مضامین و مقالات

حضرت مولانا محمد قاسم صاحب کی رحلت؛دل چھلنی چھلنی جگر پارہ پارہ!مفتی محمد اطہر القاسمی

حضرت مولانا محمد قاسم صاحب کی رحلت؛دل چھلنی چھلنی جگر پارہ پارہ!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرےمحسن،میرے مشفق،میرےمربی،میری آرزو،میری جستجو،میری زندگی کا رنگ و بو؛حضرت مولانا محمد قاسم صاحب بھاگل پوری اب اس دنیا میں نہیں رہے،کل تک ہم انہیں دامت برکاتہم لکھتے تھے مگر اب ہمیشہ رحمۃ اللّٰہ علیہ لکھنا پڑے گا۔آہ!اپنی بےمثال صلاحیت سےقرآن و سنت کی روشنی بکھیرنے والی انمول شخصیت اللہ کے پاک گھر "مسجد نوری”میں پاک و صاف ہوکر{وضو بناکر} اپنے رب کی پاکی و کبریائی بیان کرتے ہوئے{تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے}حالت نماز میں اسی مصلے پر گرگئ،اور ہمیشہ کےلۓ ہم سب سے رخصت ہوگئ جس مصلے پر انہوں نے تقریباً 40/سال قرآن و سنت کی صداءیں بلند کیں تھیں۔ حضرت مولانامحمد قاسم رحمۃ اللّٰہ علیہ کیاتھے؟آپ ایک تاریخ ساز،مردم سازاور عہد آفریں شخصیت تھے۔بلاشبہ آپ کی رحلت سے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا۔آپ کی شخصیت بےشمارخوبیوں اورگوناگوں اوصاف و کمالات سے مزین تھی۔میری نگاہ نارسا میں حضرت مولانا ایک مستند عالم دین،عابد و زاہد،ولی کامل،خدا رسیدہ،عارف باللہ،مفسر قرآن،داعیئ اسلام،عزم و عمل کے کوہ گراں،جرات و عزیمت کے پہاڑ،ہمت و حوصلے کے پیکر،شیرں بیاں خطیب،تعلیم و تربیت کے محرک،اکابرین دیوبند کے منظور نظر،قاسمیت کے ترجمان،جمعیت کے پاسبان،خانوادۂ مدنی کے ہردل عزیز،جلسوں اور دینی مجلسوں کی زینت،اسٹیج سے میٹھی میٹھی رس گھولنے اور اپنی باتوں کو دل میں اتار دینے کا منفرد لب و لہجہ رکھنے والے ساحر اللسان خطیب،صبر و تحمل کے نمونہ،سادگی و سادہ لوحی کے عکس جمیل،عاجزی و انکساری کی عملی تصویر،شفقت و مروت کی مثال،خوش مزاجی و خوش خلقی کے پیکر،مسلسل کام کرنے اور تھک تھک کر کرتے رہنے والے یگانہ روزگار ملت اسلامیہ کے فرد فرید تھے۔بنا بریں حضرت مولانا کی ذات عصر حاضر کے علماء و صلحاء میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتی تھی۔آج ان کے خوشہ چینوں،شاگردوں اور محبین و معتقدین کے وسیع حلقے میں ایک سے ایک بڑھ کراہل ہنر،اہل علم،اہل عمل،اہل اقتدار اور اصحاب فضل و کمال کی ایک جماعت قیامت تک کے لیےان کے لیے صدقہِ جاریہ ہے۔حضرت مولانا صاحب اخلاق کریمانہ،دل دردمند،فکر ارجمند،وسیع الظرف،کشادہ قلب،عربوں جیسےمہمان نواز،طلبہ کے لئے شفیق باپ،اساتذہ کے لئے محسن و مربی اور ہر ملنے والے کے لئے گویا درد کا ایک درماں تھے۔آپ اپنی نجی زندگی میں بھی نفاست پسندی،سلیقہ مندی،پابندی اوقات کے خوگر اور تہذیب و شائستگی کے علم بردار تھے۔حضرت مولانا رحمۃ اللّٰہ علیہ کی یہی ہمہ جہت و ہمہ گیر شخصیت تھی کہ عہدے اور عزتیں ان کے اردگرد رہا کرتی تھیں۔ آج سے 17/سال قبل جبکہ میں دارالعلوم دیوبند سے فضیلت کے بعد2001/میں مدرسہ شاہی مراداباد میں شعبہ افتاء کا طالب علم تھا،آپ نے اساتذہ محترمین حضرت مفتی شبیر احمد صاحب قاسمی وحضرت  مفتی محمد سلمان صاحب منصور پوری دامت برکاتہم سے فون کرکے اپنے ادارے جامعہ مدینہ سبل پور پٹنہ میں تدریسی خدمات کے لئے بلایا تھا اور رفیق درس مفتی فیاض احمد حمیدی القاسمی سیتامڑھی کی معیت میں ہم دونوں جامعہ مدینہ سبل پور کیا آۓ کہ حضرت والا کے حسن اخلاق اور باپ جیسی شفقت و محبت نے ہمیشہ کے لیے اپنا اسیر بنا لیا۔2007/میں گرچہ میں اپنی والدہ مرحومہ کی خواہش پر جو انہوں نے حضرت مولانا سے کی تھی کہ میرے بیٹے کو میرے قریب بھیج دیں مگر اپنی شفقت جاری رکھیں۔۔مولانا نہ چاہ کر بھی رضامند ہو گئے اور میں اپنے وطن ارریہ میں تعلیم و تربیت کی خدمات میں مشغول ہو گیا۔۔۔۔مگر ربّ العزت والجلال کی قسم کیا بولوں۔۔۔کن الفاظ میں ان کی شفقت کو بیان کروں۔۔۔حضرت نے موت سے پہلے تک پوری زندگی میں کبھی محسوس نہ ہونے دیا کہ میں کبھی ان کے ادارے کا محض ایک استاذ تھا۔مذکورہ بالا سطور میں میں نے جو کچھ لکھا ہے،وہ نہ تو حضرت مولانا کی کوئی تاریخ ہے اور نہ ہی کوئی سوانح۔بلکہ میں نے جو کچھ لکھا ہے،وہ ان کے سلسلے میں اپنے ذاتی تاثرات و احساسات،ان کے ساتھ دیرینہ روابط و تعلقات اور اپنے اوپر،نیز موجودہ ایک نسل پر،ان کے گراں قدر،دوررس اور دیر پا احسانات و اثرات کا ایک مختصر خاکہ ہے۔گویا میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ میرے دل کی آواز،میری نگاہوں کی شہادت اور میرے ضمیر کی صدا ہے۔بات طویل ہوگئی۔علی الصباح جنازے اور تجہیز و تکفین میں شرکت کیلئے ان کے آبائی وطن کوروڈیہ بھاگل پور بھی نکلنا ہے،ہمارےساتھ جمعیت علماء ارریہ کا ایک بڑا قافلہ ہے،جبکہ ابھی کچھ دیر پہلے اپنی بھتیجی کے ایک سالہ معصوم مرحوم کو مٹی دے کر آرہا ہوں۔مولانا!گرچہ آپ اب ہمارے درمیان نہیں رہے،مگرہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے،یاد آتے رہیں گے،میں آپ کو کبھی نہیں بھول سکوں گا،آپ کاخوبصورت نورانی چہرہ اور دل موہ لینے والی مسکراہٹ ہروقت مجھے پریشان کرری ہے،آپ کی جدائ کو پتہ نہں کیسے برداشت کرپاؤں گا، آپ کی میٹھی میٹھی باتیں اور باتوں کی یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں کو گرماتی رہیں گی۔حضرت!آپ کے بےشمار درخشندہ کارنامے افق عالم پر ہمیشہ چمکتے رہیں گے۔بطور خاص ریاست بہار کے ہردلعزیز معیاری ادارے جامعہ مدینہ سبل پور کی شکل میں آپ نے بھاگل پور کے فساد سے متاثرہ 17/یتیم و بےسہارا بچوں کے ذریعے علم و ادب کا جو شجر طوبی لگایا ہے،اور آج وہاں کے 700/سو بچے اپنے ماں باپ کے باوجود خود کو یتیم و بےآسرا محسوس کررہے ہیں۔مگرچڑھتے سورج کی طرح مجھے یقین ہیکہ اس کی گنجان اور ہری بھری شاخیں اور خوبصورت گل بوٹے قیامت تک آنے والی نسلوں کو سنوارتے رہیں گے،اپنی خوشبوؤں سے جہان در جہان کو معطر و مشک بار کرتے رہیں گے اور اپنی ضوفشانیوں سے جہالت و ضلالت میں نور علم و فن کی شمعیں روشن کرتے رہیں گے۔اے رب دوجہاں!آپ حضرت والا کی قبر کو منور کردیجئے!ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائیے! انہیں انبیاء،صدیقین،شہدا،اور صلحاء و اولیاء کے جوار میں جگہ دے دیجیے! اور صبح و شام باران رحمت سے آپ ان کی قبر کو سیرابی عطافرمائیے!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعیت علماء ارریہ اور اس کے جملہ خدام و اراکین حضرت والاکی رحلت کو ملت اسلامیہ ہند کے لئے عظیم خسارہ تصور کرتے ہوئےان کے کارہاۓ نمایاں پرانہیں خراج تحسین و عقیدت پیش کرتے ہیں،ان کےاہل خانہ بطور خاص ان کے لخت جگر عزیزی حافظ محمد حارث سلمہ،ان کے برادر عزیز حضرت مولانا محمد ناظم صاحب قاسمی جنرل سیکریٹری جمعیت علماء بہار،ان کے بھانجے حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب قاسمی جنرل سیکریٹری رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار،ان کےشب و روز کےہمراہی جناب مفتی خالد انور صاحب پورنوی ایڈیٹر ماہنامہ ندابۓقاسم پٹنہ،جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ کےتمام مخلص اساتذۂ کرام اور طلبہ عزیز سے اظہار تعزیت کرتے ہیں،ان کی بال بال مغفرت کے لئے دعا گو ہیں اور تمام احباب سے حسب موقع حضرت والا رحمۃ اللّٰہ علیہ کے لئے ایصالِ ثواب کرنے اور کرتے رہنے کی درخواست کرتے ہیں#

ویراں ہے میکدہ، خم و ساغر اداس ہے

تم کیا گۓ، کہ روٹھ گئے دن بہار کے۔

مثل ایوان سحر،مرقدفروزاں ہو ترا

نور سے معمور،یہ خاکی شبستان ہو ترا۔

آسماں تیری لحد پر،شبنم افشانی کرے

سبزۂ نورستہ،اس گھر کی نگہبانی کرے۔

اور یہ شعر کہ:

ورق تمام ہوا اورمدح باقی ہے

سفینہ چاہیے، اس بحر بے کراں کے لئے!

یکے از دیوانگان حضرت قاسم     

     محمد اطہر القاسمی، جنرل سیکریٹری جمعیت علماء ارریہ29/01/2019

 دس بجے شب۔ شیخ الہند لائبریری ترکیلی

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close