حیدرآباد

حیدرآباد : مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی میں شہریت ترمیمی قانون پر مباحثہ

حیدرآباد(پریس نوٹ) مولاناآزادنیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد میں طلبہ برادری کی جانب سے جاری احتجاجی پروگرامس میں ایک ٹاک رکھا گیا جس میں فائنانس کے جانکار ڈاکٹر اعظم سکندر جنہوں نے پاونڈی چیری سے مینجمنٹ میں پی۔ایچ۔ڈی کیا ہے انہوں نے حکومت کی جانب سے حالیہ پاس کردہ بجٹ کے موضوع پر ایک بہترین اور قیمتی معلومات فراہم کیا۔ واضح ہو مولاناآزادنیشنل اردو یونیورسٹی میں مانو کورڈنیشن کمیٹی کی جانب سے CAA، NPR,اورNRCکے خلاف مسلسل ہر دن شام 5بجے سے8 بجے رات تک پروگرام چل رہا ہے۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر اعظم سکندر نے حالیہ پاس کردہ یونین بجٹ پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے اس کے فوائد اور نقصانات پر بھی روشنی ڈالی ساتھ ہی مستقبل میں یہ بجٹ کس طرح ہندوستانی کی اکنامی کو متاثر کر سکتا ہے اس پر انہوں نے مدلل معلومات فراہم کیا۔ نیز اس بجٹ سے تعلیمی میدانوں میں کیا فائدہ اور کیا نقصان ہو سکتا ہے اس پر خلاصہ کرتے ہوئے یہ بتایا کہ تعلیمی میدانوں کے لیے95ہزار کروڑ روپئے پاس کیا گیا ہے۔ اعظم سکندر صاحب نے اپنی گفتگو میں یہ وضاحت بھی کیا کہ کیسے حکومت ملک کے دیگر پروفیٹ میکنگ آرگنائزیشن کو کمزور کرنے اور اسے بیچنے کی کوشش کر رہی ہے ، اگر چھوٹی چھوٹی پرائیویٹ کمپنیاں بک جاتی ہیں تو راست بڑی بڑی کمپنیوں کو فائدہ پہونچے گا اور موجودہ حکومت یہی چاہتی ہے تاکہ اس کے ذریعہ موجودہ حکومت اپنی پارٹی فنڈ کو مضبوط کر سکیں۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اس بجٹ میں عام آدمی،مزدور اورکسان وغیرہ کو خاطر خواہ کوئی فائدہ نہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close