حیدرآباد

حیدرآباد: پروفیسر ظفرالدین ایک ملنسار اور مخلص شخصیت ،مانو میں فروغ اردو کیلئے ان کی خدمات کوہمیشہ یاد رکھا جائے گا

ذیمریس اے بی سی ہال میں جلسہ اظہارتعزیت سے سماجی کارکنوں ، اردواساتذہ،اسکالرس ،طلبہ ویگرکاخطاب

حیدرآباد(پریس نوٹ) موت کے بعدبھی انسان اپنے کارناموں اور خدمات کی وجہ سے ہمیشہ یادرکھاجاتا ہے ۔قوم وملت کیلئے جو فرد جیتا ہے وہ لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ان خیالات کااظہار ذیمریس آڈیٹوریم میں پروفیسر محمدظفرالدین (مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی ) کی یاد میں منعقدہ جلسہ اظہارتعزیت میں مقررین نے کیا۔ ڈاکٹرمحامدہلال اعظمی(مدیرماہنامہ صدائے شبلی ) نے کہاکہ پروفیسر ظفرالدین ہمیشہ لوگوں سے خوش دلی سے ملاکرتے تھے۔ وہ ہرایک کی رہبری کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ ماہنامہ صدائے شبلی کی رہبری کرتے تھے اور اپنے طلبہ واسکالرس میں بیحد مقبول تھے۔ وہ اپنے طلبہ سے ہمیشہ کہتے تھے کہ وہ زیادہ سے زیادہ علم حاصل کریں اور اپنا مقام پیدا کریں۔ ڈاکٹرعبدالقدوس (اسسٹنٹ پروفیسر حسینی علم ڈگری کالج) نے کہاکہ پروفیسرظفرالدین ایک ملنسار شخصیت تھے اور ہر کسی سے محبت سے ملاکرتے تھے۔ روڈ سے لیکر ڈپارٹمنٹ تک جوطلبہ پیدل جاتے توراستہ میں گاڑی روک کر پروفیسر ظفر سب کوگاڑی میں بیٹھالیتے تھے۔ یونیورسٹی میں باہر سے کوئی اہم شخصیت آتی تو سب طلبہ واسکالرس کو ملاتے تھے۔ وہ کبھی کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتے تھے۔ بچوں کوکسی قسم کا نقصان ہونے نہیں دیتے تھے۔ اگرکوئی ان کے خلاف کچھ کہہ بھی دیتا تو وہ ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے نظرانداز کردیتے تھے ۔اس کے تعلق سے دل میں کوئی میل نہیں رکھتے تھے۔ حسینی علم ڈگری کالج میں منعقدہ سمینار میں کی گئی ان کی آخری تقریر ہمیشہ یادرکھی جائے گی۔ ڈاکٹرعبدالقدوس نے کہاکہ اس موقع پرانہوں نے میری کتاب کی رسم اجراء بھی دی تھی ۔محمدآصف علی(صدراحمدعلی میموریل ایجوکیشنل سوسائٹی) نے پروفیسر ظفرالدین پر اپنا جذباتی مضمون نم آنکھوں سے سناتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے طلبہ کو بہت قریب رکھتے تھے۔ ہرموقع پران کی رہبری کرتے تھے۔ وہ میری پی ایچ ڈی کے مقالہ کی تکمیل پربہت خوش ہوئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ادبی شخصیات کوکوئی بھی علاقہ میں محدود نہیں کیاجاسکتا ہے۔ ظفرالدین نے ساری دنیا میں اپنی پہچان بنائی۔ بہار میں ان کی پیدائش ہوئی اور انہوں نے حیدرآباد کواپنا آخری مسکن بنایا۔ ڈاکٹرمختاراحمدفردین صدرآل انڈیا اردوماس سوسائٹی فارپیس نے کہاکہ مانو کے قیام کے ابتدائی دنوں سے میری ملاقات پروفیسر ظفرالدین سے رہی ہے۔ یونیورسٹی کے ابتدائی سمیناروں میں ہم لوگ شریک ہوتے تھے اوروہاں پروفیسر ظفرالدین کومتحرک پاتے تھے۔رسالہ ادب وثقافت آ ج بھی لوگوں کو پہنچ رہا ہے اور لوگ یقین نہیں کرپارہے ہیںکہ ظفرالدین ہمارے درمیان موجودنہیں رہے۔ پروفیسر ظفرالدین سے قریب ہونے کا موقع قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان(دہلی) کے ڈائرکٹر شیخ عقیل احمد کی وجہ سے ہوا۔ جب بھی شیخ عقیل حیدرآباد آتے تووہ پروفیسرظفرالدین ان کے ساتھ ہوجاتے تھے اور دونوں ہرجگہ ساتھ ساتھ رہتے تھے اور یہاں حیدرآباد میں فروغ اردو کے متعلق مشورے کرتے تھے۔ محسن خان نے کہاکہ پروفیسر ظفرالدین نے کسی طالب علم کوکوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ ان کا شمار کامیاب پراکٹر کے طورپرہوتا ہے ۔محسن خان نے کہاکہ ادب وثقافت کی جانب سے مجتبیٰ نمبر نکالے جانے والا تھا توپروفیسر ظفرنے مجھے کال کرکے قومی زبان کی جانب سے نکالے گئے مجتبیٰ حسین نمبر کی کاپیاں اپنے قیام گاہ پرلاکردینے کوکہاتھا اور اس وقت میری بہت حوصلہ افزائی فرمائی اورکہاکہ کوئی بھی فیصلہ زندگی میں جذبات میں آکر نہ لینا اور ہمیشہ مثبت رہنااور ہمیشہ خود کو پڑھنے لکھنے میں مصرو ف رکھنا۔ ڈاکٹر محمدمظفرعلی ساجد(صدر ذیمریس ادبی فورم) نے پروفیسرظفرالدین کوخراج عقید ت پیش کیا اور پروفیسر ظفرالدین کی علی گڑھ میں منعقدہ ایوارڈ تقریب میں کی گئی تقریر کو پراجکٹر پرپیش کیا ۔احمدعلی میموریل ایجوکیشنل سوسائٹی ،آل انڈیا اردو ماس سوسائٹی فارپیس اور ذیمریس ادبی فورم کی جانب سے آج کے اس تعزیتی جلسہ کویادگار کہا۔سابق مشیراقلیتی کمیشن سکندرمعشوقی نے کہاکہ دانشوروں اورماہرین کے خراج عقیدت سے اتفاق کرتا ہوں اور پروفیسر ظفرالدین وہ شخصیت تھے جوکبھی غلط کام نہیں کرتے تھے۔ یونیورسٹی میں داخلہ کے لیے ایک طالب علم کی میں نے سفارش کی تھی توانہوں نے کہاتھا کہ اگرطالب علم میں صلاحیت ہوتو وہ ضرور کامیاب ہوجائے گا اس کیلئے کسی بڑی شخصیت کی سفارش کی ضرورت نہیں ہے اور یہ طالب علم ،علم حاصل کرنے کا جذبہ رکھتا ہے اوریقینا اس کا داخلہ ہوجائے گا کیوں کہ یہ پڑھے لکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ان کی یہ بات مجھے ہمیشہ یاد رہ گئی۔ سیداصغر نے پروفیسر ظفرالدین کی خدمات کوخراج عقیدت پیش کیا اورکہاکہ نئی نسل کو ان کے نقش قد م پرچلنا چاہئے ۔ڈاکٹرنہال افروز (مانو) نے کہاکہ پروفیسرظفرالدین نے ہمیشہ میری تحریری صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کی۔ کسی بھی رسالہ میں میرا مضمون شائع ہوتا تو وہ مجھے مسیج کرکے مبارک باد دیتے اور لکھتے رہنے کی تلقین کرتے ۔وہ ہرطالب علم سے محبت سے پیش آتے تھے۔ حیدرآبادسنٹرل یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی اسکالرمحمدنسیم نے پروفیسرظفرالدین کے حسن اخلاق کی تعریف کی ۔نصراللہ خان نے شکریہ کے فرائض انجام دیئے۔ ڈاکٹرمحامدہلال اعظمی کی دعا پرجلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close