جھارکھنڈ

اسمبلی میں اٹھاہزاری باغ کروسن دھماکہ کا معاملہ:بھاجپائی ممبراسمبلی کا مطالبہ،خاطی افسران پر معاملہ درج ہو

رانچی، ۲؍مارچ ( آئی این ایس انڈیا ) منگل کواسمبلی میں ہزاری باغ میں کروسین دھماکے کا معاملہ اٹھایا گیا۔ ہزاری باغ سے بی جے پی کے ممبر اسمبلی منیش جیسوال نے اس معاملے پر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ انہوں نے کہا کہ اس دھماکے کی وجہ سے اب تک 5 افراد کی موت ہوچکی ہے اور حکومت خاموش ہے۔ منیش جیسوال نے بتایا کہ اس میں افسر کی ملی بھگت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سارا تیل واپس لے لیا گیا ہے، اب یہ علاقہ محفوظ ہے۔ اس کے بعد بھی یہ واقعہ پیر کے روز پیش آیا۔ اس پر سی ایم ہیمنت سورین نے ایوان میں جواب دیا کہ مٹی کے تیل کا نمونہ لیبارٹری میں بھیج دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ملاوٹ کی تصدیق ہوئی ہے ۔ انہوں نے متاثرہ افراد کے لواحقین کو چار لاکھ روپے معاوضہ دینے کا بھی اعلان کیا۔اب یہ پتہ لگایا جا رہا ہے کہ ملاوٹ کہاں ہوئی ہے۔ نیز اس ملاوٹ کا قصوروار کون ہے۔ یہ دھماکہ صرف ایک محدود علاقے میں ہو رہا ہے۔9 فروری سے 2 مارچ تک ہزاری باغ میں مٹی کے تیل کے پھٹنے کے 10 واقعات ہوئے ہیں، اس میں 5 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ واقعے کے بعدلوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ دعویٰ کررہی ہے کہ تقسیم شدہ مٹی کا تیل واپس لے لیا گیا ہے۔ جب گھر گھر سے مٹی کا تیل نکال لیا گیا ہے تو یہ واقعہ کیوں پیش آر ہا ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close