حیدرآباد

سید جلیل احمد ایڈوکیٹ کی ملی ‘ تعلیمی اور سماجی خدمات کو خراج تحسین:تقاریر کے مجموعہ ’فکر جلیل ‘ کی رسم اجرأ : جواب احمد عالم خان ‘ پروفیسر عامر اللہ خان کا خطاب

حیدرآباد4اپریل(آئی این ایس انڈیا)سید جلیل احمد ایڈوکیٹ صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت کی منتخب تقاریر اور صحافتی بیانات و مضامین کے مجموعہ ’ فکر جلیل ‘ کی رسم اجرأ کی انتہائی خوشگوار اور با اثر تقریب کل شب آشیانہ کنونشن سنٹر ‘ بنجارہ ہلز کے لان میں منعقد ہوئی۔ نواب احمد عالم خان نے اس کتاب کی رسم اجرأ انجام دی۔ انہو ںنے اس موقعہ پر اپنے خطاب میں کہا کہ جلیل احمد صاحب سادگی ‘ خلوص و محبت کا پیکر ہیں۔ اورنرم دم گفتگو‘ گرم دم جستجو کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ ان کی تقاریر میں ایک فلسفیانہ رنگ ہوتا ہے اور وہ سامعین کو بڑی محبت و شفقت کے ساتھ دنیوی حقایق اور دین کے رموز سمجھاتے ہیں اور یہ ان کا منفرد انداز ہے۔ وہ ملت کو درپیش مسائل کو فلسفیانہ انداز میں اٹھاتے ہیں‘ پھر ان کا حل بھی بتاتے ہیں۔ضرورت ہے کہ ہم ان کے خیالات و افکار سے بھر پور استفادہ کریں۔ دعا ہے کہ اللہ اس کتاب کو قبولیت عام وقبولیت دوام عطا کرے اور اس کو مسلمانوں کی ہدایت و خیر خواہی کا ذریعہ بنائے اور جناب جلیل احمد صاحب کو بصحت و عافیت سلامت رکھے تاکہ وہ اپنی گراں قدر خدمات کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔

انہو ں نے کہا کہ یہ ہماری قوم کا المیہ ہے کہ ہم بہت جلد اپنے محسنوں کو اوران لوگوں کو بھول جاتے ہیں جو دنیا کی مصروفیات میں سے قوم و ملت کے لئے وقت نکالتے ہیں۔ بدلے میں ان کو کچھ نہیں چاہئے ہوتا ہے۔ ایسی ہی شخصیتوں میں جناب سید جلیل احمد صاحب کا شمار ہوتا ہے۔ جو شخصیتیں ملک و قوم کے لئے اپنا سب کچھ لٹا دیتی ہیں ‘ ہم زندگی میں ان کی قدر نہیں کرتے۔ اور بعد میں ان کی خدمات اور ان کی قابلیتوں کے تذکرے ہوتے ہیں۔ جناب سید جلیل احمد ایڈوکیٹ نے اپنے جوابی خطاب میں کہا کہ تعمیر ملت سے 60سال سے زیادہ قدیم وابستگی کی بدولت انہیں ملت کو درپیش مسائل سے واقف ہونے‘ دینی‘ ملی‘ تعلیمی‘ سماجی اور معاشی مسائیل ‘ ان کے اسباب اور ان کے حل تلاش کرنے کے امکانات پر غور و خوص اور حسب استطاعت کچھ عملی اقدامات کرنے کے مواقع ملے ۔ ملت کے مختلف طبقات سے ربط ضبط کا اور لوگوںکی مصیبتوں‘ دشواریوں اور تکلیفوں کو قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقعہ ملا۔’ اگر میں تنظیم سے سرگرمی سے وابستہ نہ رہتا تومجھے حالات کے مشاہد ہ اور خدمت کی سعاد ت ہرگز نہ ملتی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ برسوں تک تنظیم کے جلسہ یوم رحمۃ للعٰلمین ﷺ سے کسی نہ کسی حیثیت سے مسلسل وابستہ رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔‘انہوں نے کہا گزشتہ پانچ سال کے دوران مختلف مواقع پر میںنے جو تقاریر کیں ‘ اور جو بیانات جاری کئے ان میں میرے ناچیز خیالات و افکار کی جھلک ملے گی‘ ملت کی ترقی‘ بھلائی اور خوشحالی کے تعلق سے آپ میری تڑپ محسوس کریں گے۔ساتھ ہی ملت کی معاشی و تعلیمی ترقی کی ضرورت کا احساس بھی ملے گا۔ اس مدت میں بلکہ اس سے پہلے سے بھی میں عقیدہ توحید کو مستحکم کرنے ‘ رسول اللہ ﷺ سے عشق و محبت کو پروان چڑھانے اور صحابہ کرام ؓ سے عقیدت و محبت مسلمانوں کے درمیان جو اختلافات ہیں ان کا ڈھنڈورا نہ پیٹنے اور اتحاد کو مستحکم بناتے پر زور دیتا رہا۔ انہوں نے اس موقعہ پر حضرت سید خلیل اللہ حسینی صاحب ؒ اور ان کے احباب خاص طور پر مولانا سلیمان سکندر صاحب‘ جناب غوث خاموشی صاحب‘ مولوی محمد عبدالرحیم قریشی ثاحب‘ مظہر قادری صاحب‘ نواب لایق علی خان صاحب وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسی بے لوث ہستیوں کی کمی بری طرح محسوس ہوتی ہے۔

انہو ں نے کہا کہ عالمی شہرت یافتہ جرنلسٹ جناب میر ایوب علی خان نے اس کتاب کی ترتیب کے بارے میں اپنے مفید مشوروں سے نوازاہے۔کتاب کے ٹائٹل کو زیادہ سے زیادہ خوبصورت اور پرکشش بنانے کے لئئے نامور آرٹسٹ و گرافک ڈئزانر جناب سید افتخار الدین صاحب نے خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے ‘ اور ڈاکٹر محی الدین حبیبی نے تفصیلی تعارف کروایا ہے۔اس تقریب میںجناب میرناصر علی خان اعزازی قونصل قزاقستان برائے تلنگانہ ‘ جناب ذیشان احمد ‘جناب حسن نواز رحمت اللہ‘ اور کئی اہم شخصیتیں شریک تھیں۔ جناب محمد کلیم احمد کا کتاب کی اشاعت اور تقریب کے انعقاد میں نمایاں رول رہا۔ ممتاز ماہر معاشیات پروفیسر عامر اللہ خان نے متاثرکن انداز میںاس جلسہ کی کارروائی چلاتے ہوئے کہا کہ اولا د سے کسی کا نام دو چار پیڑھیوں تک چلتا ہے لیکن کتاب سے صدیوں تک زندہ رہتا ہے۔ انہوں نے جناب جلیل احمد کی فکر ‘ سوچ اور ان کے جذبہ خدمت پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ ان کی قیادت میں تعمیر ملت کے پروگراموںاور سرگرمیوں کو ایک نیا معیار ملا ہے۔ سید خلیل اللہ حسینی میموریل لیکچر کے سلسلہ کو انہو ںنے نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ جناب ساجد پیرزادہ نے اسلامی تحریک کے مختلف پہلوؤں پر نظر ڈالی اور کہا کہ آج بیت ا لقدس اغیار کے قبضہ میں ہے‘ جبکہ اسلامی کردار کی بدولت اس شہر کی چابیاں کس حضرت عمر فاروق ؓ کے ہاتھوں میں تھما دی گئی تھیں۔کتاب کے مرتب سینیئر جرنلسٹ جناب شوکت علی خان نے جناب سید جلیل احمد صاحب کے خطاب اور بیانات کی خصو صیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی غور وتدبر کے ساتھ ہی لب کشائی کرتے ہیں‘ ان کی نظر نہ صرف ماضی پر ‘ بلکہ حال اور مستقبل پر ہوتی ہے۔ کئی اہم مسائل پرانہوں نے بے باکانہ اظہار خیال کیاہے۔کانگریس قائد جناب محمد خلیق الرحمٰن نے جناب سید جلیل احمد کی خدمات ‘ ان کی منفرد سوچ اور مربیانہ انداز تکلم پرتفصیلی روشنی ڈالی ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close