دہلی

اسرار جامعی، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ادبی وراثت کے ستون کی حیثیت رکھتے تھے: عمیر منظر

دی ونگس فاؤنڈیشن کی’ آن لائن‘ تعزیتی نشست میں کلیات اسرارجامعی کی اشاعت کا فیصلہ

نئی دہلی ۔۶،اپریل ۲۰۲۰(ہندوستان اردو ٹائمز) جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اساتذہ ، طلبا اور اسرار جامعی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزو م کی حیثیت رکھتے تھے ۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ادبی وراثت کے ستون تھے ۔اسرار جامعی نے ایک فن کار کے طور پر جو زندگی گذاری وہ ہمارے لیے بہت اہم ہے ۔اس کا لازمی تقاضا یہی ہے کہ ہم ان کا کلیات شائع کریں ۔اسرار جامعی کی بے لوثی اور خلوص کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے دنیا سے نہ کبھی کچھ مانگا اور نہ اس کا کبھی شکوہ ہی کیا ۔بلکہ وہ تمام عمر لوگوں کو ہنساتے رہے ۔ ان خیالات کا اظہارلکھنؤ سے ڈاکٹر عمیر منظر(مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی۔لکھنو کیمپس) نے اسرار جامعی کی رحلت پر دی ونگس فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقدآن لائن تعزیتی نشست میں صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے کیا۔
آن لائن تعزیتی نشست کی نظامت ڈاکٹر سلمان فیصل نے انجام دی اور قرآن پاک کی تلاوت ڈاکٹر شاہ نواز فیا،ض نے کی جبکہ آن لائن نشست کے میزبان ڈاکٹر انوارالحق نے خیر مقدم کیااور تکنیکی امور کی دمہ داریاں انجام دیں ۔ڈاکٹر جاوید حسن نے شکریے کے کلمات ادا کیے ۔زوم ایپ کی مدد سے آن لائن تعزیتی نشست میں دلی ،لکھنؤ،علی گڑھ ،پٹنہ اور بعض دیگر مقامات سے اسرار جامعی کے محبین اور ان کے چاہنے والوں نے آن لائن شرکت کی ۔ عمیر منظر نے مزیدکہا کہ اسرار جامعی نے مشاعروں میں شرکت لے لیے جوڑ توڑ کی پالیسی اختیار نہیں کی بلکہ وہ اپنے فن کی وجہ سے بلائے جاتے تھے۔اس موقع پر عمیر منظر نے کلیات اسرار جامعی کی اشاعت کا اعلان کیا اور کہا کہ ایک مشاورتی کمیٹی کی نگرانی میں باقاعدہ یہ کام انجام پائے گا ۔
تعزیتی قرار پیش کرتے ہوئے دہلی سے ڈاکٹر خالد مبشر (جامعہ ملیہ اسلامیہ)کہا کہ اسرار جامعی نے جب طنزیہ و مزاحیہ شاعری میں قدم رکھا تو اردو کے تمام اخبارات و رسائل میں ان کی دھوم مچ گئی۔ طنزیہ و مزاحیہ صحافت میںبھی انھوں نے اہم کارنامہ انجام دیا۔ انھوں نے ’’چٹنی‘‘ اور ’’پوسٹ مارٹم‘‘ کے نام سے دو اخبارات نکالے۔جس میں وہ خود کو چیپ ایڈیٹر لکھا کرتے تھے۔ ان کے کالم نہایت دلچسپ اور شگفتہ ہوتے تھے۔اسرار جامعی نے شفیع الدین نیر اور رضا واہی نقوی کی شاگردی اختیار کی۔ ڈاکٹر خالد مبشر نے کہا کہ اسرار جامعی نے اپنی شاعری میں ہر کسی کو نشانہ بنایا۔ شاید ہی اردو کا کوئی بڑا ادیب بچا ہو جو ان کی زد میں نہ آیا ہو۔وہ لفظی الٹ پھیر مضحک صورت حال پیروڈی نقالی بے میل موازنہ و تقابل خلاف توقع صورت گری وغیرہ جیسے ہر حربے اور وسیلے کوبروئے کار لاتے ہیں۔ان کی نظمیں قطعات اور پیروڈیاں بہت مقبول عام ہوئیں۔ڈاکٹر معید الرحمن (علی گڑھ)نے اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسرار جامعی کا انتقال ایک درویش صفت اور فنا فی الادب شخص کی رحلت ہے۔طنز و مزاح کی روایت کے ایک مستند شاعر اسرار جامعی تھے۔ان کے طنز میں معاشرے کا درو کرب بہت گہرا تھا۔وہ پر اسرار قسم کے آدمی نظر آتے تھے۔ڈاکٹر محمد مقیم نے کہا کہ اس وقت اردو کی ظریفانہ روایت کے آبرو تھے اسرار جامعی۔ان کی شخصیت میں خاص قسم کا بھولاپن تھا۔اسرار جامعی کی موت اردو ادب میں ایک بڑا خلا پیدا کر گئی ہے۔ڈاکٹر انوار الحق نے اسرار جامعی کے سانحہ ارتحال پر اپنے دکھ کا اظہار کیا اور انھیں ایک بے لوث اور مخلص انسان قرار دیا جنھوں نے اس دکھ بھری دنیا میں ہمیں ہنسنے کا موقع فراہم کیا ۔ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی نے کہا کہ انھیں دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ ایک بڑے شاعر ہیں ۔ان کے شخصی اوصاف نے مجھے بے حد متاثر کیا ۔ڈاکٹر نعمان قیصر نے کہا کہ ان کے اشعار اور قطعات ہمیں ان کی یاد دلاتے رہیں گے ۔ڈاکٹر جاوید حسن نے ان سے اپنے ذاتی تعلق کی بنا کر کہا کہ میرے لیے اسرار جامعی کی وفات ایک ذاتی سانحہ بھی ہے ۔اور ادبی حیثیت سے ان کی خدمات نہایت وقیع اور اہم ہیں ۔ڈاکٹر شاہ نواز فیاض نے کہا کہ اسرار صاحب کو جامعہ کے درودیوار تلاش کرتے رہیں گے لیکن کوئی اسرار جامعی اب نظر نہیں آئے گا ۔وہ نہایت مخلص انسان تھے اور ہم جامعہ والوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھے ۔ریجان فضل نے ان کی شاعری کے ذکر کرتے ہوئے ان کی بعض فنی ہنر مندیوں کی نشان دہی کی ۔
اس کے علاوہ آن لائن تعزیتی نشست میں ڈاکٹر سمیع احمد، ڈاکٹر علام الدین، ڈاکٹر امتیاز احمدعلیمی، سلمان عبدالصمد، وسیم احمد علیمی نے بھی اظہار خیال کیا۔ اس آن لائن نشست میں مختلف علاقوں میں سے تقریباً چالیس لوگوں نے شرکت فرمائی۔ جس میں حکیم وسیم احمد اعظمی (لکھنؤ)ڈاکٹر اویس سنبھلی(لکھنؤ)، ڈاکٹر عبدالسمیع(بنارس)، قرۃ العین، نثار احمد وغیرہ کے نام شامل ہیں ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close