بنگلور

حامد اکمل کی خدمات ادب و صحافت کی تاریخ کا روشن باب

حامد اکمل کو انجمن ترقی اردو گلبرگہ کا کارنامہ حیات ایوارڈ پیش،ممتاز صحافیوں کا اظہار خیال

گلبرگہ10جنوری (ہندوستان اردو ٹائمز) ممتاز و معتبر صحافی مایہ ناز ادیب و شاعر جناب حامد اکمل مدیر روزنامہ ایقان ایکپرس گلبرگہ کو انجمن ترقی اردو گلبرگہ کا با وقار کارنامہ حیات ایوارڈ پیش کیا گیا۔انجمن ترقی اردو گلبرگہ کے خواجہ بندہ نواز ایوان اردو میں ایک یادگار تقریب منعقد ہوئی، جس میں حامد اکمل کو انجمن کارنامہ حیات ایوارڈ 2022کے ساتھ سپاسنامہ، مومنٹواور25ہزار روپئے کیسۂ زر پیش کیا گیا۔اردو کے200سالہ جشن کے ضمن میں حامد اکمل صاحب کی نصف صدی پر محیط صحافتی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں یہ اعزاز دیا گیا۔سینئر صحافی ایم اے ماجد ایڈیٹر 4ٹی وی اینڈ 4ٹی وی نیٹ ورک حیدرآباد نے مہمان خصو صی کی حیثیت سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حامد اکمل صاحب نے بے لوث 50سالہ طویل صحافتی خدمات انجام دی ہیں۔ان کی صحافت ہمیشہ صداقت پر مبنی رہی اور انھوں نے صحافت کا کوئی سودا نہیں کیا۔

ایم اے ماجد نے نئی نسل کی اردو صحافت و ادب سے عدم دلچسپی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے مستقبل کو لے کر آج یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ ہم اردو ادب و صحافت کی میراث کس کے سپرد کر کے جائیں۔کالم نگار ادیب و شاعر محمد اعظم شاہد بنگلور نے حامد اکمل صاحب سے اپنے دیرینہ ادبی و صحافتی مراسم کا ذکر کرتے ہوئے حامد اکمل صاحب کی صحافتی وا دبی خدمات کو بھر پور خراج تحسین پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ حامد اکمل کی خدمات ادب و صحافت کی تاریخ کا روشن باب ہیں۔اعظم شاہد نے کہا کہ ہمیشہ صحافیوں کے لیے ورکشاپ کی بات ہوتی ہے، ان کے خیال میں اردو اخبارات کے مالکان کے لیے بھی ورکشاپ منعقد کیے جانے چاہیے اور یہ بتایا جانا چاہیے کہ اردو اخبار سے وابستہ صحافیوں کے ساتھ مالکان کا رویہ کیسا ہونا چاہیے اور اخبار نویسی کے صحافتی اصولوں، تقاضوں کی پاسداری کیسے کی جائے۔اعظم شاہد نے حامد اکمل صاحب کو کارنامہ حیات ایوارڈ پیش کرنے پر انجمن ترقی اردو گلبرگہ کے عہدیداران و ارکان عاملہ کی بھر پور ستائش کرتے ہوئے کہا کہ حوصلہ شکنی کے موجودہ دور میں جب کہ قدر دانی کا جذبہ مٹتا جارہا ہے، انجمن ترقی اردو گلبرگہ نے ادبا،شعرا و صحافیوں کی قدر دانی کی قابل تقلید روایت کو قائم کی ہے۔ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز مدیر ہفتہ روزہ گواہ حیدر آباد نے حامد اکمل کو نئی نسل کے لیے مشعل راہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سچ پر چلنے کی راہ کیسی ہو، یہ جاننے کے لیے ہمیں حامد اکمل کی ایثار و قربانی سے تعبیر اور جستجو و جفا کشی کی زندگی کو دیکھنا ہو گا۔انھوں نے صحافت کو خالص خدمت قوم و ملت کا مقدس پیشہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جذبہ خدمت کا فقد ان ہونے کی وجہ سے آج صحافت کا معیار گر گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ خوف خدا کا احساس نہ ہو تو کوئی پیشہ یا فریضہ، دیانت داری کے ساتھ انجام نہیں دیا جا سکتا۔ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز نے انجمن ترقی اردو گلبرگہ کی جانب سے حامد اکمل صاحب کو 25 ہزار روپئے کیسہ زر پیش کئے جانے کے اقدام کو بھر پور سرہاتے ہوئے کہا کہ اردو کے صحافیوں ادبا و شعراکی قدر دانی کے لیے بھی روپیہ خرچ کرنے، اہل خیر اصحاب کو آگے آنا چاہیے۔صدر انجمن ترقی اردو گلبرگہ پیر زادہ فہیم الدین نے تقریب کی صدارت کی۔

 

انھوں نے صدارتی تقریر میں حامد اکمل صاحب کی صحافتی اور ادبی خدمات کوزبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا شمار گلبرگہ کی قد آور علمی، ادبی،اور صحافتی شخصیات میں ہوتا ہے۔ انھوں نے انجمن ترقی اردو گلبرگہ کہ استحکام کے لیے حامد اکمل صاحب کی کا وشوں کو مثالی قرار دیا۔ڈاکٹر انیس صدیقی معتمد انجمن ترقی اردو گلبرگہ نے حامد اکمل صاحب کو انجمن کی جانب سے پیش کئے گئے سپاسنامہ کو پڑھا۔انیس صدیقی نے سپاسنامہ میں حامد اکمل صاحب کی علمی ادبی صحافتی اور اردو خدمات کا نہایت منفرد انداز میں احاطہ کیا اور حامد اکمل صاحب کی ہمہ جہت شخصیت کابہترین تعارف کروایا۔ڈاکٹر کوثر پر وین نے حامد اکمل کی شخصیت پر مضمون پیش کرتے ہوئے ان کی عوامی سماجی علمی ادبی خانگی زندگی کے دلچسپ واقعات بیان کیے۔انھوں نے کہا کہ حامد اکمل صاحب نے اپنے قلندرانہ اور آتشی مزاج کی وجہ سے کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی انھوں نے کبھی اپنے آپ کو زمانہ کی روش سے ہم آہنگ کیاحالانکہ و زندگی میں کئی ایک دشواریوں، آزمائشوں اور نشیب و فراز سے گذرے۔کو ثر پروین نے کہا کہ حامد اکمل کی شاعری سماجی بے اعتدالیوں کی بھر پور عکاسی کرتی ہے،انھوں نے حامد اکمل کو صحافت کا ہردلعزیز چہرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے دنیائے صحافت میں گلبرگہ کی شناخت بنائی ہے۔ ڈاکٹر کوثر پروین نے حامد اکمل کے اداریوں کا جا ئز ہ لیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے اداریوں میں جو چبھتے ہوئے سوالات اٹھائے آج تک ان کے جواب نہیں ملے۔ڈاکٹر حشمت فاتحہ خوانی نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حامد اکمل صاحب کی صحافتی اور ادبی خدمات ایک سکہ کے دو رخ ہیں۔

 

 

ڈاکٹر حشمت فاتحہ خوانی نے کہا کہ حامد اکمل صاحب کا یہ کارنامہ ہے کہ انھوں نے روایتی اسلوب سے ہٹ کر اپنا ایک نیا اسلوب اختیار کیا، جس کے نتیجہ میں ان کی خبریں،رپورٹیں اور اداریے تادیر حافظہ میں محفوظ رہتے ہیں۔خواجہ پاشاہ انعا مدار نائب صدر نے مہمانان اور حامد اکمل صاحب کا تعارف اپنے مخصوص لب و لہجہ میں کراتے ہوئے سامعین پر اپنا گہرااثر چھوڑا۔شا ہ نواز شاہین نائب صدر انجمن نے ابتدائی تقریر میں حامد اکمل کی صحافتی، ادبی اور شعری خدمات کو گلبرگہ کے ادبی سرمایہ میں قیمتی اضافہ قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ برصغیر میں گلبرگہ کا نام روشن کرنے والی علمی ادبی شخصیات کو انجمن ترقی اردو گلبرگہ نے کار نامہ حیات ایوارڈ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پہلا ایوارڈ ممتاز ادیب و نقاد پروفیسر حمید سہر وردی کو دیا گیا اوردوسرا ایوارڈ حامد اکمل صاحب کو دیا جا رہا ہے۔ کارروائی کا آغاز مظہر احمد صاحب گرمٹکالی کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔الحاج اسد علی انصاری، الیاس صابری شاہ آبادی نے نعت خوانی کا شرف حاصل کیا۔ڈاکٹر محمد افتخار الدین اخترمعتمد تنظیمی انجمن نے نہایت خوش اسلوبی اور برجستہ اشعار کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیئے۔آخر میں محمد مجیب احمد خازن نے شکریہ ادا کیا۔حامد اکمل صاحب کو انجمن کارنامہ حیات ایوارڈتفو یض ہونے پر مختلف اداروں، شخصیات اور ان کے محبان کی جانب سے بہ کثرت شالپوشی و گلپوشی کی گئی۔اس تقریب میں شہر کے ممتاز محبان اردو مسرز ساجد علی رنجولوی ضلعی کو آر ڈینیٹر کانگریس کمیٹی گلبرگہ ممتاز شاعر انجنئیر عبدالقدیر عرفان، ممتاز شاعر مقبول احمد نئیرشاہ آبادی، معین الدین کلیانکر، ڈاکٹر محمد رفیق کملاپوری اور قاضی رضوان الرحمٰن صدیقی مشہود صدر بہمنی فاؤنڈیشن، معالمی شہرت یافتہ آرٹسٹ ایاز الدین پٹیل و رحمٰٰن پٹیل نے بھی شرکت کی۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button