حیدرآباد

مجتبیٰ حسین ہندوستان کے ہر مذہب اور طبقہ کے عوام میں یکساں مشہور ومقبول شخصیت

آن لائن تعزیتی اجلاس سے مختلف ادیبوں ‘دانشوروں‘ محبان مجتبیٰ اوردیگرکاخطاب

حیدرآباد(ہندوستان اردو ٹائمز) مجتبیٰ حسین نے اردوادب کے فروغ کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کردی۔ وہ ہندوستان کے چار وزرائے اعظم کے قریب تھے۔ وہ چاہتے تو آسانی سے راجیہ سبھا کا ٹکٹ یا کوئی بڑا عہدہ حاصل کرسکتے تھے لیکن وہ کبھی بھی عہدوں کے پیچھے نہیں رہے۔

انہوں نے مجھے انجمن ترقی پسند مصنفین تلنگانہ کا صدر بنایا۔ان خیالات کااظہار نامورمزاح نگار مجتبیٰ حسین کے آن لائن تعزیتی اجلاس سے پروفیسر بیگ احساس نے کیا۔ مجتبیٰ حسین ایک بہترین منتظم تھے اوراردوکی ادبی محفلوں اور اجلاسوں کا بڑی ذمہ داری سے اہتمام کرتے تھے۔

انہوں نے اردو کے کئی تاریخی اجلاس کئے ۔ان کے انتقال پر سیاسی‘مذہبی اورسماجی قائدین کے علاوہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ہرفرد نے تعزیتی پیام روانہ کیا۔ڈاکٹرفاطمہ پروین نے کاکہ وہ عثمانیہ یونیورسٹی کے درخشاں ستارہ تھے۔ اللہ تعالیٰ ہرانسان کومختلف صلاحیتیں عطا کرتا ہے اوروہ ان کا صحیح استعمال کرکے سماج میں اپنا مقام عطا کرتا ہے۔ مجتبیٰ حسین کواللہ تعالیٰ نے جوصلاحیت دی اس کاانہو ں نے بھرپوراستعمال کیا اورانشائیہ‘خاکے ‘سفرنامے‘ مضامین ہرصنف میں انہوں اپنانام کمایا۔

فیاض احمدفیضی نے اپنے خطاب میں کہاکہ مشتاق احمدیوسفی ہم سے جدا ہوکردوسال بھی نہیں گذرے تھے کہ مجتبیٰ حسین بچھڑگئے۔ 1962ء سے 2012ء تک انہو ںنے اردوادب پرحکمرانی کی۔پچھلے 8سال سے ان کا قلم خاموش تھا لیکن وہ ادبی سرگرمیوںمیں آخری وقت تک شرکت کرتے رہے۔ ہمیشہ نئے ادیب ں کی کتابو ں پرپیش لفظ خوشی خوشی سے لکھتے تھے۔ ڈاکٹربی بی رضا خاتون (مانو)نے کہاکہ اس عمر میں بھی ان کی یادداشت بہت اچھی تھی۔ اشعار مکمل یاد رکھتے تھے۔ وہ مشتاق احمدیوسفی کوبہت عزیز رکھتے تھے۔

مشتاق احمدنوری (پٹنہ )نے کہاکہ انتقال سے قبل چند ماہ پہلے جب میں حیدرآباد آیا تو مجتبیٰ حسین نے جتنے دن میں قیام کیا میرے ساتھ موجود رہے۔ میر ے رہنے اور کھانے پینے کا بہت خیال رکھا۔اوران کے ایک شاگردمحسن خان کومیرے ساتھ کردیا تاکہ مجھے کوئی تکلیف نہ ہو۔حیدرآباد کی ادبی شخصیات سے ملاقات کے لیے اردوہال میں میرے لیے ایک پروگرام کا اہتمام کیا۔سہیل وحید(سابق ایڈیٹرنیا دور) نے کہاکہ ان کے انتقال سے اردوادب کوایک عظیم نقصان پہنچا ہے۔ منورعلی مختصر نے اپنے تعزیتی پیام میں کہاکہ مجتبیٰ حسین عجز وانکساری کاپیکرتھے۔ دکن میں طنزومزاح یہاں آکر رک جاتا ہے۔ڈاکٹرآمنہ تحسین (مانو) نے کہاکہ ایک اخبار کیلئے حیدرآباد کی مشہور معروف ادبی خواتین سے انٹرویولینے کی ذمہ داری مجتبیٰ حسین نے دی تھی ۔

مجتبیٰ حسین دکن کی تاریخ سے مکمل واقفیت رکھتے تھے۔ محسن خان نے کہاکہ مجتبیٰ حسین ہمیشہ لوگوں سے جڑے رہتے تھے۔ اخبار یا رسالہ میں کسی کا مضمون پڑھتے تو فوراً اس کوفون کرکے مبارکباد دیتے۔ کوئی تکلیف میں ہویاکسی کوکچھ اعزاز ملا ہوتواس سے ضرورت بات کرتے اورحوصلہ افزائی کرتے۔ محسن خان نے کہا کہ آج کے ایسے پرآشوب دورمیں جہاں لوگ ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے ہیں وہیں مجتبیٰ حسین دنیا کے ہرکونہ میں رہنے والے فرد سے جڑے رہنے کی کوشش کرتے تھے۔غوث ارسلان(سعودی عرب) نے کہاکہ مجتبیٰ حسین نے طنزومزاح کوایک نئی بلندیوں پرپہنچادیاتھا۔وہ دکن کی ایک عظم المرتبت شخصیت تھے۔

ڈاکٹرگل رعنا نے کہاکہ مجتبیٰ حسین ہمیشہ وقت کی پابندی کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ خوش رہتے تھے۔ ان کی کمی کواردوکاقاری ہمیشہ محسوس کرے گا۔ کے این واصف نے کہاکہ مجتبیٰ حسین کے گھرپر ہمیشہ مختلف ادیب جمع رہتے تھے اورادبی محفلیں جاری رہتی تھیں۔ ڈاکٹرفیروز عالم(مانو) نے کہاکہ میں جب دہلی میں تھا ان سے بات چیت ہوتی تھی اورمجھے اردویونیورسٹی میں ملازمت حاصل ہوئی تومجتبیٰ حسین نے حیدرآباد میں میرے لیے مکان کی تلاش اور دوسرے کاموں میں بھرپورمددکی۔

صادقہ نواب سحرنے کہا کہ مجتبیٰ حسین اردو کی ہرمحفل ‘مختلف یونیورسٹیوں کے ادبی پروگرام اور سمینارس میں شرکت کرتے تھے جہاں میں نے ان کوسنا ہے۔ ’’مجتبیٰ حسین : طنزومزاح کا روشن ستارہ‘‘ عنوان پرمنعقدہ اس تعزیتی اجلاس کی کاروائی ڈاکٹرحمیرہ سعید نے چلائی۔ عزیز پاشاہ‘ محبوب خان اصغر‘ ڈاکٹرصابر علی سیوانی اور محبان مجتبیٰ حسین اورریسرچ اسکالرس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close