سیرت و شخصیات

حضور ﷺ کے اخلاق کریمانہ، امت کے لیے درسِ حیات : از قلم: زہرا بتول

آپ ﷺ کے اخلاق حسنہ کے بارے میں خلق خدا سے کیا پوچھنا ؟ کہ خود خالق اخلاق نے یہ ارشاد فرما دیا: "و انك لعلى خلق عظیم”۔
یعنی ائے حبیب بلا شبہ آپ اخلاق کے بڑے درجہ پر فائز ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اپنے حبیب ﷺ کے خلق کو عظیم کہا ۔حضور ﷺ کی ذات تمام کمالات کی جامع ہے ۔آپ ﷺ کی جبلت اور پیدائش میں ہی اللہ تعالیٰ نے پسندیدہ اخلاق ، بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھی تھی ۔صورت و سیرت اور اخلاق کے اعتبار سے آپ تمام نبیوں سے برتر ہیں ۔آپ ﷺ اپنی ازواج مطہرات،اپنے احباب،اپنے اصحاب،اپنے رشتےداروں اپنے پڑوسیوں ہر ایک کے ساتھ اتنی خوش اخلاقی اور ملن ساری کا برتاؤ فرماتے تھے کہ ان میں سے ہر ایک آپ کےاخلاق حسنہ کا گرویدہ اور مداح ہو جاتا تھا ۔خادم خاص حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے دس برس تک سفر و حضر میں حضورﷺ کی خدمت کا شرف حاصل کیا مگر کبھی بھی حضورﷺ نے نہ مجھے ڈانٹا نہ جھڑکا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تونے فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا ؟
(زرکانی جلد 4 ص 266)

حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ اپنے غلام پر غصہ ہو گیے ۔یہاں تک کہ مارنے پر بھی تیار ہو گیے ۔اتنے میں اللہ کے پیارے حبیب تاجدار مدینہ تشریف لے آئے اور فرمایا کہ ائے مسعود جس قدر اس غلام پر تم کو اختیار ہے اس سے کہیں زیادہ رب کو تم پر اختیار ہے۔ یہ سن کر ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ میں نے غلام کو آزاد کر دیا تو رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ائے ابو مسعود اگر اس وقت ایسا نہ کرتے تو دوزخ کی آگ تم کو چھو لیتی۔
حدیث مصطفی ﷺ سے معلوم ہوا کہ غلاموں پر خاص طور سے شفقت کی جائے اور ان کے آزاد کرنے میں بھی شفقت سے کام لیا جائے ۔حسن سلوک کی زیادہ آپ نے تاکید فرمائی ہے آپ نے خود بھی 43 غلام اور گیارہ لونڈیوں کو آزاد فرمایا ہے ۔مزید فرمایا : مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا اور آپ یہ بھی دعا فرمایا کرتے تھے۔
ائے اللہ جس طرح تونے میری صورت اچھی بنائی ہے اسی طرح میرا اخلاق بھی اچھا کر دے۔

حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضور ﷺ کے خلق کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ” آپ کاخلق قرآن ہے یعنی قرآن کریم جس اعلیٰ اعمال و اخلاق کی تعلیم دیتا ہے اور عبادت کرو اللہ کی اور نہ شریک بناؤ اس کے ساتھ کسی اور کو اور والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور رشتے داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور نزدیک کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور ہم مجلس اور مسافر اور اپنی باندی غلام سے (ان سب سے حسن سلوک کرو) بے شک اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا جو مغرور ہو فخر کرنے والا ہو ”
(القرآن)
محترم قارئین! اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ ہر ایک کا حق بدرجہ تعلق کے مطابق و موافق ادا کرو __
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا آپ کا خلق قرآن ہے یعنی قرآن کریم جس اعلیٰ اعمال و اخلاق کی تعلیم دیتا ہے آپ ﷺ ان سب کا عملی نمونہ ہیں ۔آپ سب سے زیادہ خلیق تھے ۔سرکار ﷺ خود بھی اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے ۔ اپنے گھریلو کام خود اپنے دست مبارک سے کر لیا کرتے تھے۔اپنے خادموں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے تھے اور گھر کے کاموں میں آپ اپنے خادموں کی مدد فرمایا کرتے تھے ۔(شفا شریف، جلد: 1 ص: 77)

آپ ﷺ نے دوسروں کو بھی اچھا اخلاق اختیار کرنے کی تعلیم دی۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا :تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو عادات و اخلاق کے اعتبار سے اچھا ہو۔(بخاری شریف)
رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن تم میں سے مجھے محبوب تر اور میری مجلس کے قریب تر وہ ہوگا جو سب سے زیادہ اچھے اخلاق والا ہوگا۔ (مکاشفتہ القلوب، از: امام غزالی) اور قیامت کے دن جب نامہ اعمال پر مختلف اعمال کو رکھا جائے گا تو سب سے زیادہ جس چیز کا وزن ہوگا وہ حسن اخلاق کا ہوگا یہ پلڑے کو جھکا دے گا، تو میں اور آپ اپنے اخلاق کو بہتر کریں۔ جس طرح نماز دین ہے ، جس طرح روزہ دین ہے ،جس طرح زکاۃ دین ہے ،جس طرح حج دین ہے اسی طرح اچھے اخلاق بھی دین ہے __کسی کو برا بھلا نہ کہا جائے اگر چہ وہ آپ کا خادم ہی کیوں نہ ہو ،کسی پر طنز کے تیر نہ مارے جائے ، کسی کی غیبت نہ کی جائے ، کسی سے جھوٹ نہ بولا جائے ، کسی پر ظلم نہ کرے ، کسی کا حق نہ مارے ، کسی پر رعب نہ جھاڑیں ،لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملا جائے ، خلق خدا کی بہتری کا سوچا جائے تو یہ اخلاقیات ہیں اور یہ ہمارے اوپر اسی طرح لازم ہے جس طرح صوم و صلوٰۃ لازم ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اسوۂ حسنہ کو اپنا کر غلام نبی ہونے کا بھرپور ثبوت دیں اور دارین کی ساری فلاح و ظفر سے ہمکنار ہو جائیں۔(انشاءاللہ)

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close