دیوبند

دارالعلوم وقف دیوبند کے مجلس مشاورت کے رکن مولانا زکریا نانوتوی کا انتقال،متعلقین میں غم واندوہ کا ماحول

دیوبند، 28؍ مئی (رضوان سلمانی) دارالعلوم وقف دیوبند کے مجلس مشاورت کے رکن اور نانوتہ کی جامع مسجد کے امام وخطیب مولانا زکریا نانوتوی کا مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کی خبر سے متعلقین میں غم کی لہر دوڑگئی ، دارالعلوم وقف سمیت تعلیمی اداروں کے ذمہ داران نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔ تفصیل کے مطابق مولانا زکریا نانوتوی (80سال) گزشتہ رمضان سے بیمار چل رہے تھے ،

اطلاع کے مطابق 10دن قبل وہ دہلی کے ایس کورٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں آج انہیں ڈاکٹروں نے جواب دیدیا ، جس کے بعد آبائی وطن نانوتہ لے آیا گیا۔ آج شام ساڑھے پانچ کے قریب انہوں نے آخری سانس لی، ان کے انتقال پر دارالعلوم وقف کے مہتمم مولانا سفیان قاسمی نے کہا کہ دارالعلوم وقف دیوبند اپنے ایک محسن اور مؤقر رکن مشاورت سے محروم ہوگیا ۔

مولانا مرحوم اپنی صائب رائے ، طویل تجربات کی بنا پر دارالعلوم وقف کے لئے بہترین مشیر اور مخلص انسان تھے ۔ حضرت نانوتوی سے وطنی تعلق کی بنا پر خانوادۂ قاسمی سے ان کے مخلصانہ مراسم رہے اور انہوں نے ہمیشہ اپنی خدمات اور کاموں سے اس کا اظہار بھی کیا۔ یہ بڑا حادثہ ہے اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کو اعلیٰ علیین میں جگہ مرحمت فرمائے اور پیچھے رہ جانے والوں کو صبر وثبات کی دولت عطا فرمائے۔

مولانا احمد خضر شاہ مسعودی شیخ الحدیث وقف دارالعلوم نے کہا کہ مولانازکریا نانوتوی دارالعلوم دیوبند کے قدیم فاضل تھے اور فضلائے دیوبند کی ہمیشہ جو امتیاز ی شان رہی ہے وہ اس کے حامل تھے ، قصبہ میں ان کی دینی اور عملی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ دارالعلوم وقف سے ان کی مخلصانہ وابستگی رہی ، ان کے بصیرت مندانہ رائے اور مشورہ ہمیشہ کارآمد ثابت ہوا۔

اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کو اس جہان کی تمام نعمتوں سے نوازے اور اہل خانہ اور متعلقین کو صبر کی توفیق عطا فرمائے۔ ممتاز ادیب مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ نانوتہ میں مولانا زکریا دیوبندی فکر کے بڑے ترجمان تھے، انہیں اکابر دیوبند سے والہانہ محبت تھی جس کا اظہار مختلف اوقات میں مجلسوں اور جلسوں کی صورت میں ہوتا رہتا تھا ۔ مولانا کی مؤقر شخصیت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی ۔ مرحوم کی نماز جنازہ رات ساڑھے دس بجے قصبہ نانوتہ میں ادا کی جائے گی۔ پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیا ںہیں۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button