قومی

دہلی فساد کیس : عمر خالد کو نہیں ملی راحت ، عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کر دی

نئی دہلی ،24؍مارچ (ہندوستان اردو ٹائمز) کڑکڑڈوما کورٹ نے جے این یو کے سابق طالب علم رہنما عمر خالد کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے، جو شمال مشرقی دہلی میں فسادات کے سلسلے میں جیل میں ہیں۔ پولیس نے عمر خالد کو یو پی پی اے کے تحت گرفتار کیا تھا۔ اس معاملے میں دہلی پولیس نے عمر خالد کو مرکزی سازش کار کے طور پر گرفتار کیا تھا۔

پولیس نے اپنی چارج شیٹ میں بتایا تھا کہ عمر خالد کئی واٹس ایپ گروپس کا حصہ تھے۔ جن کے ذریعے تشدد کی سازش رچی گئی۔ عمر نے لوگوں کو تشدد پر اکسایا تھا۔ یہی نہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دہلی آئے تھے تو عمر نے لوگوں کو سڑکوں پر آنے کو کہا تھا۔ تاکہ بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی شبیہ کو داغدار کیا جاسکے۔پولیس نے کہا تھا کہ عمر خالد نے تشدد کی سازش کے لیے انڈیا اگینسٹ ہیٹ سے وابستہ کونسلر طاہر حسین اور خالد سیفی کے ساتھ میٹنگ بھی کی۔ عدالت میں دلائل کے دوران عمر خالد کی جانب سے تمام الزامات کو جعلی اور من گھڑت قرار دیا گیا۔

عمر کے وکیل نے عدالت میں کہا تھا کہ کسی بھی معاملے پر آواز اٹھانا جرم نہیں ہے۔ عمر خالد واٹس ایپ گروپ میں تھا۔ لیکن وہ ان گروہوں میں سرگرم نہیں تھا۔ ایسے میں کیا ان کی خاموشی انہیں ملزم ثابت کرتی ہے؟ واضح رہے کہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں تشدد میں 53 لوگ مارے گئے تھے۔ جبکہ 700 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button