دربھنگہ

دربھنگہ: جالے ہاٹ میں اصلاحِ معاشره کانفرنس کا انعقاد:شبِ براءت میں مُردوں کی روحیں گھروں میں نہیں آتی ہیں: اسعداللہ قاسمی مظاہری

جالے ،دربھنگہ (نمائندہ)مورخہ14/شعبان1442ھ مطابق 28/مارچ 2021ءبروزبعدنماز عشاء شب براءت کے موقع پر محلہ فردوس جالے ہاٹ میں اصلاحِ معاشره کانفرنس کے عنوان سے ایک حسین بزم کاانعقادہوا،جس کی سرپرستی جناب مولانامظفراحسن رحمانی امام وخطیب جامع مسجد جالے نے فرمائی،جب کہ حافظ جنید احمد صدیقی نے فریضۂ نظامت سرانجام دیا،اس بزم کاآغاز قاری مرزافیصل بیگ کی تلاوت سے ہوا،جب کہ شاعرِ خوش الحان قاری احمد کریمی اور مدّاحِ رسول حافظ شاداب نے نعتیہ کلام سے سامعین کومحظوظ فرمایا،پروگرام میں مختلف موضوعات پرمتعددقابلِ قدرعلماء کے بیانات ہوئے،جن میں مفتی محمد عامر مظہری ناظمِ تعلیمات دارالعلوم سبیل الفلاح جالے،مولانا نظر الاسلام امام وخطیب مسجد عمرفاروق درزی محلہ جالے، مفتی رضوان ندوی امام مسجد سیدنا بلال جالے،مفتی افروز قاسمی امام وخطیب مدینہ مسجدجالے ہاٹ قابلِ ذكرہیں۔

ان کے علاوہ اس بزم میں موقع کی مناسبت سے شب براءت کے عنوان پر جیّدعالم دين مفتی اسعداللہ قاسمی مظاہری استاد تفسیر وادب وصدالمدرسین جامعہ امّ الہدی پرسونی مدہوبنی بہار و ڈائریکٹر دارالسّلام فاؤنڈیشن دربھنگہ بہار کاپُرمغزعلمى خطاب ہوا،مفتی صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ:شب براءت کے بارے میں لوگ افراط وتفریط کے شکار ہیں،کچھ لوگ بعض روایات کے ضعیف ہونے کی بناء پراس رات کی اہمیت کاسرے سے انکارکردیتے ہیں، جوکہ صحیح نہیں ہے،کیوں کہ اس رات کے بارے میں دس صحابہ کرام سے احادیث مروی ہیں،جس سے بعض ضعیف روایتوں کا ضعف خود ختم ہوجاتاہے،کیوں کہ حضرات محدثین اور فقہاءکا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو لیکن اس کی تایید بہت سی احادیث سے ہوجائے تو اس کی کمزوری دور ہوجاتی ہے،وہیں کچھ لوگ اس رات کے بارے میں من گھڑت فضائل بیان کرتے ہیں اور خودساختہ طریقۂ عبادت اپناتے ہیں،بدعات وخرافات میں مبتلا ہوتے ہیں،یہ طریقہ بھی غلط ہے،کیوں کہ اس رات میں عبادت کاکوئی مخصوص طریقہ نہیں ہے،اور نہ ہی شریعت میں بدعات وخرافات کی گنجائش ہے۔اس لیے فی نفسہ اس رات کی اہمیت ثابت ہے ،اس لیے خرافات سے بچتے ہوئے اس رات کو عبادت میں گزارناچاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پین کارڈ کو آدھار سے لنک کرنے کا آج آخری دن، نہیں کیا تو بھرنا ہوگا جرمانہ

مفتی صاحب نے اپنے بیان میں اس عقیدہ کوبھی پُرزور انداز میں ردکیا جو سماج میں رائج ہےکہ اس رات میں مردوں کی روحیں ہمارے گھروں میں آتی ہیں،انہوں نے کہاکہ برزخ کی زندگی میں روحیں نعمت میں ہوں گی یاعذاب میں ،اگرنعمت میں ہوں گی تووہ اس نعمت کو چھوڑکر تمہارے گھروں میں کیوں آئیں گی!! اوراگر عذاب میں ہوں گی تو عذاب کے فرشتے انہیں چھوڑکیسے دیں گے کہ وہ تمہارے گھروں میں آئیں گی!!اس کے علاوہ بھی انہوں نے شب براءت میں رائج خرافات کی نشاندہی کی،اس پروگرام میں ضلع پریشدجناب نریش چودھری کابھی مختصر خطاب ہوا،جس میں انہوں نے جہاں سامعین کو شب براءت کی مبارکباددی،وہیں انہوں نے ہندومسلم اتحاد پرزور دیا،اس بزم کو منعقد کرنے میں حافظ محمد قمر عالم اور مفتی محمد افروزقاسمی سمیت نوجوانانِ فردوس محلہ نے اپنا اہم کرداراداکیا،اس محلے میں یہ پہلا دینی پروگرام تھا،اس لیے محلہ کے لوگ کافی پُرجوش نظرآرہے تھے ،اور بستی کی اہم شخصیات اس میں موجود تھیں۔شبِ براءت کے پیشِ نظر ٹھیک 12/بجے شب اس بزم کااختتام مولانا نظرالاسلام کی پرسوز دعاؤں پر ہوا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close