مضامین

دھرم سنسد کی اشتعال انگیزی اور سیاسی پارٹیوں کی خاموشی! تحریر ۔۔۔۔ جاوید اختر بھارتی

تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید اختر بھارتی
javedbharti508@gmail.com
آجکل اخباروں اور سوشل میڈیا پر دھرم سنسد کا لفظ بہت آتا ہے آخر دھرم سنسد کا مطلب کیا ہے دھرم تو مذہب ہوگیا اور سنسد کا مطلب پارلیمنٹ تو کیا آجکل جو دھرم سنسد کا انعقاد ہورہاہے اور اس میں اقلیتوں کے خلاف جو اشتعال انگیزی کی جارہی ہے تو اس پروگرام کو مذہبی پارلیمنٹ کہا جائے گا اگر ہاں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملک کا آئین ایسے اشتعال انگیز پروگرام کی اجازت دیتا ہے کہ کسی کے جذبات کو بھڑکایا جائے اور ملک کا ماحول زہر آلود بنایا جائے ،، اگر نہیں تو پھر اس پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی ؟ ملک کا آئین مذہبی آزادی دیتا ہے اور اظہار رائے کی بھی اجازت دیتا ہے، مذہب کی ترویج و اشاعت کی بھی اجازت دیتا ہے، عبادت گاہوں کی تعمیر کی بھی اجازت دیتا ہے اور سیاسی و سماجی، دینی و دنیاوی جلسہ وجلوس کی بھی اجازت دیتا ہے مگر کسی مذہب کی توہین کی اجازت نہیں دیتا ہے، کسی مذہبی پیشوا اور مذہبی کتابوں کی توہین کی اجازت نہیں دیتا ہے اور آئین جس بات کی اجازت نہیں دیتا ہے تو وہ بات اور وہ چیز اظہار رائے کی آزادی نہیں ہوسکتی اور جس بات کی آئین اجازت نہ دے تو وہ کام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی بھی ہونی چاہئے تاکہ آئین کی بالادستی قائم رہے اور ملک میں پوری طرح امن و امان برقرار رہے بھائی چارگی کا ماحول قائم رہے مگر افسوس کہ ادھر کئی ماہ سے مسلسل اقلیتوں اور باالخصوص مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کا سلسلہ جاری ہے نرسنگھا نند جیسے بدنام زمانہ کی زبان سے نفرت کے شعلے نکلتے ہیں جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہورہے ہیں اور مسلمانوں نے کبھی بھی جواب دینے کی کوشش نہیں کی ہے کیونکہ مسلمان اس ملک سے اور ملک کے آئین سے بے پناہ محبت کرتا ہے اس ملک کی مٹی اور ذرے ذرے سے محبت کرتا ہے اس ملک کی مٹی میں ہمارے آباؤ و اجداد کی ہڈیاں دفن ہیں، ملک کی آزادی کی تحریک میں مسلمانوں کی بے شمار قربانیاں شامل ہیں مسلمانوں کے مدارس صرف اسلام کے ہی قلعے نہیں ہیں بلکہ ملک کے تحفظ کے لئے بھی قلعے ہیں انہیں مدارس میں انگریزوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی تعلیم دی جاتی تھی اور تحریک آزادی کا لائحہ عمل مرتب کیا جاتا تھا اور آج بھی ان مدارس میں وطن سے محبت کرنا ایمان کا ایک حصہ بتایا جاتاہے اور یہی تعلیم دی جاتی ہے-
آج مٹھی بھر فرقہ پرست ملک میں خانہ جنگی کا ماحول قائم کرنا چاہتے ہیں، بھائی چارگی کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور رنگ برنگے لباس میں ملبوس ہو کر خود کو مذہبی رہنما کہلواتے ہیں جبکہ کوئی بھی مذہب بغض و حسد کی آگ بھڑکا نے کی تعلیم و تربیت اور اجازت نہیں دیتا ہے ہر مذہبی رہنما کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کرے مگر کسی دوسرے مذہب کی توہین کرنے کا اسے قطعی حق حاصل نہیں ہے اور وہ ایک اچھا انسان بھی نہیں ہوسکتا جو دوسروں کے مذہب کی توہین کرے تو جو ایک اچھا انسان نہیں ہوسکتا ہے تو وہ مذہبی رہنما کیسے ہوسکتا ہے اسی لئے مذہب اسلام نے انسانیت کے فروغ پر زور دیا ہے –
یہاں ایک بات اور بیحد تشویشناک یہ ہے کہ ایک طرف فرقہ پرست دھرم سنسد کا نام دے کر اشتعال انگیزی کررہے ہیں تو دوسری طرف اپنے کو سیکولر کہنے والی سیاسی پارٹیاں خاموش کیوں ہیں؟ ملک میں بی جے پی کی حکومت ہے تو ملک کی اقلیتوں کو ڈرانے و دھمکیاں دینے والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی ہے تو یہ سیکولر سیاسی پارٹیاں ان فرقہ پرستوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے میدان میں کیوں نہیں آتی ہیں آخر کس بنیاد پر اپنے کو سیکولر کہتی ہیں اور کہلواتی ہیں جبکہ چند شرپسند عناصر جمہوریت کی دھجیاں اڑارہے ہیں اور یہ سیاسی پارٹیاں اپنی زبان پر تالا لگائے ہوئے ہیں ایسے نازک اور خطرناک موقع پر خاموشی اختیار کرنا بھی ظالم کی حمایت کرنے کے مترادف ہے،، اترپردیش میں اسمبلی انتخابات بھی ہونے والے ہیں کیا ایسے حالات میں خاموش رہ کر سیاسی پارٹیاں اقلیتوں کا اعتماد حاصل کرسکتی ہیں؟ انتخابی مہم کے دوران ان نام نہاد سیکولر پارٹیوں سے جب مسلمان سوال کرے گا تو ان کے پاس کیا جواب ہوگا ؟
حکومت کو بھی اشتعال انگیزی کے خلاف قدم اٹھانا ہوگا اور میڈیا کو بھی سچائی کا دامن تھامنا ہوگا تاکہ فرقہ پرستوں کے حوصلے پست ہوں اور ملک میں خوشگوار فضا قائم رہ سکے اور ہر شخص اپنے آپ کو محفوظ سمجھے –
نرسنگھا نند جیسے نفرتی انسان کی زبان پر لگام نہیں لگائی گئی تو یہ لوگ ملک کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونک دیں گے وہ لوگ دھرم سنسد کا نام دیکر بغض و حسد اور نفرت پر مبنی تقاریب کا انعقاد کرکے جمہوریت کی بھی توہین کررہے ہیں اور آئین کی بھی توہین کررہے ہیں اور یہ ہمیں اچھی طرح یاد رکھنا چاہیے اور حکومت کو بھی واضح طور پر ایسا قدم اٹھانا چاہئیے کہ یہ سب کو یقین ہوجائے کہ چاہے کوئی کتنا ہی اڑیل، پاور فل اور بڑا کیوں نہ ہو لیکن وہ آئین سے بڑا نہیں ہے،، جو شخص بھی آئین کے خلاف چلے گا اور آئین کی توہین کرے گا تو اسے خمیازہ بھگتنا پڑے گا-
سیاسی پارٹیوں کی خاموشی سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ جو ہورہاہے وہ ہوتا رہے تو مسلمان ہمیں ووٹ دے گا کیونکہ مسلمان جانتا ہے کہ مرکزی و صوبائی حکومت بی جے پی کی ہے تو دھرم سنسد پر روک لگانا اور اشتعال انگیزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا بی جے پی حکومت کی ذمہ داری ہے اور جب بی جے پی حکومت اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اشتعال انگیزی کرنے والوں کو یہ احساس ہے کہ ہمارے خلاف کارروائی نہیں ہوگی،، تو ایسی صورت میں مسلمان آخر ووٹ تو ہمیں کو دے گا کیونکہ ہم تو اقتدار میں ہیں نہیں،، اس لئے زبان بند رکھنا ہی بہتر ہے تاکہ دونوں ہاتھوں میں لڈو رہے-
javedbharti508@gmail.com
Javed Akhtar Bharti

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ کاخیرمقدم ہے، اپنے مضامین ومقالات،ادب و کالم اور خبریں ہمیں نیچے دیئے گئے میل پر ارسال فرماکر ممنون ہوں info@hindustanurdutimes.com

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close

adana escort adıyaman escort afyon escort ağrı escort aksaray escort amasya escort ankara escort antalya escort ardahan escort artvin escort aydın escort balıkesir escort bartın escort batman escort bayburt escort bilecik escort bingöl escort bitlis escort bolu escort burdur escort bursa escort çanakkale escort çankırı escort çorum escort denizli escort diyarbakır escort düzce escort edirne escort elazığ escort erzincan escort erzurum escort eskişehir escort gaziantep escort gebze escort giresun escort gümüşhane escort hakkari escort hatay escort ığdır escort ısparta escort istanbul escort izmir escort izmit escort kahramanmaraş escort karabük escort karaman escort kars escort kastamonu escort kayseri escort kilis escort kırıkkale escort kırklareli escort kırşehir escort kocaeli escort konya escort kütahya escort malatya escort manisa escort mardin escort mersin escort muğla escort muş escort nevşehir escort niğde escort ordu escort osmaniye escort rize escort sakarya escort samsun escort şanlıurfa escort siirt escort sinop escort şırnak escort sivas escort tekirdağ escort tokat escort trabzon escort tunceli escort uşak escort van escort yalova escort yozgat escort zonguldak escort