حیدرآباد

پورے ملک کو ایک رائے پر آمادہ کرکے ہی جمہوریت کو بچایا جاسکتا ہے : مولانا ارشد مدنی

حیدرآباد کے میڈیا پلس آڈیٹوریم میں غیر مسلم لیڈروں اور سیاسی قائدین کے ساتھ اجلاس میں خطاب
حیدرآباد ۔ 03؍مارچ 2020
شہر حیدرآباد کے میڈیا پلس آڈیٹوریم میں جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش کی جانب سے غیر مسلم لیڈروں اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کا ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ ملک میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتیں اور حکومت کے اس ایجنڈے کے بارے میں اپنا کیا خیال رکھتی ہے ان کا نظریہ کیا ہے‘ اجلاس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے شرکت کی اور اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور حکومت کے سیاہ قوانین کے ساتھ ساتھ دہلی میں ہوئے حالیہ فسادات پر شدید ردِ عمل ظاہر کیا اور یہ بتایا کہ یہ لڑائی ہر گز ہندو مسلم کی نہیں ہے بلکہ ایک منصوبہ بند سازش کا نتیجہ ہے‘ مولانا سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا کہ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ یہاں پر غیر مسلم لیڈروں نے جو اظہار خیال کیا ہے وہ تقریبا ہم سب کا ملتا جلتا خیال ہے‘ ملکی حالات میں اگر سب کو ایک رائے پر آمادہ کرلیا جائے تو جمہوریت کی بقاء بہت آسان ہوجاتی ہے‘ دہلی کا فساد اگر صحیح طرح سے دیکھا جائے تو پوری طرح پولیس ایکشن ہوا ہے‘ پولیس آگے آگے اور شرپسند عناصر پیچھے پیچھے‘ پولیس آگے سے آنسو گیس چھوڑ رہی ہے‘ آنسو گیس سے بچنے کی خاطر لوگ گھروں میں گهس کر پناہ لے رہے ہیں اور شرپسند گھروں میں گھس کر تباہی مچارہے ہیں لگے ہاتھ سڑکوں پر پیٹ پیٹ کر قتل کررہے ہیں جان مال گهر بار جائیدادوں اور مسجدوں کو نشانہ بناکر نقصان پہنچایا‘ مولانا نے کہا کہ یہ تو پھر بھی چھوٹا سا فساد ہوا ہے اور میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق 47؍لوگ فوت ہوئے ہیں‘ آزاد بھارت میں ایسے کئی فسادات رونما ہوئے ہیں آسام کا نیلی فساد جس میں پانچ ہزار لوگ فوت ہوئے تھے اور لاپتہ ہوچکے تھے‘ گودھرا کا سانحہ دیکھیے جس میں ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں گنوائی ہیں۔ لیکن دہلی فساد کے ختم ہوتے ہی یہ جو خوش کن خبریں آئیں کہ مسلمان ہندو کو بچانے میں مصروف تھا اور ہندو مسلمان کو بچانے میں مصروف تھا فسادات کے بعد گھروں میں واپس ہونے کے بعد تمام لوگ آپس میں مزید مل جل کر رہنے کا عزم کررہے ہیں یہ بہت حد تک مطمئن کرنے والی خبریں ہیں۔ اور آزاد ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ فسادات کے بعد ہندؤں کے دھرم گرو بھی مل جل کر رہنے کی اپیلیں کرتے نظر آئے۔ اگر یہ پوری قوت ایک ساتھ مل جائیں اور تمام اقلیتیں متحد ہوجائیں تو پھر آج لوگ اپنے آپ کو اکثریت کہو رہی ہیں وہ از خود اقلیت ہوجائیں گے۔ مولانا نے اپنے خطاب کے دوران وہ خط بھے پڑھ کر سنایا جو 1938ء میں کانگریس نے جمعیۃ علماء کے مطالبہ پر تیقن دلایا تھا کہ ملک اگر آزاد ہوجائے تو پھر یہاں پر گنگا جمنی تہذیب برقرار رہنی چاہیے ہر کسی کو مذہبی آزادی ملنی چاہیے‘ مسجدوں سے اذان اور نمازوں کے لیے کھلے طور پر چھوٹ ملنی چاہیے۔ مولانا نے خط سنانے کے بعد کہا کہ اس ملک کو جمہوری بنائے رکھنے کا نظریہ بھی کانگریس کو جمعیۃ علماء ہند نے ہی دیا تھا۔ جس کو بعد میں کچل کر ختم کرنے کے لیے پاکستان کو الگ کردیا گیا اور یہ کہنے کی کوشش کی گئی کہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے لیے باضابطہ ایک ملک دے دیا گیا لیکن اس نظریہ اور اس ملک کو چھوڑنے کی اکابر علماء کرام نے شدید مذمت کی اور لوگوں سے یہ اپیل کی کہ آپ اس ملک کو چھوڑ کر ہر گز نہ جائیں۔ اور آج اقتدار پر بیٹھی حکومت اس نظریہ کو چولہے میں جھونک کر ہندو راشٹر کی طرف لے جانا چاہتی ہے جو کسی بھی طرح سے یہ ملک قبول نہیں کرے گا او نہ یہاں کی عوام اس کو قبول کرے گی۔ این پی آر کے مسئلہ پر مولانا سے سوال کرنے پر مولانا نے کہا کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ جن ریاستوں میں حکومتیں خود بائیکاٹ کرنے کا اعلان کررہی ہیں وہ خوش آئند ہیں بائیکاٹ ہونا چاہیے لیکن جن ریاستوں میں حکومتیں اعلان نہیں کرتیں اور مقامی عوام ہندو مسلم سب مل کر بائیکاٹ کرتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان کے شانہ بشانہ چلیں اور سب مل کر بائیکاٹ کریں لیکن جمعیۃ علماء یہ ہر گز نہیں کہے گی کہ تنہا مسلمان اس کا بائیکاٹ کریں‘ تنہا مسلمانوں کے بائیکاٹ سے کافی نقصان ہوگا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close