حیدرآباد

جلسہ یاد عظمت کون ومکاں سلطان الہند حضو رغریب نوازؒ کا 809سالہ عرس شریف کاخواجہ کا چھلہ میں انعقاد

مادرشکم میں کلمہ پڑھ کر ولادت کے بعد 90لاکھ مسلمانوں کواسلام میں داخل کیا: مولانا مظفرعلی صوفی کاخطاب

حیدرآباد(ہندوستان اردو ٹائمز)خواجہ غریب نوازؒ کے 809سالہ عرس شریف کے موقع پرکل ہند مجلس مرکز چشتیہ کے زیراہتمام جلسہ یاد عظمت کون ومکاں سلطان الہند حضو رغریب نوازؒ کاخواجہ کا چھلہ مغلپور میں انعقادعمل میں آیا۔ جس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مولانا صوفی شاہ محمد مظفر علی چشتی ابوالعلائی (سجادہ نشین خواجہ کا چھلہ ) نے غریب نوازؒ کی تعلیمات ،حالات اور کرامات کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ غریب نوازؒ نے مادر شکم میں کلمہ پڑھا کرتے تھے جس کو ان کی والدہ محترمہ محسوس کرتی تھیں۔ آپ نے90لاکھ لوگوں کو کلمہ پڑھاکراسلام میں داخل کیا۔ آج ہندوستان میں جومسلمان کلمہ گو ہیں وہ غریب نوازؒ کی ہی محنت و کاوش ہے ۔ غریب نوازؒ نے جب رحلت فرمائی تو آپ کی پیشانی مبارک پر سبز رنگ سے یہ لکھا ہواتھا ’’ھذا حبیب اللہ ماتَ فی حب اللہ‘‘ یہ اللہ کے حبیب تھے ،اللہ کی محبت میں وفات پائی۔ غریب نوازؒ پندرہ سال کی عمر میں اپنے گھربار چھو ڑ کر تعلیم حق کے لیے (ظاہری تعلیم کے لیے) سمرقند اور بخارا کا رخ کیا اور حفظ قرآن کے بعد پیر کامل کی تلا ش روانہ ہوئے اورحضور خواجہ عثمان ہارونی ؒ کے ہاتھ پربیعت کیا اور خلافت سے سرفراز ہوئے۔ اپنے پیر کی تربیت میں وہ بیس سال رہے۔ سرکار دو عالم محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر تبلیغ کے لیے ہندوستان کا رخ کیا۔ لاہوراوردہلی ہوتے ہوئے پرتھوی راج کے دورمیں اجمیر شریف تشریف لائے ۔آپ نے اپنے زمانہ میں منظم طریقہ سے تبلیغ اسلام کی اشاعت کی اور لاکھوں بندگان خدا کو کلمہ توحید پڑھایا۔حضرت خواجہ غریب نوازؒ نے پوری دنیا کوانسانیت کا پیغام دیا۔سرزمین ہند کے لوگوں کو نورہدایت سے روشناس کروایا ،ظلم وستم سے نجات دلایا اورلوگوں کے عقائد کی اصلاح فرمائی۔ مولانا ارشدصوفی چشتی ابوالعلائی نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورہ انبیا کی آیت نمبر112میں ارشاد فرمایا کہ ’’ہمارے نیک بندے زمین کے وارث ہیں‘‘ ۔ برصغیر میں اللہ تعالیٰ نے جن کووارث بنایا ان کا نام سلطان الہندخواجہ غریب نوازؒہے۔خواجہ غریب نواز نے ہندوستان میں نفرتوں کو محبت میں بدل دیا۔آج ساری دنیا کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے آ پ کے آستانہ پر تشریف لاتے ہیں۔ مولاناولایت قادری(انجینئر) اورپیرزادہ دوست محمد چشتی ابوالعلائی نے بھی خطاب فرمایا۔ مولانا خواجہ زبیر صوفی چشتی ابوالعلائی کی دعا پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔جلسہ کا آغاز حافظ وقاری راشدظفر کی قرأت سے ہوا اور سلیم ابوالعلائی نے خواجہ غریب نوازؒ پر منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close