حیدرآباد

خبر کی صداقت اور امانت صحافت کی اہم ذمہ داری

قمرالدین صابری اردو فائونڈیشن کے زیر اہتمام مذاکرے سے شرکاء کا خطاب

حیدرآباد(30ڈسمبر۔راست)صحافت کسی بھی سنجیدہ سماج کا اہم حصہ ہوتی ہے۔ اسے مملکت کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے۔ خبر کی صداقت اور امانت کے ساتھ اسے عوام تک پہونچانا صحافت کی اہم ذمہ داری ہے۔ لیکن اب صحافت بکائو ہوگئی ہے اور وہ خبر پہونچانے کے بجائے نظریات کی ترویج اور طے شدہ مفروضات کو لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کا کام کر رہی ہے۔ جمہوری سماج میں خبر کے ہر گوشے کو عوام تک پہونچانا چاہئے لیکن اقتدار کا سہارا لے کر خبروں کو مسخ کیا جارہا ہے۔ اور جھوٹ کو اتنا عام کیا جارہا ہے کہ اسے ہی سچ مان لیا جائے ان خیالات کا اظہار قمر الدین صابری اردو فائونڈیشن‘انجمن قلمکاران دکن اور تلنگانہ اردو فائونڈیشن کے زیر اہتمام صابری ہال ریڈ ہلز حیدرآباد میں منعقدہ مذاکرہ’’صحافت کا کردار‘ماس میڈیا اور اردو ‘‘ سے مختلف دانشوروں نے خطاب کے دوران کیا۔ ڈاکٹر محمد ناظم علی نے اردو صحافت کے شاندار ماضی کا احاطہ کیا اور کہا کہ جدوجہد آزادی میں انگریزوں کے خلاف آواز بلند کرنے اور ملک کو آزادی دلانے میں مولانا آزاد ‘محمد علی جوہر ‘سرسید احمد خان اور دیگر نے صحافت کو استعمال کیا۔ آزادی کے بعد بھی ملک کی تعمیر میں اردو صحافت اور اردو رسائل نے اہم کردار ادا کیا اب ماس میڈیا کے آگے پرنٹ میڈیا کی اہمیت کم ہوتی جارہی ہے۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے کہا کہ 1990ء کی دہائی کے بعد سے الیکٹرانک میڈیا کا زور شروع ہوا اور اب اکیسیویں صدی میں صحافت ایک کاروبار بن گئی ہے ۔ صحافت کے ذریعے نظریات کی تشہیر ہورہی ہے اور اقتدار کے حصول کے لیے صحافت پر قبضہ کیا جارہا ہے لیکن کچھ اعتدال پسند میڈیا ہائوز ہیں جو صحافت کی اعلیٰ قدروں کی پاسداری کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اب لوگ میڈیا کی جانب داری سے تنگ آکر سوشل میڈیا کا رخ کر رہے ہیں جہاں پل پل کی خبریں دنیا بھر سے حقائق کے ساتھ عوام تک پہونچ رہی ہیں۔ پروفیسر ایم ایم انور پرنسپل سائنٹسٹ اور سرپرست صابری فائونڈیشن نے کہا کہ اب ماس میڈیا کا دور ختم ہوگیا ہے اور سوشل میڈیا کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے ہندوستان میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں سوشل میڈیا نے اپنی طاقت کا اظہار کیا اور براہ راست ویڈیوز کے ذریعے حقائق کو عوام تک پہونچایا۔ صحافت اگر اپنے اصولوں پر قائم رہے تو ایک بہتر سماج کی تشکیل ممکن ہے۔ اس مذاکرے میں پروفیسر محمد انور الدین‘ انیس اقبال اور مومن خان شوق نے حصہ لیا۔ بعد میں مومن خان شوق نے حالات حاضرہ کے تناظر میں اپنا کلام پیش کیا۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے شکریہ ادا کیا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close