قومی

دہلی فسادات: سونیا،راہل گاندھی،انوراگ ٹھاکر،کپل مشراسمیت متعددلیڈران کوہائی کورٹ کا نیا نوٹس

نئی دہلی 22مارچ (ہندوستان اردو ٹائمز) دہلی ہائی کورٹ نے شمال مشرقی دہلی کے تشدد اور سیاسی رہنماؤں کی مبینہ اشتعال انگیز تقاریر سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے منگل کو سونیا گاندھی، راہل گاندھی، انوراگ ٹھاکر اور کپل مشرا سمیت کئی سرکردہ افراد، کارکنوں اور دیگر کو نئے نوٹس جاری کیے ہیں۔ہائی کورٹ نے منگل کو تازہ نوٹس جاری کیے،

تاہم یہ مشاہدہ کرتے ہوئے کہ عرضی گزار نے تجویز کردہ جواب دہندگان کے نئے نام کے ساتھ ترمیم شدہ پٹیشن دائر کرتے وقت پروسیسڈ فیس فائل نہیں کی۔ اس نے اس معاملے میں ابھی تک پروسیس فیس جمع نہ کرنے پر درخواست گزاروں کے ساتھ ناراضگی کا اظہار کیاہے۔ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کی طرف سے داخل کی گئی ایک درخواست پر نوٹس جاری کیا جس میں کئی سیاستدانوں کے خلاف ان کی مبینہ اشتعال انگیزتقریروں کے لیے ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی گئی تھی۔

جسٹس سدھارتھ مردول اور جسٹس رجنیش بھٹناگر کی بنچ نے منگل کو کانگریس لیڈر سونیا گاندھی،پرینکا گاندھی واڈرا، راہل گاندھی اور بی جے پی لیڈران انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما، کپل مشرااوردیگرکو تازہ نوٹس جاری کیاہے۔عدالت نے ان نئی ترمیم شدہ فریقین کو ملزم کہنے پر وکیل پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہاہے کہ یہ صرف مجوزہ مدعا علیہ ہیں،یہ ملزم نہیں ہیں۔ ہم اس کا جواب تلاش کر رہے ہیں کیونکہ آپ نے ان پرالزامات لگائے ہیں۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button