حیدرآباد

مانوفاصلاتعلیم کے ڈائرکٹر کے تقررکے انٹرویو میں دھاندلیوں کا الزام

حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی اسوسی ایٹ پروفیسر نے طریقہ کار پراٹھائے سوال

حیدرآباد(پریس نوٹ) حالیہ دنوں میں جنسی ہراسانی وکرپشن واقعات کے بعد مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں تقررات میں دھاندلیوں کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے اسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹرمحمدزاہد الحق نے مانو کے چانسلر فیروز بخت کو تحریری شکایت کرتے ہوئے اعتراض کیا کہ سلیکشن کمیٹی کے ممبر ہوتے ہوئے کس طرح پروفیسر عبدالکلام نے فاصلاتی تعلیم کے ڈائرکٹر کی پوسٹ کیلئے امیدواربن سکتے ہیں۔کل ہفتہ7ڈسمبر 2019 فاصلاتی تعلیم کے ڈائرکٹر کی پوسٹ کے لیے انٹرویو ہونا ہے جبکہ پروفیسر عبدالکلام پہلے سے ہی انچارج ڈائرکٹربنے ہوئے ہیں ۔جس پرکئی لوگ اس انٹرویو کے طریقہ کار پرسوال اٹھارہے ہیں۔ڈاکٹرزاہد الحق نے مزید کہا کہ ڈاکٹرعبدالکلام اس عہدہ پر فائز ہونے کے اہل نہیں ہیں کیوں کہ انہوں نے فاصلاتی تعلیم یا اس سے مربوط کسی طرح کے کورس میں پی ایچ ڈی نہیں کیا ہے۔ اس کے علاوہ یوجی سی کے دس جنرلس میں بھی ان کے پیپرس شائع نہیں ہوئے ہیں اور اس پوسٹ کے لیے یہ لازمی ہے۔ پوسٹ کے لیے شائع اعلامیہ میں امیدوار کے لیے جواہلیت بتائی گئی ہیں اس میں بھی پروفیسر عبدالکلام پورے نہیں اترتے۔ انہوں نے مزید کہاکہ 2016میں وائس چانسلر اسلم پرویز سی اے ایس قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرقانونی طریقہ سے عبدالکلام کوپروفیسر کے عہدہ پرترقی دی اوراسلم پرویز کے خلاف اس معاملہ پرتحقیقات ہوسکتی ہے۔ 2004میں ڈاکٹرعبدالکلام کا ترجمہ کے شعبہ میں اسسٹنٹ ڈائرکٹر کے طورپرتقرر عمل میں لایاگیاتھا ۔انہیں تدریس کا تجربہ نہ ہونے کے باوجود غیرقانونی طریقہ سے شعبہ اردومیں 2007ء میں ریڈر کے طورپرتقررعمل میں لایا گیا۔ 2013اور 2015 میں دومرتبہ پروفیسر کے لیے ان کی درخواست کو سی اے ایس نے مستردکردیاتھا لیکن سابق وائس چانسلراسلم پرویز نے 2016میں انہیں پروفیسر شپ دی۔ زاہد الحق نے کہاکہ مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی میں تقررات اور عہدوں پرترقی میں بڑے پیمانے پردھاندلیاں ہوئی ہیں۔ ان وجوہات کی بناء پر وہ انتظامیہ سے درخواست کرتے ہیں کہ تقررات کے عمل میں شفافیت لائی جاے ۔انٹرویو کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ وہ ہفتہ 7ڈسمبر کوہونے والے انٹرویو میں شرکت کریں گے اور کسی طرح کا تعصب ہوتا ہے تووہ ہائی کورٹ میں اس کوچیلنج کریں گے۔ واضح رہے کہ پروفیسر عبدالکلام کے خلاف فارسی ڈپارٹمنٹ کی صدر شعبہ عزیز بانو نے شکایت درج کرائی تھی کہ ان کے خلاف ہونے والے جنسی حملہ میں پروفیسر کلام نے بچوں کو استعمال کیاتھااورآزاد ڈے کے موقع پرطلبہ کی جھڑپ میں طلبہ کوہراساں کرنے کابھی ان پرالزام ہے۔مانو میں تقررات کے سلسلے میں پہلے بھی کئی شکایت موجودہیں۔رجسٹرار رحمت اللہ کے پبلک ایڈمنسٹریشن شعبہ میں ایک طالب علم پرہوئے ایک حادثہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عبدالواحد نے پراکٹر آفس کا غلط استعمال کرتے ہوئے طالب علم کی مدد کرنے کے بجائے اپنے بھائی احمداللہ کوسکیورٹی کی ملازمت دلادی تھی ۔عبدالواحد کے خلاف کروڑہا روپئے کے وائی فائی کرپشن میں ملوث ہونے اور کئی بچوں کا کیریئرختم کرنے کے الزامات ہیں اور ان کے خلاف گلفشاں حبیب کمیٹی نے جنسی ہراسانی واقعہ پرتحقیقات بھی کی تھی۔ فاصلاتی تعلیم کے ایک اوراستاد ملک ریحان کے خلاف بھی ایک لڑکی مسلسل سالوں شکایات کررہی ہے اورانتظامیہ اس پرکوئی کاروائی نہیں کررہا ہے۔اس طرح کے بے شماراسکینڈلس کوچھپایاجارہا ہے اورحال ہی میں وائس چانسلر نے بھی اعتراف کیاتھا کہ مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی میں چالیس فیصد غیراردداں ہیں۔لاکھوں روپئے تنخواہ اوردیگر سہولتیں لینے کے باوجود وہاں طلبہ کااستحصال ہورہا ہے اورکئی کرپشن کے واقعات اورغیرقانونی تقررات کی وجہ سے اردوزبان کا نقصان ہورہا ہے اور ساتھ ہی طلبہ کی زندگیاں برباد ہورہی ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close