کالم

دس سالہ بچی کا اللہ پر بھروسے کا حیرت انگیز واقعہ : عاصم اسعد

میں جہاں بھی ٹیوشن پڑھانے جاتا ہوں میرا یہ معمول ہے کہ بچوں کو نماز کی خصوصاً تاکید کرتا ہوں ساتھ ہی روزانہ سبق سننے سے پہلے ہر ایک سے یہ سوال بھی کرتا ہوں کہ اس نے نماز پڑھی یا نہیں؟ بلکہ بعض جگہ پر تو میرا یہ اصول ہے کہ ایک بھی نماز چھوٹ جانے پر سبق نہیں سنتا ہوں اور انہیں تادیبا تھوڑا مارتا بھی ہوں۔ الحمد للہ اس سختی کے کافی مثبت نتائج بھی مجھے دیکھنے کو ملے ہیں۔
پس اسی طرح میں آج ایک جگہ پڑھانے گیا اور معمول کے مطابق نماز کے متعلق سوال کیا۔ دس سالہ ایک بچی فاطمہ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کل عشاء کی نماز نہیں پڑھی تھی۔ مگر اس کے 8 اور 12 سالہ دونوں بھائیوں کا کہنا تھا کہ اس نے عصر کی نماز بھی نہیں پڑھی ہے۔ میں نے اس سے پوچھا تو اس نے اس الزام کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میں نے عصر کی نماز پڑھی ہے لیکن اس کے دونوں بھائی اب بھی اسی بات پر بضد تھے کہ فاطمہ نے عصر کی نماز نہیں پڑھی۔

کچھ دیر تک آپس میں یونہی بحث ہوتی رہی یہاں تک کہ فاطمہ نے آخر میں ایک ایسا جملہ بولا کہ مجھے ان دونوں (بھائیوں) کو چپ کروانا پڑا۔ چونکہ فاطمہ کے پاس نماز پڑھنے کا کوئی اور ثبوت نہیں تھا اس لیے اس نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہی ہے تو چلو دو پرچیاں بناؤ ایک میں لکھو کہ ”نماز پڑھی ہے“ اور دوسری میں لکھو ”نماز نہیں پڑھی“ اور پھر قرعہ اندازی کرو تم دیکھ لینا کہ میں وہی پرچی اٹھاؤں گی جس میں لکھا ہوگا کہ "نماز پڑھی ہے”۔
یقین جانیں فاطمہ کے اس جملے سے مجھے اتنا تعجب نہیں ہوا جتنا تعجب مجھے اس کے اس اعتماد سے ہوا کہ جس اعتماد کے ساتھ اس نے یہ جملہ بولا تھا۔ وہ اپنے لہجہ اور موقف میں اس قدر پر اعتماد تھی جیسے کوئی شخص دن کو دن اور رات کو رات کہنے میں پر اعتماد ہوتا ہے کہ ذرہ برابر کسی شک و شبہ کی گنجائش اس کے اندر نہیں پائی جاتی۔
حالانکہ یقین تو مجھے اس کے اوپر پہلے سے تھا کیونکہ وہ جھوٹ نہیں بولتی ہے مگر جب اس قدر اعتماد ، بھروسے اور اللہ پر توکل کے ساتھ اس نے یہ جملہ کہا تو پھر لیطمئن قلبی کے تحت میں نے بھی سوچا کہ کیوں نہ اسی وقت اس کے کہے پر عمل کر لیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی اور جائے اور انکار کرنے والوں پر حجت قائم ہو جائے۔
پس میں نے بنا کسی کو بتائے اپنی جیب سے چپکے سے دس کا سکہ نکالا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ میں مٹھی میں اس نیت سے چھپا لیا کہ اگر اس نے نماز پڑھی ہوگی تو وہ اسی سکے والے ہاتھ کو کھولے گی۔ پھر میں نے دونوں ہاتھ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ اب ان میں سے کسی ایک کو ٹچ کرو۔
دونوں بھائی بھی یہ منظر دیکھ رہے تھے (واضح رہے کہ اب تک کسی کو پتہ نہیں تھا کہ میں کرنے کیا والا ہوں)۔ پھر آخر کار وہی ہوا جس کا مجھے بھی یقین تھا اور جو ہونا بھی چاہیے تھا یعنی فاطمہ نے میرے بائیں ہاتھ کو ٹچ کیا پھر میں نے سب کے سامنے مٹھی کھولی تو اس میں سکہ موجود تھا تب میں نے اسے بتایا کہ میں نے یہ سکہ یہی سوچ کر رکھا تھا کہ اگر تم نے سکہ والے ہاتھ کو ٹچ کیا تو تم نے نماز پڑھی ہے اور اگر مٹھی خالی ہوئی تو تم نے نماز نہیں پڑھی۔ الحمد للہ تم نے بالکل صحیح ہاتھ کو ٹچ کیا ہے۔ یہ سن کر وہ بے حد خوش ہوئی اور بے چارے دونوں بھائی نگاہیں جھکا کر خاموش ہو گئے۔ میں نے ان سے کہا کہ دیکھا میں کہہ رہا تھا نا کہ اس نے نماز پڑھی ہے مگر تم مان نہیں رہے تھے بلکہ الٹا اس پر الزام لگا رہے تھے۔ اب آ گیا نا یقین،اب تو سمجھ گئے نا کہ وہ سچ کہہ رہی تھی اور اس نے واقعتاً نماز پڑھی تھی۔

یقیناً سچ بات ہے کہ بعض انسان بچپن میں ہی اپنے رب کو پا لیتے ہیں اور اسے حقیقی طور پر پہچان لیتے ہیں جبکہ بعض لوگ بڑے ہو کر بھی بلکہ اپنی پوری زندگی گزار کر دنیا سے رخصت بھی ہو جاتے ہیں مگر اپنے رب کو نہیں پا پاتے اور نہ ہی اسے اس طرح پہچان پاتے ہیں جس طرح اس کے پہچاننے کا حق ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close