حیدرآباد

تعلیمی اداروں کا معاملہ،تلنگانہ وزیر کا الزام: مرکز سے تلنگانہ کو 6 برسوں میں صفر کے سوا کچھ نہیں ملا: وزیر تارک راما راؤ

حیدرآباد؍نئی دہلی، ۷؍مارچ ( آئی این ایس انڈیا ) تلنگانہ کے وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے تارک راما راؤ نے مرکز کی جانب سے تلنگانہ کے لیے 6 برسوں کے دوران ایک بھی تعلیمی ادارہ منظور نہ کرنے پر سوال اٹھایاہے۔انہوں نے اس تعلق سے کئے گئے ٹوئٹ میں پوچھاہے کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے گذشتہ 6 برسوں کے دوران کی گئی درخواستوں کے باوجود حکومت ہند نے کتنے تعلیمی ادارے منظور کئے؟ ایک بڑا صفر!‘۔سوشیل میڈیا کے اہم پلیٹ فارم ٹوئٹر پر متحرک تارک راؤ جو حکمران جماعت ٹی آر ایس کے کارگذار صدر بھی ہیں، نے اس تعلق سے کئے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ کوئی آئی آئی ایمس، آئی آئی ٹیز، آئی آئی آئی ٹیز، این آئی ڈیز یا میڈیکل کالج تلنگانہ کو نہیں دیا گیا ہے۔ یہ سوتیلا رویہ نہیں ہے تو کیا ہے؟انہوں نے مزید تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) بقیہ ہندوستان کے لئے سات،انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (آئی آئی ٹی) سات، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (آئی آئی ایس ای آر) 2، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹکنالوجی (آئی آئی آئی ٹی) 16، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن (این آئی ڈی) 4، میڈیکل کالجز 157اور نوودیا تعلیمی ادارے 84 منظور کئے گئے۔ ان میں سے کوئی بھی ادارہ تلنگانہ کے لئے منظور نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ نے حکومت ہند کو 272926 کروڑروپئے دیئے تاہم حکومت ہند نے اس کو 6 برسوں کے دوران صرف 140329 کروڑ روپے ہی دیئے۔ کون کس کو دے رہا ہے؟ تارک راما راؤ نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ ان کی ریاست ہندوستان کی ترقی میں رول ادا کررہی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close