حیدرآباد

حیدرآباد : سیکریٹریٹ حیدرآباد کی مساجد کو اسی مقام پر تعمیر کرنے میر فاروق علی خازن و ذمہ داران جمعیتہ علماء ہند ضلع کاماریڈی کا پرزومطالبہ

حیدرآباد (ہندوستان اردو ٹائمز) مسجدیں اللہ کے گھر ہیں ایک مرتبہ مسجد کے نام پر نماز شروع کر دی جائے یا مسجد تعمیر کر دی جائے وہ جگہ ہمیشہ ہمیش کے لئے مسجد ہے اس کو ڈھانا انتہائی بدبختانہ عمل ہے کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ مسجد کو کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے اللہ کے گھروں کو جو لوگ آباد کرتے ہیں وہ دنیا میں آباد رہتے ہیں اور آخرت میں بھی شاداب رہیں گے اللہ کے گھر کو ڈھانا اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے سیکریٹریٹ حیدرآباد کی مسجد ہاشمی اور مسجد دفاتر کو سیکریٹریٹ کی تعمیرنو کے بہانے دونوں مسجدوں کو شہید کردیا جانا انتہائی بدبختانہ عمل ہے جمعیۃ علماء ہند تلنگانہ و آندھرا پردیش کے صدر مفتی غیاث الدین صاحب قاسمی کی ہدایت پر آج 28 اگست 2020 بروز جمعہ بعد نماز جمعہ حافظ محمد فہیم الدین منیری صدر جمیعۃعلماء ضلع کاماریڈی کی ایماء پر حافظ محمد یوسف حلیمی انور حافظ محمد مشتاق احمد نقشبندی نائبین صدور جمعیۃ علماء کاماریڈی کی قیادت میں ایک وفد محمد جاوید علی صاحب سرپرست جمعیۃ کاماریڈی الحاج سید عظمت علی جنرل سکریٹری میر فاروق علی خازن محمد ماجد اللہ سکریٹری محمد فیروزالدین پریس سکریٹری محمد امجد کونسلر اسلام پورہ کاماریڈی محمد امام الدین رکن محمد اسماعیل صدر جمعیۃ حلقہ بلال محمد ساجد سکریٹری جمعیۃ حلقہ بلال محمد حمزہ سکریٹری جمعیۃ علماء حلقہ مدینہ عبدالرحمن پرویز رکن جمعیۃمیر مبشر علی عامر آرگنائزر ضلع حج سوسائٹی کاماریڈی نے اپنے شدید غم وغصہ کااظہار کیا اور وزیر اعلی تلنگانہ تک اس بات کو پہنچانے کے لیے ایک یاداشت حوالہ کی سیکریٹریٹ کے تعمیر نو کے بنانے مساجد کا ڈھایا جانا انتہائی بدبختانہ عمل ہے اللہ کے عذاب سے آپ اس وقت تک نہیں بچ سکتے جب تک دونوں مساجد کو اسی مقام پر تعمیر نہ کروائیں اگر آپ ریاست تلنگانہ کی خوشحالی چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ مساجد کو اسی مقام پر از سر نو تعمیر کیا جائے وقف بورڈ اور نمائندہ شخصیات اور علماء سے ملاقات کرکے مکمل زمین حوالے کی جائے اور تعمیر کے لئے راہ ہموار کی جائے بصورت دیگر تلنگانہ بھر میں میں جمعیۃ علماء تحریک شروع کرے گی اور آندولن کرے گی سیاسی قائدین سے ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام سیاسی اختلافات کو ختم کر کے جلداز جلد چیف منسٹر تلنگانہ سے ملاقات کی جائے اور دونوں مساجد کی تعمیر کی راہ ہموار کی جائے ورنہ عذاب خداوندی کے آپ بھی برابر کے مستحق ہونگے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close