دہلی

جیل میں بند بے قصور افراد کو بازیاب کرانا ہے،عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کاملک بھر کی جیلوں میں سزا کاٹ چکے افراد کو رہا کرانے کا عزم

نئی دہلی ( پریس ریلیز / مطیع الرحمن عزیز) جیسا کہ ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے کہ اللہ رب العالمین کی مشیت کے بغیر روئے زمین پر کوئی معاملہ وقوع پذیر نہیں ہوتا، یہاں تک کہ درخت میں لگے ہوئے لاکھوں کروڑوں پتوں میں سے کوئی پتہ رب کائنات کی مشیت و مصلحت کے بغیر حرکت نہیں کرسکتا، اسی طرح سے روئے زمین پر زندگی بسر کرنے والے اشرف المخلوقات کی زندگیوں میں تبدیلی لانے والے عوامل بھی اللہ کی مشیت سے خالی نہیں ہوتے۔ ایسے ہی کچھ واقعات میرے ساتھ بھی رو نما ہوئے ہیں، جس کے تعلق سے میرا ایمان اور عقیدہ ہے کہ مجھ سے منسلک رہنے والے حادثات اور واقعات بھی اللہ کے مشیت سے مبرا نہیں رہے ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار مہیلا امپاورمنٹ پارٹی کی قومی صدر عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے اپنے جاری ایک بیان میں کیا ہے۔

عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے اپنے بیان میںکہا ہے کہ پچھلے دنوں جب مجھے حبس بے میں قید کردیا گیا، اور مجھے میرے پچیس لاکھ افراد سے منسلک آبادی سے الگ تھلک کر دیا گیا، تو شروع میں مجھے کافی کوفت اور تکلیف محسوس ہوئی، اور میں نے اللہ رب العالمین سے دعا وگریہ کیا کہ اے میرے رب تیری مشیت و مصلحت سے روئے زمین کا کوئی کام خالی نہیں ہوتا ہے تو یہ میری بھری پڑی مصروف دنیا اور پچیس لاکھ سے زیادہ افراد کو بھوکا پیاسا جن کا تعلق مجھ سے رکھنے والے عوام کو تونے اکیلا اور بے سروسامان کیوں چھوڑ دیا۔ اس فکر میں میں اکثر رہا کرتی تھی کہ گزرتے وقت کے ساتھ مجھے اندازہ ہوا کہ بھارت کی ہزاروں ضلعی اور ریاستی سطح کی جیلوں میں لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ایسے افراد اپنی بے گناہی کے باوجود قید کی زندگی بسر کر رہے ہیں جن کا قصور ان کی غریبی اور مفلسی تھی۔ جن کے پاس نہ وکیل رکھنے کے پیسے تھے اور نہ راستہ نکالنے کے لئے تعلیم اور جانکاری تھی۔ وہ برسہا برس سے جیلوں میں پڑے ہوئے اپنے مقررہ وقت کو گزار چکے ہونے کے باوجود تنگ وتاریک کوٹھریوں میں زندگیاں گزار رہے ہیں، اور زندہ لاش بن کر محض چل پھر رہے ہیں۔

مجھے اس بات کا بھی علم ہوا کہ خواتین جن کے خلاف مکمل گھرانا کھڑا ہو جاتا وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ جاتی ہیں۔ ان کا محض گناہ یہ ہوتا تھا کہ وہ گھر کی بہو اور خاتون ہوتی ہیں، ایک مرد تو پھر بھی اپنے گھرانے کی امیدوں کاکرن ہوتا ہے، مگر ایک خاتون جس کا سہارا صرف اس کا شوہر ہوتا ہے، سازش ہونے کے بعد اس اکیلی عورت کا ماوا وملجا شوہر بھی منہ موڑ کر اس کی خبر گیری بند کردیتا ہے کہ اب اس عورت کے ساتھ زندگی کون بسر کرے گا جس کے دامن پر قید جیسی بدنامی کا داغ لگ گیا ہے۔ لہذا اس طرح کے سیکڑوں معاملات ہیں جن کو مثال بنایا جاسکتا ہے۔ جو بیچارگی جیل کی تاریک کوٹھریوں میں بند افراد خواہ وہ عورت ہو یا مرد لا علمی اور کم پڑھے لکھے ہونے اور قانون کی جانکاری نہ ہونے کی وجہ سے اپنے وقت مقررہ سے بھی زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔

عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے مزید بتایا کہ دھیرے دھیرے مجھے اس مشیت کے تعلق سے علم ہونے لگا کہ اللہ رب العالمین نے مجھے اس تاریک دنیا سے روشناس کرانے کے لئے یہاں بھیجا ہے۔ جن کا سہارا عام دنیا میں کوئی انسان نہیں ہے۔ ان لوگوں کے تعلق سے اگر کسی کوعلم ہے تو اللہ تعالیٰ ہے اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ میرے سامنے سیکڑوں ایسے واقعات رونما ہوئے جس میں یہ پتہ چلا کہ گھر سے فلاں نوکری یا کام کے لئے انسان نکلتا ہے اور اس کو قید کر کے جیل کی کوٹھریوں میں ڈال دیا جاتا ہے، گھر والے سمجھ بیٹھے کہ کسی حادثے کا شکار ہو گیا۔ مگر وہ شخص جیل میں بلا خطا وقصور کے بند پڑا ہے۔

لہذا میرا پختہ ارادہ ہے کہ میں بہت جلد ملک گیر پیمانے کی مہم چھیڑتے ہوئے تمام ضلعی اور ریاستی سطح کی جیلوں کو اپلی کیشن کے ذریعہ یکجا کر کے ان تمام لوگوں کی لسٹ بناﺅں گی، اور وہاں کے وکلاءکو اس کام پر لگاﺅں گی کہ دیکھیں کہ وہ کون سے افراد ہیں جو چند ہزار روپئے زر ضمانت نہ دے پانے کی وجہ سے بے قصور جیلوں میں پڑے ہیں، پتہ کریں کہ وہ کون سے افراد ہیں جو قانونی مدد نہ مل پانے کی وجہ سے جیلوں میں پڑے ہیں، اور پتہ کریں کہ ہر طرح ممکن طریقے سے رہا ہونے والے ان تمام افراد کی فہرست سازی کی جائے اور ان تمام افراد و خواتین کو بازیاب کرایا جائے اپنی رہائی کا حق پا لینے کے قریب ہیں۔ اس عظیم کام کے کرنے کی طرف عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے اپنی عہد بندی دہرائی کہ اس کام کو جلد شروع کر دیا جائے گا

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button