مضامین

درویش صفت رہنماءعبدالقیوم انصاری (یوم وفات کے موقع پر خاص مضمون) محمد عارف انصاری

عبدالقیوم انصاری ؒمرحوم کے یوم وفات کے موقع پر خاص مضمون
ولادت یکم جولائی 1905…………وفات18جنوری1973
درویش صفت رہنماءعبدالقیوم انصاری
محمد عارف انصاری

مجاہد آزادی عبدالقیوم انصاری ایک ایسے عظیم عوامی رہنماءوسیاست داں تھے جو زندگی بھر سماجی انصاف اوراخوت و رواداری کے لئے کام کرتے رہے۔انہوں نے اس وقت میدان سیاست میں قدم رکھا تھاجب ملت اسلامیہ ہندذات و برادری اور طبقہ واریت کے شکنجے میں تھی اور بعض مسلم جاگیر داروں و زمینداروں نے اپنے مفاد میں برادران وطن کی طرز پر ملت کا شیرازہ بکھیررکھا تھا۔انصاری صاحب کی دور رس نگاہوں نے دیکھا کہ ملت کا ایک طبقہ جو مستفیض اورآسودہ حال ہے جبکہ دوسرا طبقہ مفلوک الحال اور پریشان حال ہے۔انہوں نے جلد ہی محسوس کرلیا کہ جب تک اس مفلوک الحال طبقے کو منظم و متحد کرکے تعلیمی، معاشی،سماجی اورسیاسی طور سے بیدار نہیں کیا جائے گا تب تک مسلمانوں کے درمیان پیدا شدہ نچ نیچ کے خلاءکو پاٹا نہیں جا سکتا۔اس لئے انہوں نے ان دنوں جاری کل ہندمومن کانفرنس جو مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی کی نمائندہ تنظیم تھی کے فلیٹ فارم سے مسلم معاشرے میں حاشیہ پر کھڑے طبقے کی حمایت میں اپنی جدو جہد کا آغاز کیا ۔یہ وہی کل ہند مومن کانفرنس تھی جو جنگ آزادی ہند میں اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ہی مسلم لیگ کی فرقہ پرستی پر مبنی سیاست اور دو قومی نظریے کی سخت مخالفت کر رہی تھی۔
عبدالقیوم انصاری جب ہائی اسکول ہی میں تھے تو علی برادران کے زیر اثر تحریک خلافت اور عدم تعاون میں شامل ہوگئے۔ محض15 سال کی عمر میں آل انڈیا خلافت کمیٹی ‘شاہ آباد کے جنرل سکریٹری مقرر ہوئے اور کلکتہ میں انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس میں شاہ آباد ضلع کی نمائندگی کی۔ برطانوی حکومت نے انہیں”خطرناک“قرار دیا اور 1922 میں گرفتار کر لیا۔ بعد میں کئی مواقع پر انہیں سلاخوں کے پیچھے گزارنے پڑے۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے احتجاجی جلوس میں بڑے ہی پر جوش انداز میں شریک ہوتے ۔ انہوں نے مسلم لیگ کی فرقہ پرست سیاست کے خلاف مہم چلائی اور لوگوں کو سمجھایا کہ قوم کی تقسیم کا فائدہ صرف دولت مند سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور مفاد پرست سیاستدانوں کو ہوگا۔مسلم لیگ جو تقسیم کی سیاست کررہی تھی اس کے رہنماﺅں نے ہر چند کہ انہیں ذات برادری کے نام پر بدنام کرنے کی کوششیں بھی کیں لیکن ایک وقت ایسا بھی بھی آیا کہ ملک کے سرخیل مسلم رہنماﺅں میں ان کا شمار ہونے لگا۔
انصاری صاحب مسٹر جناح کے دو قومی نظریے اور تقسیم ہندکے سخت مخالف اورنگریس کی پالیسیوں کی حامی تھے۔انصاری صاحب کی شخصیت کا اندازہ اسی ایک واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب سر کرِپس اپنے مشن پرہندُستان آئے تو انہوں نے دریافت کیا کہ مسٹر جناح کے مقابلے میں کانگریس کے ساتھ وہ کون سے مسلم رہنما ہیں جو مسلمانوں کے کسی نہ کسی حصے کی ترجمانی ورہنمائی کرتے ہیں اورمسلم لیگ اور جناح کے خلاف مسلم عوام کے ایک حصہ کو کانگریس کی جنگ آزادی میں شریک کرسکتے ہیں؟ پنڈت جواہر لعل نہرو نے خان عبدالغفار خان ، مولانا حسین احمد مدنی اور عبدالقیوم انصاری کے نام لئے تھے۔ کانگریس کے حمایتی یہی تین مسلم رہنما ءتھے، جن کے پیچھے مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ مگر ان تینوں میں انصاری صاحب ہی وہ واحد رہنما تھے جنہیں محنت کش اورمسلم معاشرے کے آخری صفوں میں کھڑے عوام کے ایک بڑے حصے کی تنظیمی قوت کی حمایت حاصل تھی۔
عبدالقیوم انصاری قومی اتحاد و یکجہتی، ایک قومی نظریہ یعنی متحدہ ہندوستانی قومیت، سیکولرازم کی بقا، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن کے استحکام کے لئے ہمیشہ جدوجہد کرتے رہے۔جداگانہ حق رائے دہی کی بنیاد پر ہوئے 1946 کے بہار صوبائی اسمبلی انتخاب میں مومن کانفرنس کوانتخابی میدان میں اتار دیا۔ اسمبلی کی چالیس مسلم نشستوں میں عبدالقیوم انصاری اور ان کے پانچ رفقا کار مومن کانفرنس کے امیدوار کی حیثیت سے مسلم لیگ کے خلاف کامیاب ہوئے۔ اس اسمبلی انتخاب میں کانگریس پارٹی صرف ایک مسلم نشست مومن کانفرنس کی حمایت سے حاصل کرسکی تھ ی۔ان کی سیاسی طاقت کے مد نظر کانگریس قیادت نے شری کرشن سنگھ کی قیادت میں بہار میں تشکیل پانے والی حکومت میں انہیں کابینہ میں شامل کرنے کا ارادہ کیا۔ مگر مولانا آزاد نے انصاری صاحب کے سامنے مومن کانفرنس کو کانگریس میں ضم کردینے کی شرط رکھ دی جسے انہوں نے ٹھکرادیا۔ اس کے سبب انصاری صاحب کوکابینہ میں شامل نہیں کیا جاسکا۔ مگر جلد ہی سردار ولبھ بھائی پٹیل نے مداخلت کی اورجواہر لعل نہرو سے اس سلسلے میں بات کر کے انہیں قائل کیا تو انصاری صاحب پہلے غیر کانگریسی وزیر کے طور پر کابینہ میں شامل کئے گئے۔
اگرچہ کہ انصاری صاحب 1952 کے انتخابات میں شکست کھا گئے تھے، لیکن وہ 1962 اور 1967 میں جیت گئے اورپھر راجیہ سبھا کے لئے بھی منتخب ہوئے۔ وہ مختلف وزارتی عہدوں پر فائز رہے اورپوری ایمانداری و دیانتداری کا ثبوت پیش کیا۔بالخصوص سماج کے حاشیے پر کھڑے طبقات جن کی پرزور حمایت کی بدولت بساط سیاست پر چھائے رہے انہیں کبھی فراموش نہیں کیا بلکہ ان کے مفادات و فلاح کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے۔ انہوں نے مختلف تنظیمیں اور انجمنیں بنا کر محروم طبقات کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اردو کی ترویج و واشاعت اور فروغ میں حصہ لیتے ہوئے صحافت اور مختلف ادبی خدمات انجام دیں۔ اس تعلق سے انہوں نے الاصلاح، مساوات اور تہذیب وغیرہ رسالو ں کا اجرا و ادارت کی۔وہ شعرو ادب میں دلچسپی رکھتے تھے اور حاوی ان کا تخلص تھا۔ انہوں نے 1940 سے 1957 تک پٹنہ یونیورسٹی میں سینیٹ کے ممبر اور 1951-1952 تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بورڈ کے ممبر کے طور پر کام کیا۔ وہ راجیہ سبھا کے لئے منتخب ہوئے ۔ اپنی مصروف سیاسی اور علمی سرگرمیوں کے باوجود انہیں جانوروں اور پرندوں کو پالنے کا بہت شوق تھا اور بہار کی زولوجیکل سوسائٹی کے چیئرمین کے طور پر ایک طویل عرصے تک کام کیا۔
انصاری صاحب عوام کی خدمت کے لئے ہر لمحہ کمر بستہ رہتے تھے۔ غریبوں کی مالی امدادکرنے،بہتوں کو مہاجنوں کے پنجے سے بچانے اوراور بیگاری و بندھوا مزدوری سے نجات دلانے کے ساتھ ہی غریب بنکر وں کی فلاح و بہبود کے لئے کوآپریٹو سوسائٹیاں قائم کروائیں اوردیگربہت سے مثبت اقدامات کئے۔نادار طلباءکو وظائف دلوانے کے ساتھ ہی ضروری تعلیمی اصلاحات کروائیں اور بی ایم سی مکتب کھلوائے جن کی وجہ سے لاکھوں طلباءکا مستقبل روشن ہوا۔ زندگی بھر ہندو مسلم اتحاداور سماجی و قومی ہم آہنگی کے لیے کوششیں کرتے رہے۔تاحیات مجاہدانہ و درویشانہ زندگی بسر کی جس کی لوگ مثال دیتے ہوئے نہیں تھکتے۔ ان کے عادات و اطوار، سادگی ،حلیم،بردباری، دین داری و پرہیز گاری اور بے باکی وحق گوئی کی دنیا قائل ہے جو انہیں اپنے بزرگوں سے ورثے میں ملی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ یکساں طور سے سماج کے ہر طبقہ کے اندر محبوب و مقبول تھے۔ بالآخر اپنے عہد کا یہ عظیم رہنما ءعوام کی خدمت کرتے ہوئے18 جنوری 1973ءکو اپنے حلقہ انتخاب میں باندھ ٹوٹ جانے کے سبب آنے والے سیلاب سے تباہ شدہ عوام کے درمیان ریلیف تقسیم کروانے کے دوران اچانک حرکتِ قلب رُک جانے کی وجہ سے وفات پا گئے اورڈہری آن سون میں سپردخاک کئے گئے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button