بہار

حافظ محمد سراج الحق صاحب کی کمی برسوں محسوس کی جائیگی۔حضرت امیر شریعت

حافظ سراج الحق صاحب کی تعلیمی وملی سرگرمیاں قابل رشک ۔مقررین

انجمن حمایت اسلام مونگیر میں تعزیتی اجلاس

مونگیر ۱۹۔دسمبر2022 (ہندوستان اردو ٹائمز) بہار کے سب سے قدیم ادارہ یتیم خانہ انجمن حمایت اسلام مونگیر کے صدر مدرس جناب الحاج حافظ محمد سراج الحق صاحب سابق امام وخطیب مسجد شاہ فیملی کے انتقال پر انجمن حمایت اسلام مونگیر میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جسمیں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی صبح سے ہی لوگ تلاوت قرآن میں مشغول رہے پھر دن کے گیارہ بجے ایک تعزیتی اجلاس زیر نگرانی جناب شاہ نجم عزیز نجمی سکریٹری انجمن اور جناب الحاج شاہ محمد صدیقی صاحب نائب صدر انجمن کی صدارت میں منعقد ہوا۔مہمان خصوصی جناب الحاج مولانا محمد عارف صاحب رحمانی ناظم جامعہ رحمانی نے بھی شرکت فرمائی ۔اجلاس میں حافظ سراج الحق صاحب کی زندگی کے مختلف پہلوں پر مقررین نے روشنی ڈالی اور حافظ صاحب کے حسن اخلاق اور انکی زندگی سے حاصل کرنے والے سبق آموذ واقعات کا تفصیل سے تذکرہ کیا ۔

اس موقعہ پر خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشین حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم صدر انجمن حمایت اسلام کا تعزیتی پیغام جناب الحاج حافظ محمد امتیاز رحمانی صاحب ناظم شعبہ نشرواشاعت جامعہ رحمانی مونگیر نے پڑھکرسنایا ۔جسمیں حضرت امیر شریعت دامت برکا تہم نے لکھا ہے کہ انجمن اپنے ایک ایسے مخلص ذمہ دار اور ممتاز معمار سے محروم ہو گیا جنہوں نے تقریباً چار دہائیوں تک انجمن کی تعمیر وترقی میں بھرپور وقت لگایا والد بزرگوار حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی کی ہدایت پر جناب شاہ لطیف الرحمن صاحب جناب شاہ نجم عزیز نجمی صاحب مکھیا کمال حسن صاحب اور شاہ محمد صدیقی صاحب کی نگرانی میں انجمن کے امور کو بحسن وخوبی انجام دیا شاہ فیملی کی مسجد میں تقریباً نصف صدی انہوں نے امامت کی جو ایک رکاڑد ہے حافظ صاحب شاہ فیملی کے بزرگوں کی روایت کے امین تھے ، شاہ فیملی کے لوگوں کے لئے گھر کے فرد کی حیثیت سے نمایاں رہے ۔

حافظ صاحب سادہ مزاج ،ملنے جلنے میں بڑے مخلص محلہ کے پچاس فیصد سے زیادہ لوگ انکے شاگردوں میں ہیں حافظ صاحب بافیض استاد تھے انکے شاگردوں کی ایک بڑی جماعت ملک سے باہر خدمت انجام دے رہی ہے۔داداجان حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ صاحب رحمانی سے بیعت تھے اور والد صاحب سے دوبارہ بیعت کی اور سلوک کی تعلیم حاصل کی ہم سبھوں کوحافظ صاحب کی خصوصیات کو اپنا نا چاہیے انکے جیسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔انجمن کی تعمیر وترقی اور تعلیم میں اپنی زندگی کا قیمتی وقت صرف کیا، یتیم ونادار بچوں کی تربیت اپنی اولاد کی طرح کرتے تھے ایمان دار اور محنتی تھے ۔

اللہ تعالیٰ انکے درجات بلند فرمائے آمین۔اجلاس سے جامعہ رحمانی کے اساتذہ وکارکنان اور شہر کے معززین نے خطاب کیا جسمیں جناب مولانا سیف الرحمن ندوی ،جناب مولانا جمیل احمدمظاہری، جناب مولانا عبدالدیان رحمانی، جناب شاہ محمد صدیقی ،جناب پروفیسر شبیر حسن ،جناب شہزاد مکھیا،جناب مفتی عطاء اللہ بخاری،جناب مونا قمرالزماں رحمانی ،جناب مفتی سلطان مظاہری۔ جناب قاری جوہر نیازی رحمانی ،جناب ماسٹر شہاب الدین،جناب حاجی مصطفی بردہ،جناب قاضی رضی احمد ندوی،جناب نصیب صاحب عرف نسو بھائی۔انجمن کے اساتذہ مولانا امان اللہ صاحب رحمانی مولانا ریان رحمانی قاری عبد اللہ صاحب نے کہا کہ حافظ سراج الحق صاحب کے ساتھ جو وقت گزر ا بہت قیمتی تھا ان سے کام کرنے کا سلیقہ اور زندگی کا بہترین طریقہ سیکھا انکی ہدایت پر اللہ تعالیٰ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔جامعہ رحمانی کے استاذ جناب مولانا عبدالعظیم صاحب رحمانی کی پرسوز دعاء پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔شعبہ صحافت جامعہ رحمانی کے ذمہ دار جناب فضل رحمانی رحمانی اور فکرونظر یوٹیوب چینل کے نمائندہ حافظ شاہد رحمانی نے پروگرام کو نشر کرنے میں اہم کردار اداکیا،اجلاس کو کامیاب بنانے میں محلہ کے نوجوانوں نے بھرپور حصہ لیا اور مہمانوں کی ضیافت کی۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button