حیدرآباد

ابراہیمؑ اوراسماعیلؑ کی زندگی اللہ کی راہ میں قربان ہونی کاجذبہ پیدا کرتی ہے : محسن خان

حیدرآباد (راست) اللہ تعالیٰ کے حکم پرایک بوڑھا باپ اپنے نونہال فرزند کوذبح کرنے جارہا ہے۔ ساری کائنات دنگ ہے،فضاء میں خاموشی ہے، مکہ کی وادیاں خاموش ہیں ،چرندپرند سکتہ میں ہے ، عرش سے لیکر فرش تک عجیب منظر ہے۔والد کے خواب کے آگے بیٹے نے اپنا سرجھکادیااورکہاکہ دیرمت کریئے۔سبحان اللہ یہ ہوتی ہے اطاعت۔یہ ہوتی ہے اولاد کی تربیت ۔ آج ہم اپنی زندگیوں کاجائزہ لیں۔والد پربیٹے کااتنا خوف ہے کہ والدد ین کی دعوت نہیں دے پاتا۔بیٹے کوفرض،سنت،واجب اور دین کے احکامات کیا ہے پتہ نہیں۔وہ دنیا کی چکاچوندزندگی میں مصروف ہے۔ آخرت کوبھلاچکا ہے۔۔ ایسی تربیت اپنے اولاد کوہم دے رہے ہیں کہ سنت ابراہیمؑ کاتک پتہ نہیں۔ کیا والدین اپنے بچوں کو نمازپڑھنے پرزوردیتے ہیں۔ کیا سماجی برائیوں سے روکتے ہیں۔ کیا ہم نے اپنی اولاد کی ایسی تربیت دی کہ وہ اللہ کی راہ میں اپنے آپ کوقربان کردیں۔ آج کی نوجوان نسل اپنے نفس کو قربان کرنے تیارنہیں ۔

قربانی کے تین حصوں کی تقسیم میں توازن تک نہیں رکھاجاتا۔ اصل گوشت اپنے لیے محفوظ رکھاجاتا ہے اوردوسرے مستحق ،غریب ونادر لوگوں کوہڈیاں یا خراب گوشت کے ٹکڑے ڈال کردیئے جاتے ہیں۔ کیا یہ قربانی ہماری قبول ہوگی۔ اللہ کے حکم گوشت کی تقسیم میں ہم بے ایمانی کررہے ہیں توکیا بے ایمانی والی قربانی ہماری قبول ہوگی۔ ان خیالات کااظہار محسن خان نے کیا۔ قربانی، صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ہمیں تسلیم ورضا کا درس دیتی ہے۔ ہم میں ایثاروقربانی کا جذبہ پیدا کرتی ہے اوریہ یاد دلاتی ہے کہ ہمارے اطراف میں اورہمارے خاندان میں بھی لوگ غریب وبے بس ہیں ۔لاک ڈائون اورکورونا نے ان کوکھانے کھانے کا محتاج کردیاہے۔ وہ گھرکاکرایہ جمع کرنے میں فاقے کرتے ہیں اورپھٹے پیوند والے کپڑے پہنتے ہیں۔محسن خا ن نے کہاکہ آج کا انسان قربانی کا مقصد اور قربانی کے واقعے کو بھول چکا ہے۔ اصل قربانی تو باپ بیٹے کی گفتگو تھی۔ دنبہ کی قربانی تو اس کا فدیہ تھا۔ افسوس ہمیں دنبہ یاد رہا گفتگو یاد نہ رہی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close