جھارکھنڈ

بہار کی طرح جھارکھنڈ میں بھی امارت شرعیہ ترغیب تعلیم و تحفظ اردو کے لیے پابند عہد: مولانا محمد شبلی القاسمی

۱۳۔۱۴؍مارچ رانچی میں اہم اجلاس ،۱۵؍ارچ کو اربا میں امارت انٹر نیشنل اسکول کا سنگ بنیاد

بنیادی دینی تعلیم کے فروغ ، معیاری عصری تعلیم گاہوں کے قیام اورا ردو زبان کے تحفظ کی جو تحریک امارت شرعیہ نے بہار سے شروع کی تھی، اس تحریک کی آواز نہ صرف جھارکھنڈ میں پھیلی بلکہ اس کی بازگشت پورے ملک میں سنی جارہی ہے ۔ جھارکھنڈ کے تمام اضلاع میں اس کے تحت مشاورتی اجلاس منعقد ہوئے ، جس کے خوش آئند اثرات ہر چہار سو محسوس کیے جا سکتے ہیں ۔ اس سے ملک بھر کے عوام و خواص کو ان عناوین پر کام کرنے میں بڑی رہنمائی مل رہی ہے ، اور حالات کے پیش نظر ترجیحی کاموں کا ایک معیاری نہج بھی میسر آیا ہے ، مکاتب کے قیام ، اردو زبان کے تحفظ اور سی بی ایس ای کی طرز پر اسکول کھولنے کے لیے ہر ضلع میں کمیٹیاں بنائی گئیں ، ممبران، صدراورسکریٹری چنے گئے اور عوامی بیداری لائی گئی۔ یہ باتیں امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم جناب مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے اپنے ایک بیان میں کہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جھارکھنڈ میں ترغیب تعلیم اور فروغ اردو کی جو کمیٹیاں بنائی گئی ہیں ان کے ذمہ دار علماء ، ملی و سماجی کارکنان ، دانشوران اور نمائندہ شخصیات کا دو روزہ مشاورتی اجلاس صوبہ جھارکھنڈ کے شہر رانچی میں مورخہ ۱۳ اور ۱۴ مارچ کو بمقام راعین اردو گرلس پلس ٹو ہائی اسکول لیک روڈ رانچی منعقد ہورہا ہے ، اس اجلاس کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں ، اس دو روزہ اجلاس میںملی تنظیموں اور خانقاہوں کے ذمہ داران، اردو کے پروفیسرز ، اساتذہ ، اردو تحریک سے وابستہ شخصیات ، صحافی و ادیب ، ماہرین تعلیم ، علماء ، سماجی کارکنان اور ائمہ مساجد کو خاص طور پرمدعو کیا گیا ہے۔یہ دونوں اجلاس امیر شریعت بہار ، اڈیشہ وجھارکھنڈ مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی صدارت میں منعقد ہو ں گے ۔ مرکزی دفتر امارت شرعیہ سے بھی علمائ کرام کا ایک وفد اجلاس میں شریک ہوگا۔

ان اجلاس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ فرقہ پرست طاقتوں کے ذریعہ ہماری تہذیب وشناخت پر فکری یلغار کی جا رہی ہے،اس کا سامنا کرنے اور اس سے اپنی آنے والی نسلوں کو بچانے کے لیے امار ت شرعیہ کی اس تعلیمی تحریک کو عام کرنے کی ضرورت ہے ، امار ت شرعیہ نے نظام تعلیم کا جو جامع منصوبہ اور طریقہ کار پیش کیا ہے وہ بہت ہی کار آمد ہے اس کو ضلع سے لے کر بلاک ، پنچایت، گاؤں اور گھر گھر تک پہونچانے کے لیے منظم حکمت عملی تیار کی جانی چاہئے ،دینی مکاتب کا مضبوط نظام ہی ہمارے بچوں کو دین اور ایمان کے ساتھ جوڑے رکھنے کاا ہم ذریعہ ہے ،بنیا دی دینی تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے کا واحد یہ راستہ ہے ، ہم ہر گاؤں اور آبادی میں مکاتب کا خود کفیل نظام قائم کرنے کے لیے آگے آئیں ، مساجد کے اندر اور مساجد سے الگ مکاتب قائم کیے جائیں، ہمارے معاشرہ کا کوئی بچہ یا بچی بنیادی ضروری تعلیم سے نا آشنا نہ رہ جائے اس کی بھر پور سعی کی جائے ۔ جدید عصری معیاری تعلیمی ادارہ ، مضبوطی اسکولی نظام اور تقابلی امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کوچنگ سنٹرز کا قیام بہت ضروری ہے ، اس کے لیے اسباب و وسائل کی تلاش کریں ، سرمایہ دار لوگ اس میں سرمایہ کاری کر یں اس کے اندر خدمت بھی ہے ، قوم کی ترقی بھی ہے اور دنیا کا بھی نفع ہے۔ اردو زبان کے تحفظ کی بھی کوشش کی جائے، اردو زبان ہماری مادری زبان ہی نہیں ، بلکہ ہماری تہذیب و ثقافت کی علامت ہے۔ ساتھ ساتھ ہمارے دینی و ملی سرمایے کا علمی محافظ بھی ہے ، آہستہ آہستہ ہمارے ملی تشخص کو ختم کرنے کی منظم سازش رچی جا رہی ہے ، اور دانستہ نا دانستہ ہم خود بھی اس عمل میں اغیار کے ساتھ برابر کے شریک رہے ہیں، ہم عہد کریں کہ اردو زبان کے فروغ کے لیے خود آگے بڑھیں گے ، اردو پڑھیں گے ، لکھیں گے ، اپنے بچے اور بچیوں کو بھی پڑھائیں گے اور لکھائیں گے ، معاشرہ میں اردو اخبارات اور لٹریچر پڑھنے کا ماحول بنائیں گے ، اپنی درخواستیں اردو میں لکھیں گے اور بول چال میں بھی اردو الفاظ کا استعمال کریں گے ،اپنی آبادیوں میں چل رہے نجی اداروں میں اردو میں نیم پلیٹ لگائیں گے ، سرکاری دفتروں میں بلاک سے پنچایت تک اردو میں نیم پلیٹ لگائے جائیں ، اس کے لیے تحریک چلائیں گے، سرکاری سطح پر اردو کے ساتھ ہو رہی ناانصافیوں کے خلاف پوری طاقت کے ساتھ آواز اٹھائیں گے یہی امارت شرعیہ کی اس تحریک کا خلاصہ ہے۔

مولانا نے مزید کہا کہ تعلیم کو عام کرنے اور اردو کے تحفظ و بقائ کے لیے امارت شرعیہ نے طویل مدتی منصوبہ بنایا ہے اور یہ تحریک لمبے عرصے تک جاری رہے گی، جھارکھنڈ کے بقیہ اضلاع کے پروگرام مکمل ہونے کے بعد اڈیشہ کی ترتیب بھی بنائی جائے گی۔ مولانا موصوف نے بتایا کہ اس موقع پر مورخہ ۱۵؍مارچ کو رانچی کے اربا میں امارت انٹرنیشنل اسکول کا سنگ بنیاد بھی حضرت امیر شریعت مد ظلہ کے ہاتھوں رکھا جائے گا ۔

واضح ہو کہ جھارکھنڈ میں پہلے سے ہی سی بی ایس ای کے طرز پر امارت پبلک اسکول کے برانڈ نیم سے دو اسکول نگڑی اور گریڈیہ میں پہلے سے قائم ہیں ،جو تعلیم و تربیت کی بہتر خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اب یہ تیسرا رہائشی اسکول امارت انٹرنیشنل اسکول کے نام سے قائم ہونے جا رہا ہے ۔اسکول کے قیام کے فیصلہ سے علاقے کے لوگوں میں خوشی کی لہر ہے اور اس کو جھارکھنڈ کی عوام خاص طور پر یہاں کی مسلم آبادی کے لیے امارت شرعیہ کا ایک بڑا تحفہ قرار دیا جا رہاہے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close