دیوبند

دوحہ قطر سے گزشتہ شب آن لائن مشاعرے کا انعقاد کیا گیا

اس لئے بکھرتا ہے آج گھر کا شیرازہ ٭ اب جو گھر کے لوگوں میں مشورہ نہیں ہوتا

دیوبند، 31؍ مئی (رضوان سلمانی) گزشتہ شب دوحہ قطر سے آن لائن مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں کئی ملکوں کے شعراء نے شرکت کی۔ مشاعرے کی صدارت بدرالدین ضیاء نے کی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر طاہر قمر میراں پوری نے انجام دیے۔ بیسٹی ایجوکیشن چیریٹیبل ٹرسٹ دوحہ قطر کی جانب سے منعقد اس پروگرام کے کنوینر رہے بیجناتھ شرما عرف منٹو جو اس ٹرسٹ کی جانب سے اردو اور ہندی ادب کو ایک منچ پر لانے کی کوششوں میں لگاتار مصروف ہیں۔گزشتہ شب ہوئے اس مشاعرے میں شعرا کا منتخب کلام قارئین کی نذرہے۔
اپنے تلووں پر یہ خود ہی شعلے ملنے جیسا ہے ٭ سچائی کی راہ پہ چلنا آگ پہ چلنے جیسا ہے (بدر الدین ضیاء دہرا دون)
کہ رہا ہے صدیوں سے تاج کا حسیں چہرا ٭ فن اگر مکمل ہو بولتی ہیں تصویریں (صبیحہ تبسم علی گڑھ)
حنا سے نام رچا ہاتھوں سے مٹا تو دوں ٭ و دل پہ لکھا ہے کیسے اسے مٹائے کوئی (سنگیتا صدف دہلی)
اس لئے بکھرتا ہے آج گھر کا شیرازہ ٭ اب جو گھر کے لوگوں میں مشورہ نہیں ہوتا (ڈاکٹر طاہر قمر میران پوری)
بھلے پیدا نہ ہوں گاندھی نہیں نہرو مگر یارو ٭ بھگت اشفاق کے جیسا لہو ہو نوجوانوں میں (بیجناتھ شرما دوحہ قطر)
میں رکھ کر ہوش کو اس کا ٹھکانہ بھول جاتی ہوں ٭ تمھیں جب دیکھتی ہوں تو زمانہ بھول جاتی ہوں (منیشہ سانولی دہلی)
جتنی پابندیاں لگ جائیں نگاہ و دل پر ٭ تیرے قدموں سے لپٹنے میرا سایہ جایے (اوشا بھدوریہ بھوپال)
اف یقین و گمان ہر لمحہ٭ کشمکش میں ہے جان ہر لمحہ (رچا سنہا غزل ممبئی)
ان کے علاوہ ڈاکٹر ساگر ترپاٹھی، ڈاکٹر تنویر گوہر وغیرہ نے اپنے کلام سے نوازا۔پروگرام یو ٹیوب اور فیس بک پر دوحہ قطر سے لائیو نشر ہواجسے سینکڑوں لوگوں نے دیکھا۔آخر میں بیجناتھ شرما نے تمام کا شکریہ ادا کیا۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button