مضامین

خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان ایک لمحئہ فکریہ : محمد قمر الزماں ندویؔ

مــحــمــد قمــرالـــزماں نــــدوی
اســـــتاذ:
مـدرسـه نـــور الاســلام کنــڈہ پـرتاپــگــڑھ

مندرجہ ذیل تحریر لاک ڈاؤن کے وقت کی لکھی ہوئی ہے، جس وقت حالات سے تنگ آکر خودکشی کے واقعات کثرت سے پیش آرہے تھے، آج جب مولوی صادق مرحوم کی خود کشی کا واقعہ سنا تو دل و دماغ اور قلب پر بہت اثر ہوا، متضاد خبروں نے اور پریشان کردیا، بہر حال سچائی سامنے آئی اور جو غلط فہمی پھیلائی جارہی تھی، اس پر بند لگا۔ اس واقعہ کے پس منظر میں یہ پرانی تحریر قند مکرر کے طور پر پیش کر رہے ہیں، تاکہ ہم سب اس شنیع عمل اور گناہ کے بارے میں جانیں اور لوگوں کو اس کی شناعت بتائیں اور اس کے اسباب و عوامل پر غور کرکے لوگوں کو اس سے روکنے کی کوشش کریں۔ آج کے واقعہ پر اصل تحریر دیر رات تک ہم پوسٹ کریں گے۔ م ق ن
اس وقت ملک عزیز ہندوستان اپنی تاریخ کے سب سے تاریک اور مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، سماجی اور معاشرتی میدان میں تنزلی کی آخری کگار پر ہے۔سیاسی ، معاشی اور دفاعی اعتبار سے بھی آج کی سیاست سب سے نچلے مقام پر آگئی ہے، آزاد بھارت اپنے عھد کی سب سے کمزور پوزیشن کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ سرحد پر دراندازی ہورہی ہے، چین ہمیں کمزور کرنے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے، نیپال جیسا چھوٹا سا ملک ہمیں آنکھیں دکھا رہا ہے، کل چینی افواج کی جھڑپ میں ہمارے تین فوجی اہلکار مارے جاچکے ہیں، ملک کی معیشت چرمرا گئی ہے،بہت سےلوگ دانے دانے کو ترس رہے ہیں،روز گار بند ہیں،علمی میکدے بھی سب بند ہیں،بچے آزاد گھوم رہے ہیں،یہ سب کچھ ہو رہا ہے پھر بھی میڈیا اور صحافت کو سانپ سونگھ گیا ہے، وہ اس جانب کوئی دھیان نہیں دے رہی ہے۔حکومت منظر نامہ سے غائب ہے اور اپنی ذمہ نبھانے اور ٹھوس پالیسی اختیار کرنے سے پہلو تہی اپنا رہی ہے۔
لاک ڈاؤن اور کورونا کی مار جھیلتے جھیلتے عوام ابھی تک بدحال ہوتی جارہی ہے، غربت اور بے روزگاری نے گھریلو مسائل میں اضافہ کردیا ہے، ایک بڑی تعداد ڈپریشن کی شکار ہے، میاں بیوی اور خاندانی لڑائی میں اضافہ ہوا ہے، لوگ ٹینشن میں خود کشی تک کرنے لگے ہیں، بلکہ ان حالات میں خود کشی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، غربت کی وجہ سے لوگ جان دے رہے ہیں تو دوسری طرف مالدار گھرانے کے لوگ بھی ذھنی تناو، موجودہ ملکی حالات ، اور مذھبی بیدھ بھاو کی وجہ سے اپنی جان گنوا رہے ہیں۔
ایسے نازک موقع پر ملک کی انتطامیہ اور ذمہ دار شہری کو سر جھوڑ کر بیھٹا چاہیے تھا، اور اس مشکل کا حل نکالنا چاہیے تھا، ایسا نہ کرکے لا یعنی اور غیر ضروری کاموں میں توانائی صرف کی جارہی ہے، ہندو مسلم فیلنگ کو ہوا دیا جا رہا ہے، مذھبی جنون کو بھڑکایا جارہا ہے اقلیتوں کو ستایا جارہا ہے ۔ انسانیت کے رشتہ کو توڑا اور کمزور کیا جارہا ہے۔ غرض یہ ملک اپنے انجام کی آخری حد تک پہونچتا جارہا ہے اور بہت کم لوگ خطرے کو محسوس کرکے حالات کی درستگی کے لیے سامنے ارہے ہیں۔
دوسروی طرف ہم لوگوں کو یہ نہیں سمجھا پا رہے ہیں کہ زندگی بہت بڑی نعمت ہے، اس نعمت کا دنیا میں کوئی بدل نہیں ہے، اس کے جانے کے بعد دنیا میں یہ پھر دوبارہ نہیں آتی۔ انسان یہ نعمت اپنی کوشش اور محنت سے حاصل نہیں کرتا، بلکہ زندگی خدا کی طرف سے ایک بڑی نعمت اور عظیم عطیہ اور گفٹ ہے، زندگی وہ عطیہ ہے جو تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود ایک سربستہ راز ہے عقدہ لا ینحل ہے، انسان نے اپنی کوششوں سے جسم کے تمام اعضاء کی خصوصیات، اس کی فعالیت اس کی بناوٹ و ساخت اور اس کے حجم کے بارے میں بہت کچھ معلومات حاصل کرلی ہے۔ لیکن آج بھی عقل اس راز، پردہ اور گرہ کو کھولنے سے عاجز ہے اور قدرت کے راز سربستہ سے پردہ اٹھانے میں ناکام ہے کہ آخر روح کی حقیقت کیا ہے ❓۔ یہ جسم میں کیوں کر آتی ہے اور کہاں جاتی ہے۔ اور پھر کیوں داغ مفارقت دے جاتی ہے۔ آج تک سائنس اور میڈکل اس کی حقیقت سمجھنے میں ناکام ہے۔ سارے مشینی آلات بے بس ہیں۔ انسان کی یہی مجبوری اور علمی بے بسی و لاچاری اللہ کی ذات پر یقین دلاتی ہے اور ایمان میں تازگی پیدا کرتی ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن مجید میں قل الروح من امر ربی کہا گیا ہے۔( مستفاد عصر حاضر کے سماجی مسائل)
افسوس کہ ہم نے آج تک لوگوں کو زندگی کی حقیقت اور اس کے راز سے واقف نہیں کرایا اور پیدا کرنے والے کی مرضی اور پلانگ سے لوگوں کو آگاہ نہیں کیا۔ ہم لوگوں کو یہ نہیں سمجھا سکیں ہیں اور یہ نہیں بتا سکیں ہیں کہ انسان اپنے جسم کا خود مالک نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی ایک امانت ہے اور ممکن حد تک اس کی حفاظت اس کی ذمہ داری ہے، اور خود اس کو کسی بھی حال میں ضائع اور ہلاک نہیں کرسکتا۔ اگر جسم بیمار ہو تو اس کی حفاظت اور دوا 💊 معالجہ اس کی ذمہ داری ہے اور حفظان صحت کے اصول کی رعایت کرنا اس کا فرض ہے۔ اور یہ توکل کے خلاف بھی نہیں ہے۔ انسان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز ہرگز استعمال نہ کرے جو انسانی زندگی کو خطرہ میں ڈال سکتی ہو۔ کسی ایسی چیز کا کھانا جائز نہیں ہے جس سے صحت کمزور ہو۔ اسلام تو اللہ کی عبادت اور بندگی میں ایسے غلو کو پسند نہیں کرتا جو انسان کی صحت کو برباد کردے اور اس کی تازگی کو چھین لے۔
اسلام کی نگاہ میں خود کشی بہت بڑا گناہ اور سنگین جرم ہے۔ ایسا گناہ جو دنیا سے محرومی کا سبب ہے اور آخرت کی بربادی کا بھی سبب ہے۔ قرآن مجید نے خود کشی سے منع کیا، لا تقتلوا انفسکم۔ کہیں کہا گیا لا تقتلوا اولادکم خشیة املاک۔
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے اپ کو پہاڑ سے گرا کر خود کشی کی آگ میں وہ اسی طرح گرتا رہے گا۔ جس نے زہر پی کر خود کشی کیا تو وہ دوزخ میں ہمیشہ اسی طرح زہر خورانی کرتا رہے گا۔ الخ( بخاری )
آج پوری دنیا میں بے چینی اور بے کلی بڑھی ہے، لوگ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ڈپریشن کے شکار ہوئے ہیں۔ خدا فراموشی کے شکار ہوئے ہیں، زندگی کی الجھنیں، اتنی بڑھا لی ہیں کہ پیدا کرنے والے کو صرف بھولے ہی نہیں ہیں بلکہ فطرت سے اور قدرت سے جنگ اور بغاوت پر اتارو ہوگئے ہیں،جس کی پاداش میں اس قدر حواس باختہ اور مایوس ہوگئے ہیں کہ اپنے ہاتھ ✋ ہی سے اپنی جان گنوا رہے ہیں۔ پہلے یہ مرض اور بیماری والمیہ مغربی ملکوں کا تھا، لیکن اب ہندوستان اور مشرقی ممالک بھی ان سے پیچھے نہیں ہیں۔ ہندوستان میں خود کشی کے واقعات دن بدن بڑھتے جارہے ہیں لاک ڈاؤن کے بعد تو یہ سلسلہ اور زور پکڑ رہا ہے۔ مقام افسوس ہے کہ کہ مسلمان بھی اس کا شکار ہونے لگے ہیں جن کے پاس ایمان ہے، جو زندگی کی حقیقت اور اپنے پیدائش کے مقصد سے واقف ہیں۔ لیکن جب کسی کا ایمان کمزور ہوتا ہے اور اللہ کی ذات سے بھروسا اٹھ جاتا ہے اور دنیا کا خوف اس کو ستانے لگتی ہے تو وہ بھی اس جرم کا ارتکاب کرنے لگتا ہے۔
اس وقت ملک جس دور سے گزر رہا ہے۔ معیشت اور بے روزگاری جس طرح بڑھی ہے اور جس طرح لوگ بے چین و مضطرب ہیں ، ڈپریشن کے شکار ہیں اگر لوگوں کو زندگی کی حقیقت اور مقصد سے آگاہ نہیں کیا گیا، ان کے ذھنی تناو کو کم نہیں کیا اور ذھنی ڈپریشن سے نہیں بچایا گیا تو بعید نہیں کہ خود کشی کا رجحان اور سلسلہ بڑھ جائے گا اور پھر یہ سلسلہ رکنے کا نام نہ لے گا۔
لہذا ضرورت ہے کہ ہم سب خود کشی کے اخلاقی اور سماجی نقصانات سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ سماجی خدمات کے زریعے لوگوں کی ضرورتوں کو پوری کریں۔ مقروضوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کریں۔ تنگ دستوں اور فقط حال لوگوں کے مسائل کو سمجھیں۔ خاندان میں کوئی اگر کسی وجہ سے ڈسٹرب اور پریشان ہے تو اس کی ضرورت کو سمجھیں ان کی ہر طرح سے مدد کریں ان کو صحیح مشورہ دیں ۔ زندگی ایک امانت ہے اس کی حقیقت سے پوری انسانیت کو آگاہ کریں، اس حقیقت کو سمجھانے کے لیے جلسے ورک شاپ اور سمینار کریں، اسلام نے جائز اور ضروری حد تک جس تفریح اور مزاح کی اجازت دی ہے اس پر خود بھی عمل کرین اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں۔ خوشگوار زندگی گزارنے کے راز سے لوگوں کو واقف کریں۔( مستفاد از کتاب عصر حاضر کے سماجی مسائل از مولانا خالد سیف اللہ رحمانی)

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button