حیدرآباد

اقلیتوں کی بھلائی میں کے سی آر حکومت بری طرح ناکام:اقلیتوں کی فلاح وبہبودپر وہائٹ پیپر جاری کیا جائے : ایس کے افضل الدین اورسید علی شہریار

حیدرآباد13اپریل(ہندوستان اردو ٹائمز) ممتاز کانگریس قائیدین جناب ایس کے افضل الدین جنرل سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس پارٹی اور نواب سید علی شہریار سینیئر کانگریس قائد و سابق رکن اے پی اسٹیٹ حج کمیٹی نے کہا ہے کہ صدر ٹی آر ایس شری کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں ٹی آر ایس کی ریاستی حکومت تمام محاذوں پر ناکام ہوگئی ہے اور صرف جھوٹے پروپگنڈہ اور زبانی وعدوں پر زندہ ہے۔ ان قائیدین نے آج سہ پہر ایک پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہر الیکشن سے پہلے کے سے آر اور ان کے فرزند عوام کے مختلف طبقات سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں جن پر کبھی عمل نہیں کیا جاتا‘ اس طرح عوام کو بے وقوف بنا کر وہ الیکشن جیت جاتے ہیں۔ ان قائیدین نے یاد دلایا کہ گزشتہ پانچ سال سے عوا می و سماجی بھلائی کے تمام کام روک دئے گئے ہیں۔ درج فہرست طبقات و قبائل اور اقلیتوں کی بھلائی کے لئے جن اسکیموں کی زبردست پبلسٹی کی گئی تھی وہ سب ٹھپ پڑی ہوئی ہیں ۔ اقلیتی بھلائی کی اسکیموں پر عمل آوری کے تعلق سے حکومت کو وائٹ پیپر جاری کرنا چاہئے کہ اس نے گزشتہ پانچ سال کے دوران کیا کارنامے انجام دیئے ہیں۔ کتنا بجٹ الاٹ کیا گیا ‘ کتنا خرچ کیا گیا اور کتنا حکومت کو واپس کردیا گیا۔ جو حکومت چند سو کڑور روپئے خرچ نہیں کرسکتی اس کو بلند بانگ دعوے کرنے کا کوئی حق نہیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن سے ہر قسم کے لون بند کردیئے گئے ہیں۔ ڈرائیور امپاورمنٹ اسکیم ٹھپ ہوئگی ہے۔ اوور سیز اسکالرشپ اسکیم برف دان میں ڈال دی گئی ہے۔ شادی مبارک کی اسکیم میں ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے۔ اردو اکیڈیمی کی تمام سرگرمیاں ٹھپ ہوگئی ہیں اور سوائے خیرمقدمی جلسوں کے کوئی ٹھوس کام نہیں ہورہا ہے۔ وقف بورڈ کی جائیدادوں پرجو بڑے پیمانہ پر قبضے ہوئے ہیں بور ڈ وہ تمام مقدمات ہار رہا ہے۔ ان قائیدین نے کہا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں۔ عنبر پیٹ میں واقع مسجد کو سڑک کی توسیع کے نام پر شہید کردیا گیا اور صرف بی جے پی کو خوش کرنے کے لئے حکومت نے اس مسجد کی دوبارہ تعمیر کا کام شروع نہیں کیا۔ اسی طرح سکریٹریٹ کی دو مساجد کو شہید کیا گیا اور مسلمانوںکو خوش کرنے کے لئے صرف اعلانات ہی ہورہے ہیں۔ ریاست کے مسلمان جہاں ان مساجد کی شہادتوں پر احتجاج کررہے ہیں وہیں ٹی آر ایس سے وابستہ مسلمان اپنے سیاسی آقاؤوں کو خوش کرنے کے لئے چپ سادھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد جناب بشیر الدین بابو خان نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ٹی آر ایس میں کسی قائد کے پاس کوئی عہدہ نہیں ہے‘ لیکن عہدو کی لالچ میں سب کے سب خاموش ہیں۔ یاد رکھیں اللہ کو ناراض کرکے سیاسی آقاؤوں کو خوش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ جناب ایس کے افضَل الدین اور جناب سید علی شہریار نے ناگارجنا ساگر کے رائے دہندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹی آر ایس کی چالبازیوں سے ہوشیار رہیں اور کانگریس کو ووٹ دیں۔ تلنگانہ کانگریس کی ہی دین ہے اور وہی اسے ہرطرح سے ترقی دے سکتی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close