ہوں جو ہمیں تقسیم کرناچاہتا ہے۔ انہوں نے جامعہ کے بچوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہاکہ آپ کی آواز ملک کے کونے کونے میں پہنچ گئی ہے۔ ممبر آف پارلیمنٹ ایس ٹی حسن نے کہا کہ میں جامعہ کے طلبہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ جو ہم پارلیمنٹ میں نہیں کرسکتے تھے وہ آپ نے سڑکوں پر کرکے دکھادیا، آپ نے ان سڑکوں سے آواز اُٹھا کر بتا دیا کہ ہم ملک کو فاشزم کے جبڑوں میں نہیں جانے دیں گے۔ ڈاکٹر کفیل نے کہا کہ ہم جے این یو طلبہ یونین صدر ایشی گھوش کے خلاف کی گئی ایف آئی آر کی مذمت کرتے ہیں انہیں مارا گیا ہے، اور ان کے سر پر ٹانکے بھی لگے ہیں لیکن ان سب کے باوجود سرور روم میں توڑ پھوڑ معاملے میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ این آر سی معاملے پر انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف اقلیتوں کے خلاف ہے بلکہ غریبوں کے خلاف بھی ہے۔ حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حکومت اقلیتوں اور غریبوں سے ووٹ ڈالنے کا حق بھی چھیننا چاہتی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close