دربھنگہ

کورونا وبا کی دوسری لہر قیامت سے کم نہیں، لوگ اپنے گھروں میں رہیں احتیاط برتیں : نظرعالم

دربھنگہ،22/اپریل(ممتازاحمدحذیفہ)اس وقت پوری دنیا میں لوگ کورونا کی بیماری کے نام پر پریشان ہیں ہر چہار جانب موت ہی موت کی چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے۔ بعض اوقات تو موت کی خبر سے مانو خودکی روح نکل جائے، کچھ موت کی خبر پر تو یقین ہی نہیں ہوتا۔ ملک ہندوستان میں تو الگ ہی نظارہ بنا ہوا ہے۔ لوگ نفسی نفسی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ حالت یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ لوگ اپنے پرائے، رشتہ دار تو دور اپنے سگے رشتہ دار کی مدد اور تعاون سے بھاگ رہے ہیں جبکہ اس طرح کے حالات میں تو لوگ انسانیت کے ناطے ایک دوسرے کی بڑھ کر مدد کرتے ہیں لیکن پتہ نہیں یہ کیسی بیماری اور کیسی وبا ہے جس نے لوگوں سے انسانیت تک چھین لیا ہے۔ لوگ اپنے پرائے کی بیماری کی خبرگیری کرنا تو دور موت کے بعد بھی اپنوں کو اپنانے اور قبرستان تک پہنچانے سے بھاگ رہے ہیں۔ عبادت گاہوں کو حکومت نے بند کررکھا ہے لوگ اپنے اپنے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر بھی کررہے ہیں اور یہی بہتر بھی ہے ایسے حالات میں اپنے اپنے گھروں میں زیادہ وقت گزاریں باہر بہت ہی ضروری کام سے ہی نکلیں۔ حکومت ہند ہو یا ریاست کی حکومتیں سب اس وبا کے نام پر عوام کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔ جو سہولیات یا اس بیماری سے نپٹنے کے لئے جو بھی صحت سے جڑی ہوئی اقدامات ہونی چاہئے وہ حکومت مہیا کرانے میں پوری طرح سے ناکام ہوچکی ہے۔ اس وقت جو ملک ہندوستان کی حالت ہے اس میں کوئی کسی کے لئے کچھ نہیں کررہا ہاں البتہ لوگوں کو خودہی اس بیماری پر قابو پانے کے لئے ہرممکن احتیاط برتنی پڑرہی ہے اور جب تک یہ وبا ختم نہ ہوجائے تب تک خودہی احتیاط برتنی بھی ہوگی۔ مذکورہ باتوں پراظہار خیال کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدر نظرعالم نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے نام پر لگاتار ہاسپٹل ہو یا گاؤں شہر محلہ موت کی خبروں نے سکون چھین رکھا ہے۔ کبھی اپنے قریبی، کبھی اپنے دوست احباب، کبھی ملک کی سرکردہ شخصیات، کبھی مفکراسلام، کبھی امیرشریعت، کبھی خودکے رشتہ دار، کبھی علماء کرام، کبھی افسانہ نگار، کبھی شعرا کرام، کبھی تعلیمی میدان میں کام کرنے والی شخصیات، کبھی ملک کی مایہ ناز ہستیاں تو کبھی غربت و افلاس میں زندگی گزارنے والوں کی لگاتار موت کی خبروں نے تو پوری طرح سے سکون چھین ہی رکھا تھا کہ اسی بیچ دربھنگہ شہر کے محلہ پرانی منصفی کے رہنے والے ہم لوگوں کے گارجین الہ آباد بینک کے سابق مینجر انظار احمد ہاشمی صاحب کے گھر سے ایک ایسی خبر آئی مانو خودکی روح نکل گئی۔ جس وقت سے یہ خبریں آئی مانو جسم صرف کام کررہا ہے دماغ نے پوری طرح سے کام کرنا بند کردیا ہو۔ لوگوں کی باتوں پر یقین نہیں ہورہا تھا اسی بیچ میں نے اپنے عزیز روزنامہ قومی تنظیم دربھنگہ کے بیورو چیف صحافی منصور خوشتر کو فون لگادیا اور ادھر سے جس طرح کی چیخ و پکار اور رونے کی آوازیں آرہی تھیں فون بھی ہاتھوں سے چھوٹ گیا۔ ایک ساتھ ایک ہی گھر سے نوجوان بیٹا اور ماں کی موت کی خبر نے پوری طرح سے توڑ دیا۔ مرحومہ اور نوجوان اشتیاق ہاشمی دونوں ہی صحافی منصور خوشتر کے بہت قریبی رشتہ داروں میں تھے۔ اشتیاق سالا تو مرحومہ ساس لگتی تھیں۔ میرا خود بھی اس گھر سے بہت قریبی لگاو ہے مرحومہ کے جیتے جی نہ جانے کتنی بار وقت بے وقت کھانا کھانا اہل خانہ کے ساتھ ہرطرح کے دکھ درد میں شریک رہنا۔ مجھے اس عظیم سانحہ نے توڑ دیا۔ اللہ ایسے حالات سے نپٹنے کی ہر شخص کو ہمت دے۔ لگاتار اپنے لوگ بچھڑ رہے ہیں کبھی کبھی تو لگاتار اچانک سے ایسی موت کی خبریں ملتی ہے کہ ذہن میں الگ الگ طرح کے خیالات ابھرنے لگتے ہیں کہیں سازش کے تحت تو نہیں اس وبا کی آڑ میں مسلمانوں کو مارا جارہا ہے لیکن کیا کروں حالات ایسے ہیں کہ اس پر وقت سے پہلے کچھ بھی بولنا مناسب نہیں۔ اس لئے پوری انسانیت کے ساتھ ساتھ تمام امت مسلمہ سے اپیل ہے کہ وہ اس وقت ملک کے جو حالات ہیں اس سے بالکل ہی نہ گھبرائیں، ڈٹ کر ہمت کے ساتھ مقابلہ کریں، بیمار اور پڑوسی کی ہرممکن مدد کریں، وطنی بھائی بھی اگر پریشان ہیں تو انسانیت اور ہمارا مذہب کہتا کہ اس کی بھی مدد کی جائے، ہمارا یقین ہے کہ موت کا وقت طے ہے اس لئے ہرگز اس بیماری سے پریشان اور گھبرانے کی ضرورت نہیں، اللہ پر بھروسہ رکھیں ہر پریشانی کے بعد بہتر راستہ نکلتا ہے۔ اللہ پاک اپنے بندوں کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے جلد سے جلد اس وبا سے لوگوں کو چھٹکارا دلائیں گے۔ رمضان کا پاک مہینہ ہے ہم سبھی لوگ مل کر خصوصی دعائیں کریں تاکہ اللہ پاک اس وبا سے پوری دنیا کے لوگوں کو محفوظ کردے۔ صحافی منصور خوشتر کی ساس اور سالا اشتیاق ہاشمی کی ایک ہی دن موت ہوجانے سے پورا متھلانچل غم میں ہے۔ نظرعالم نے بتایا کہ اس دکھ کی گھڑی میں ہم اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور اللہ سے دعا گو ہوں کہ جو بھی لوگ دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں اللہ پاک سبھوں کی مغفرت فرمائے۔ اس عظیم سانحہ پر اظہار تعزیت کرنے والوں میں دربھنگہ شہر کی عظیم شخصیت مشہور و معروف سرجن مرحوم ڈاکٹر عبدالوہاب صاحب کے بڑے صاحبزادہ ڈاکٹر احمد نسیم آرزو، مدرسہ بورڈ کے سابق چیئرمین مولانا اعجاز احمد، شکیل احمد سلفی، ڈاکٹر آفتاب عالم، رضی اختر، شاہد رب، انجینئر فخرالدین قمر، صحافی رفیع ساگر، صحافی سیف الاسلام، فوڈ کارپوریشن کے سابق چیئرمین الحاج محمد عطاکریم، حافظ محمد گلاب، سید تنویر انور، ماسٹر محمد اشرف، مولانا سمیع اللہ ندوی، مولانا اسعد رشید ندوی، مفتی آزاد ساحر قاسمی، ذیشان اختر قاسمی، احمد بشر، ذکی احمد دلو، محمد نورعین، راجاخان، مطیع الرحمن موتی، ہیرا نظامی، ڈاکٹر راحت علی، سینئرلیڈر زاہد رضا، حاجی محمد کلام سمیت سیکڑوں لوگوں کے نام شامل ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close